فیروزوالہ میں شوہر نے بیوی کو گلا دبا کر مار ڈالا‘ نامعلوم افراد نے دوشیزہ کو قتل کردیا

فیروزوالہ میں شوہر نے بیوی کو گلا دبا کر مار ڈالا‘ نامعلوم افراد نے دوشیزہ ...
فیروزوالہ میں شوہر نے بیوی کو گلا دبا کر مار ڈالا‘ نامعلوم افراد نے دوشیزہ کو قتل کردیا

  

لاہور (ویب ڈیسک) نوانکوٹ میںماں بیٹی کے اغوا کا ڈراپ سین ہوگیا، شوہر نے بیوی اور بیٹی کے قتل کا اعتراف کرلیاجبکہ فیروزوالہ میں شوہر نے بیوی کوگلا دبا کر مار ڈالا۔ بیدار پور میں نامعلوم افراد نے دوشیزہ کو قتل کرکے نعش راجباہ کے قریب پھینک دی۔ نوانکوٹ پولیس نے 30دسمبر 2016ء کو ماں بیٹی کے اغوا کا معمہ حل کرلیا ہے۔ خاوند نے اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کرکے نعشوں کے ٹکڑے کرکے انہیں گندے نالے میں پھینک دیا تھا۔ ملزم نے دوران تفتیش اعتراف جرم کرلیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نواں کوٹ کے علاقہ کوٹ کمبوہ میں 42سالہ زہرہ اپنی 9سالہ بیٹی آمنہ کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔ زہرہ کا اپنے خاوند طفیل کے ساتھ لڑائی جھگڑا رہتا تھا جس کی وجہ سے اس کا خاوند انہیں چھوڑ کر چلا گیا۔ 30دسمبر کو زہرہ بیٹی سمیت لاپتہ ہوگئی جن کے اغوا کا مقدمہ اس کے بھائی نے بہنوئی طفیل کے خلاف درج کرایا۔ زہرہ کے بھائی نے پولیس کو بتایا کہ طفیل میری بہن کو قتل کی دھمکیاں دیتا تھا۔ پولیس نے طفیل کو حراست میں لیا تو ملزم نے دوران تفتیش اپنی بیوی اور بیٹی کو تیز دھار آلے سے قتل کرنے اور نعشوں کے ٹکڑے گندے نالے میں پھینکنے کا اعتراف کرلیا۔ بعدازاں جائے وقوعہ پر پولیس نے شواہد بھی حاصل کرلیے اور ملزم نے آلہ قتل بھی برآمد کرا دیا ہے۔ دوسری طرف رکھ چھائونی کے 30سالہ عاطف علی کی شادی 6سال قبل عذرا بی بی کے ساتھ ہوئی۔ میاں بیوی کے درمیان اکثر لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ عاطف نے اپنے بھائی شعیب احمد‘ والدہ اور بہن کی مدد سے اپنی بیوی پر تشدد کیا‘ بعد میں گلہ دبا کر اسے ہلاک کردیا۔ پولیس نے مقتولہ کے بھائی کی درخواست پر اس کے شوہر سمیت 4افراد کے خلاف قتل کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے، مقتولہ دو بچوں کی ماں تھی۔ دوسری طرف نواحی گائوں بیدار پور ورکاں (مریدکے) میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر 22سالہ دوشیزہ کو ہلاک کرکے اس کی نعش راجباہ کے قریب پھینک دی اور فرار ہوگئے۔ مقتولہ لباس اور چہرے سے کسی امیر گھرانہ کی معلوم ہوتی ہے۔ مریدکے پولیس کے تفتیشی افسر اعجاز احمد خان کے مطابق ملزمان نے مقتولہ کے سر اور پیٹ میں گولیاں مار کر ہلاک کیا ہے۔

مزید : لاہور