واٹس ایپ پر خطرناک وائرس کے انکشاف پر بھارتی سیکیورٹی ایجنسز الرٹ

واٹس ایپ پر خطرناک وائرس کے انکشاف پر بھارتی سیکیورٹی ایجنسز الرٹ

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی سینٹرل سیکیورٹی ایجنسیز نے دفاع اور سیکیورٹی کے عملے کو ایک وائرس کی مشکوک سرگرمی سے متعلق آگاہ کیا ہے جس میں این ڈی اے اور این آئی اے جیسی تنظیموں کا نام استعمال کیا جا رہا ہے اور ذاتی معلومات کیساتھ ساتھ بینک سے متعلق معلومات بھی چرا سکتا ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی دفاعی اور سیکیورٹی اداروں کو جاری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ سماجی رابطے کی ایپلی کیشن واٹس ایپ پر دو بدنام زمانہ وائرس گھوم رہے ہیں جو شہریوں بالخصوص سیکیورٹی اہلکاروں کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ وائرس دو مختلف پیغامات کیساتھ نتھی کئے گئے ہیں اور ان میں این ڈی اے اور این آئی اے کا نام استعمال کیا گیا ہے ہدایت نامے کے مندرجات سے آگاہ حکام کا کہنا ہے کہ NDA کا لفظ یقینی طور پر بھارتی فوج کی نیشنل ڈیفنس آرمی اکیڈمی کی جانب اشارہ کرتا ہے جبکہ NIA کا لفظ دہشت گردی کی وارداتوں کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ ان پیغامات میں بھیجے جانے والے لنکس کا فارمیٹ مائیکرو سافٹ ایکسل کی فائلز جیسا ہے لیکن حکام اس کا تعلق مائیکرو سافٹ ورڈ کے فائل فارمیٹ اور پی ڈی ایف فارمیٹ سے جوڑ رہے ہیں جو اس سے قبل وائرس پھیلانے کیلئے استعمال کئے جا چکے ہیں۔ ہدایت نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کرپٹ وائرس فائلز کو غیر قانونی طریقے سے صارف کی ذاتی معلومات ، یوزر نیم، پاس ورڈز، اور بینک سے متعلق معلومات مثلاً پاس ورڈ اور پن نمبر وغیرہ چرانے کیلئے پروگرام کیا گیا ہے۔ ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ دونوں ادارے بہت معروف اور غیر ملکی سطح پر بھی پہچان رکھتے ہیں اس لئے ان کے بارے میں جاننے کیلئے تجسس موجود رہتا ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ اس وائرس سے ایسے موبائل فون صارفین کو نقصان پہنچے جو اس شعبہ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم یہ تجزیہ کیا گیا ہے کہ دفاع کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین، پیرا ملٹری اور پولیس فورس کے جوان اس کا اصل ٹارگٹ ہو سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ہدایت نامے سے متعلق تمام سیکیورٹی فورسز کو آگاہ کرتے ہوئے وائرس کے خطرے سے آگاہ کر دیا گیا ہے جو کچھ دنوں سے واٹس ایپ پر گردش کر رہا ہے۔

مزید : صفحہ آخر