کراچی، جماعت اسلامی کے ’’امت رسولؐ مارچ ‘‘کی جھلکیاں

کراچی، جماعت اسلامی کے ’’امت رسولؐ مارچ ‘‘کی جھلکیاں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کراچی کے تحت شام کے علاقے حلب اور برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم کے خلاف اور ان سے اظہار یکجہتی کے لیے ہونے والا فقید المثال ’’امت رسول ؐ مارچ‘‘ مظلومین کی حمایت اور اتحاد امت کا بھرپور مظہر ثابت ہوا اور کراچی کے غیور عوام نے ایمانی غیرت اور دینی حمیت کا زبردست مظاہرہ کیا ۔*مارچ میں ہزاروں خواتین سمیت نوجوانوں ، بزرگوں ، بچوں ، علماء کرام ، وکلاء ، صحافی تاجر، ڈاکٹرز ، انجینئرز ، مزدور ،محنت کش ، طلبہ ، اساتذہ اور مختلف شعبہ زندگی اور مسالکسے وابستہ افراد نے جو ق در جوق شرکت کی ۔* مارچ کا وقت 3بجے دن مقرر تھا لیکن 3بجے سے قبل ہی لوگ پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔* شہر بھر میں مرد وخواتین کے قافلے جلوسوں اور ریلیوں کی شکل میں شاہراہ قائدین پہنچے جس کی قیادت جماعت اسلامی کے امراء اضلاع اور مقامی ذمہ داران نے کی۔*شہر بھر سے آنے والے قافلے کشمیر روڈ اور نمائش چورنگی کی طرف سے شاہراہ قائدین پہنچے ۔* مارچ کے لیے اللہ والی چورنگی کے قریب کئی کنٹینروں کے ذریعے ایک بلند اور ووسیع اسٹیج تیار کیا گیا تھا ۔جس پر قومی پرچم اور جماعت اسلامی کے جھنڈوں کے علاوہدیگر اسلامی ممالک کے جھنڈے لگائے گئے تھے جبکہ ایک بہت بڑا بل بورڈ بھی آویزاں کیا گیا تھا جس پر ’’حکمرانو! امت سے غداری اور امریکہ روس سے یاری ختم کرو‘] اور ’’سامراجی درندوں! شام اور برما سمیت علام اسلام کی تباہی کاکھیل اور وحشیانہ قتل بند کرو ‘‘ جلی حروف میں تحریر کیا گیا تھا ۔*شاہراہ قائدین پر سڑک کے ایک ٹریک پر خواتین اور دوسرے ٹریک پرخواتین اور دوسرے ٹریک پر مردوں کے لیے انتظام کیا گیاتھا ۔* خواتین کے حصے میں اسٹیج کے قریب خواتین کا استقبالیہ کیمپ جبکہ مردوں کے حصے میں اسٹینج کے قریب صحافیوں کے لیے ایک بڑی پریس گیلری بنائی گئی تھی۔ *امت رسولﷺ مارچ کی کوریج کے لیے قومی و بین الاقوامی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور نیوز ایجنسیوں کے نمائندے بڑی تعدادمیں موجود تھے ۔*شاہراہ قائدین پر اللہ والی چورنگی سے ، نورانی چورنگی اور لائنز ایریا تک ساؤنڈ سسٹم کا انتظام کیا گیا تھااور بڑی تعداد میں لاؤڈ اسپیکر لگائے گئے تھے اور سڑک کے دونوں ٹریک پر قومی پرچم ، جماعت اسلامی کے جھنڈے ، شام اور برما میں مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کے حوالے سے بینرز ، پلے کارڈز اور تصاویر پر مشتمل پوسٹرز بڑی تعداد میں لگائے گئے تھے۔ * نماز عصر شاہراہ قائدین پر ہی ادا کی گئی جس کے بعد مارچ کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔تلاوت کلام پاک حافظ سلطان انصاری نے پیش کی جبکہ نعت رسول مقبول ؐ کا نظرانہ حافظ خبیب نے پیش کیا ۔*امت رسولﷺ مارچ میں جماعت اسلامی منارٹی ونگ کے صدر یونس سوہن خان اوردیگررہنماؤں کے ہمراہ اقلیتی برادری کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔* مارچ کے شرکاء کے اندر زبردست جو ش وخروش دیکھنے میں آیا اور فلگ شگاف نعرے لگاتے جاتے رہے ان نعروں میں نعرہ تکبیر اللہ اکبر ،المدد المدد یا خدا یا خدا ،رہبر و رہنما مصطفی مصطفی،خاتم الانبیاء مصطفی مصطفی ، امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ، انڈیا کا جو یار ہے غدار غدار ہے ، پاکستا ن کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ ، اس زندگی قیمت کیا لاالہ الا اللہ ، شام اور برما سے رشتہ کیا لاالہ الا اللہ ، فلسطین سے رشتہ کیا لاالہ الا اللہ ، کشمیرسے رشتہ کیا لاالہ الا اللہ ، تیرا میرا رشتہ کیا لاالہ الا اللہ ، مظلوموں سے رشتہ کیا لاالہ الا اللہ ، لبیک لبیک اللھم لبیک ، مرد ہ باد مردہ باد امریکہ مردہ باد ، انقلاب انقلاب اسلامی انقلاب شامل تھے۔ *سراج الحق کی اسٹیج پر آمد کے موقع پر شرکاء نے پرجوش نعرے لگائے اورسراج الحق نے دیگر رہنماؤں اور قائدین کے ہمراہ شرکاء کے نعروں کاجواب دیا ۔ *اسٹیج سے نظمیں اور ترانے بھی پیش کیے گئے جن سے شرکاء کے اندر مزید جوش اور جذبہ پیدا ہوا ۔مارچ میں برمی خواتین کے وفداور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے بھی شرکت کی ۔*جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اسد اللہ بھٹو نے مارچ کے اختتام پر دعاکرائی۔

مزید : کراچی صفحہ اول