چودھری نثار نے مقبوضہ کشمیرمیں پاکستانی خاتون کی برسوں سے قید کا نوٹس لے لیا

چودھری نثار نے مقبوضہ کشمیرمیں پاکستانی خاتون کی برسوں سے قید کا نوٹس لے لیا

اسلام آباد(اے این این) وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے مقبوضہ کشمیر میں کئی برس سے پاکستانی خاتون کے قید ہونے کی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے چیئرمین نادرا اور پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ کو 48 گھنٹے میں خاتون کی شہریت کی تصدیق کی تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چودھری نثار نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ اگر خاتون پاکستانی ہے تو وزارت خارجہ سے مل کر اسے واپس لانے کے انتظامات کئے جائیں۔واضح رہے کہ بھارتی اخبار’’ ہندوستان ٹائمز‘‘کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہر حیدر آباد کی رہائشی روبینہ علاج کے لئے نومبر 2012 میں شوہر اور 4 ماہ کی بیٹی کے ساتھ نئی دہلی آئی، دغا باز شوہر انہیں دہلی میں لاوارث چھوڑ کر رقم اور پاسپورٹ لے کر غائب ہو گیا۔ اخبار کے مطابق ماں بیٹی کی حالت پر رحم کھاتے ہوئے لوگوں نے رقم جمع کی اسے واہگہ بارڈر بھیج دیا لیکن پاکستانی حکام نے مناسب دستاویزات نہ ہونے کے باعث سفر کرنے کی اجازت نہیں دی،پھر کچھ لوگوں نے اسے مقبوضہ کشمیرکے علاقے جموں بھیجا جہاں انہیں 6نومبر 2012 کو سیکورٹی فورسز نے گرفتار کرکے نومولود بیٹی سمیت جیل بھیج دیا ۔رپورٹ کے مطابق روبینہ کی کہانی شاید دنیا کے سامنے نہ آتی اگر انسانی حقوق کے وکیل میر شفقت مقبوضہ جموں کشمیر کی کوٹ بھلوال جیل کا دورہ نہ کرتے۔2014 میں میر شفقت کے دورہ جیل کے دوران اس ماں بیٹی سے اتفاقی ملاقات ہو گئی،وہ اس وقت سے روبینہ کی ملک بدری کے حق کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں،2014 میں خاتون کی رہائی کیلیے مقدمہ درج ہوا تو عدالت نے جیل حکام کوماں بیٹی کو ملک بدر کرنیکاکہا لیکن بھارتی حکام نے عدالت کو بتایا ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستانی ہائی کمیشن سے روبینہ کی قومیت کی تصدیق کی درخواست کی جو تاحال نہیں ہوسکی ۔اور روبینہ کی وطن واپسی پاکستانی حکام کی تصدیق کے بغیر ممکن نہیں ۔

نوٹس

مزید : کراچی صفحہ اول