لاہور کے 40فیصد تھانے کرائے کی عمارتوں میں قائم، بوسیدہ چھتوں کے گرنے کا خطرہ

لاہور کے 40فیصد تھانے کرائے کی عمارتوں میں قائم، بوسیدہ چھتوں کے گرنے کا خطرہ

لاہور( لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت میں قائم 84 تھانوں میں سے 40 فیصد تھانوں کی عمارتیں قبضہ کی اراضی پر تعمیرہیں ۔تھانوں کی عمارتوں کی صورتحال کے حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ تیار کی گئی ہے جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیاہے کہ شہر کے 84 تھانوں میں سے 40 فیصد تھانے اپنی ذاتی عمارتوں سے محروم ہیں،مالکان کی جانب سے تھانوں کی عمارتوں کو خالی کرنے کے مطالبہ پر انہیں خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ کیپٹل سٹی پولیس اور پنجاب پولیس کے شعبہ ڈویلپمنٹ سے تھانوں کی عمارتوں اور صورتحال کے حوالے سے ملنے والی معلومات کے مطابق ان تھانوں میں تھانہ شالیمار، تھانہ ہربنس پورہ، تھانہ ہیئر، تھانہ شادمان، تھانہ سندر، تھانہ شیراکوٹ ، تھانہ ملت پارک ، تھانہ اسلام پورہ، تھانہ گجر پورہ اور تھانہ کوٹ لکھپت بھی شامل ہیں۔ تھانہ شاہدرہ محکمہ ریلوے اور تھانہ شفیق آباد ، تھانہ نواں کوٹ ، تھانہ فیکٹری ایریا، تھانہ جوہر ٹاؤن، تھانہ فیصل ٹاؤن،تھانہ لیاقت آباد،تھانہ باٹا پور، تھانہ کاہنہ اورتھانہ مزنگ سمیت 15 سے زائد تھانے محکمہ جنگلات ، ایل ڈی اے، سٹی گورنمنٹ، متروکہ وقف املاک ، محکمہ اوقاف اور دیگر محکموں کی اراضی پر کئی سالوں سے قائم ہیں۔ان تھانوں کی عمارتیں بارش کے علاوہ بھی سیم کے باعث ٹپکتی رہتی ہیں۔ کئی سالوں سے قائم تھانوں کی اراضی اور عمارتوں کو متعلقہ محکموں سے محکمہ پولیس کے نام بھی نہیں کروایا جا سکا۔ اس حوالے سے لاہور پولیس کے ترجمان کاکہنا ہے کہ تھانہ فیکٹری ایریا کے لئے ایک پرائیویٹ کمپنی کی اراضی حاصل کرلی گئی ہے۔ تھانہ قلعہ گجر سنگھ اور تھانہ گڑھی شاہو کی عمارت کے ساتھ نئی عمارت تعمیر کی جا رہی ہے۔ تھانہ شادمان، تھانہ گجر پورہ،تھانہ کاہنہ اور تھانہ ہیئر سمیت متعدد تھانے محکمہ کی اراضی نہ ہونے کے باعث پرائیویٹ مالکان کی اراضی اور کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں۔ کرائے والی عمارتوں کا باقاعدہ کرایہ دیا جاتا ہے۔ جبکہ دیگر تھانے مختلف محکموں کی اراضی اور عمارتوں میں قائم ہیں، جن کی اراضی اور عمارتیں حاصل کرنے کے لئے مختلف محکموں سے بات چیت جاری ہے، تاہم مرحلہ وار پروجکیٹ کے تحت ان تھانوں کواپنی محکمانہ عمارتوں میں شفٹ کیا جا رہا ہے جس پر تیزی سے کارروائی جاری ہے۔

مزید : صفحہ آخر