آتش بازی کے دوران کچرے کو آگ لگ گئی،6بچے جھلس کر زخمی

آتش بازی کے دوران کچرے کو آگ لگ گئی،6بچے جھلس کر زخمی

پھول نگر(نمائندہ خصوصی)باراتیوں کی طرف سے پھینکے ہوئے پیسے پکڑنے کی کوشش میں 12بچے آگ لگی کچرے کی ڈھیری پر گر کرجھلسنے سے شدید زخمی ،6بچے لاہور ریفر۔تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں خانکے موڑ کے رہائشی صدیق کی دو بیٹیوں کی شادی تھی قریبی دیہات سے آنے والی بارات میں شامل لوگوں نے آتش بازی کی جس سے کچرے کی ڈھیریوں کو آگ لگ گئی اسی اثناء میں باراتیوں نے دولہا پر نوٹ نچھاور کرنے شروع کردئیے جنھیں پکڑنے کی کوشش میں گاؤں کے 10سے 12سال کے درجنوں بچوں میں دھکم پیل شروع ہوگئی ۔پیسے پکڑنے کی کوشش میں 12کے قریب بچے آگ لگی کچرے کی ڈھیر یوں پر جاگرے اور بری طرح جھلس گئے جنھیں دیہاتیوں نے اپنی مدد آپ اور ریسکیو اہلکاروں کے ہمراہ مختلف نجی ہسپتالوں میں پہنچایا ۔ذرائع کے مطابق جھلسنے والے بچوں میں سے عثمان ،خالد،حبیب اللہ اور ذیشان کی حالت خطر ے سے باہر ہے جبکہ عبداللہ ،عدنان،توقیر،نعمان اور ضیاء وغیرہ کو اُن کی حالت کے پیش نظر لاہور ریفر کردیا گیا۔بچوں کی عمریں 10سے12سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔اس افسوس ناک واقعہ کے بعد دیہاتیوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے آتش بازی کرنے والے باراتیوں کے خلاف شدیدغم و غصے کا اظہار کیا۔شادی بیاہ کے موقع پر شہر اور قرب وجوار کے دیہات میں آتش بازی اور ہوائی فائرنگ معمول کے واقعات ہیں جن کی روک تھام کیلئے ذمہ دار اداروں کی طرف سے کبھی بھی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی ۔یہی وجہ ہے کہ لوگ قانون کو ہاتھ میں لیتے وقت کوئی پریشانی یا خفت محسوس نہیں کرتے ۔طاقتور عناصر ذمہ دار اداروں کی ملی بھگت سے مہندی اور شادی کی دوسری رسومات دھوم دھڑلے سے منعقد کرتے ہیں جس کا اثر غریب اور کمزور طبقات پر بھی پڑتا ہے جس کا نتیجہ انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ایسے واقعات سے بچنے کیلئے کمزور اور طاقتور کی تفریق کئے بغیر قانون شکن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نبٹنے کی ضرورت ہے۔

مزید : علاقائی