عادلانہ نظام کے قائل ‘کسی خاص برانڈ کا اسلام قبول نہیں کرینگے ‘ ساجد نقوی

عادلانہ نظام کے قائل ‘کسی خاص برانڈ کا اسلام قبول نہیں کرینگے ‘ ساجد نقوی

ملتان (سٹی رپورٹر)قائد ملت جعفریہ پاکستان اور اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ کسی بھی مسلک کے مقدسات کی توہین ناجائزہے ، گالیاں دینا ہمار ا شعار ہے اور نہ ہی مسلح جدوجہد کی ضرورت۔ موجودہ نظام فاسد ہے، جس میں تحریک جعفریہ کی بحالی میں مجھے انصاف نہیں ملا تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا۔ پاکستان میں اسلام کے عادلانہ نظام کے قائل ہیں، کسی خاص(بقیہ نمبر8صفحہ12پر )

برانڈ کا اسلام قبول نہیں کریں گے۔عزاداری میں وہ شریک ہو جو بم دھماکے برداشت کرنے کی جرات رکھتا ہو، ہمیں کنٹینروں کے حصار، خاردار تاروں کے جھنڈ اور سنگینوں کے سائے میں عزاداری قبول نہیں۔ عزاداری کے خلاف درج ایف آئی آرز ختم کی جائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی تحریک کے سینیر نائب صدر مرحوم وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ کے قصر زینب میں منعقدہ چہلم کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔چہلم سے علامہ عارف واحدی، صوبائی صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری، علامہ مظہر عباس علوی، وفاق المدارس الشیعہ کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ محمد افضل حیدری،مجمع اہل بیت پاکستان کے سیکرٹری علامہ شبیر حسن میثمی، وفاق علما شیعہ پاکستان علامہ رضی جعفر نقوی،محمد شفیع پتافی ، سکندر رضا نقوی ،مرکزی صدر جے ایس او حسن عباس اور دیگر نے خطاب میں مرحوم وزارت نقوی کی سیاسی، مذہبی اور سماجی خدمات کو خرا ج عقیدت پیش کیا۔مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ میں ملک کا طاقتور حصہ ہوں، ہمیں عسکری ونگ کی ضرورت ہے نہ ہی وہ اس کے قائل ہیں۔ایک دہشت گرد گروہ کے آرمی چیف کے نام کھلے خط کا حوالہ دیتے ہوئے قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ گالیاں دینا مرد کا کام نہیں، دہشت گرد گروہ سپہ سالات سے التجائیں کررہا ہے کہ انہیں ہمارے ساتھ بٹھائیں، میری کوئی مجبوری ہے اور نہ ہی میں نے کسی سے مذاکرات کی التجا کی ہے۔ا س موقع پر میڈیا سے گفتگو میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ آرمی کی قیادت میں تبدیلی کا ملکی حالات پر اثر نہیں ہونا چاہیے، نیشنل ایکشن پلان اور ضرب عضب کے مطابق فرقہ واریت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے۔ہم نے 14سال صبر وتحمل سے کام لیا ، تحریک جعفریہ پر پابندی میرٹ پرختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذہبی سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہیں۔مرکزی جنرل سیکرٹری اسلامی تحریک علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ اداروں میں دہشت گردی اور تکفیریت کے خلاف کارروائی کا احساس پیدا ہوا ہے۔ قومی قیادت کی پالیسی سے دہشت گرد گروہ تنہائی کا شکار اور اتحاد امت کی فضا قائم ہوئی۔ صدر علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ مکتب اہل بیت کی کوئی مسجد، مدرسہ یا امام بارگاہ پر دہشت گردی کا الزام نہیں،ہمارا کوئی خود کش حملہ آور یا تکفیر ی کارکن نہیں ملے گا۔وفا ق المدارس الشیعہ کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدر ی کا کہنا تھاکہ وزارت نقوی نے قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی تک تمام قائدین کا ساتھ دیا اور ملکی استحکام کے لئے کام کیا۔وفاق علما شیعہ پاکستان کے مرکزی صدر علامہ رضی جعفر نقوی نے کہا کہ قائد اعظم کی بصیرت نے برصغیر کے مسلمانوں کو متحد اور وزارت نقوی کی سیاسی بصیرت نے مکتب تشیع کو بیدار کیا۔مجمع اہل بیت پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ نظام ولایت فقیہہ کے باعث اسلام کی عظمت بلند ہوئی ۔ مرحوم وزار ت نقوی کے فرزند سکندر رضانقوی کا کہنا تھا کہ وہ قائد ملت اسلامیہ علامہ ساجد علی نقوی کی جدوجہد میں ان کے کارکن کے طور پر شامل رہیں گے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر