2016ء کے دوران ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں قیدیوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنیکا منصوبہ مکمل

2016ء کے دوران ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں قیدیوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنیکا ...

ملتان(رپور ٹ:شیخ ارسلان) سال 2016 ؁ء ضلع ملتان میں کل 7185 ملزمان عدالتوں سے جوڈیشل ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل قید رہے،ان میں سے (دفعہ 302) قتل کے 41،اقدام قتل کے 72منشیات کے مقدمات میں 2476،ایف آئی اے کے مقدمات کے 1552چور ی ڈکیتی کے الزام میں 2724ملزمان جبکہ اغوا اور بد اخلاقی کے320ملزمان ڈسٹرکٹ جیل میں قید رہے۔جبکہ ضمانت پر رہائی پانے والوں میں قتل کے الزام میں 76،اقدام قتل کے 87منشیات کے مقدمات میں ملوث 2426چوری ڈکیتی کے 2578ایف آئی اے کے مقدمات میں882اغوا اور بد اخلاقی کے 722اسیران شامل ہیں ۔سال 2016 ؁ کے دوران نیب کے مقدمہ میں بہا ء الدین زکریا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خواجہ علقمہ ڈسٹرکٹ جیل میں اسیر رہے۔بعدازاں ضمانت پر رہا ہوئے،جبکہ سابق سیکریٹری واپڈا ٹاون سعید خان تاحال ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہیں۔اسی طرح معروف ماڈل قندیل بلوچ قتل کے ملزمان وسیم اور حق نواز بھی ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہیں۔بات کی جائے جیل اصلاحات کی تو سال 2016 ؁ کے دوران ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں قیدیوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے منصوبہ مکمل کرلیا گیا ۔واضح رہے کہ2016ء کے دوران محکمہ جیل خانہ جات نے نے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے UNODC ((UNITED NATION ORGANIZATIONS ON DRUGS&CRIME) کے اشتراک سے پنجاب کی بیشتر جیلوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے کا منصوبہ بنایا ،جو مکمل کر لیا گیا۔ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ جیل میں سپیشل یونٹ قائم کیا گیا ۔جس میں خطرناک قیدیوں دہشتگردوں سمیت دیگر کا مکمل ڈیٹا محفوظ کیا گیا ۔قیدیوں کی تاریخ پیشی پر آمد جامد بائیومیٹرک کردی گئی ۔اس کے ساتھ ساتھ جو بھی قیدی کسی جرم میں جیل میں جودیشل ریمانڈ پر آئے گا تو کمپیوٹر کے ذریعے اس کا مکمل ڈیٹا سامنے آجائے گا ۔اسی طرح اسیران کی ملاقات کے نظام کو بھی مکمل کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ جیل میں بھی یہ منصوبہ مکمل کر لیا گیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر