جسے کہتے ہیں قومی زباں

جسے کہتے ہیں قومی زباں
جسے کہتے ہیں قومی زباں

  

ڈاکٹرحسن وارثی،پیرس

اردوہندوستانی زبان کی معیاری قسم ہے۔ یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے، جبکہ بھارت کی چھ ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ بھارتی آئین کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت زبانوں میں شامل کیا جاچکا ہے۔ 2001ء کی مردم شماری کے مطابق اردو کو بطور مادری زبان بھارت میں پینسٹھ ملین لوگ بولتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ بھارت کی چھٹی بڑی زبان ہے جبکہ پاکستان میں اسے بطور مادری زبان استعمال کرتے ہیں۔ایک سروے کے مطابق دنیا کی 2301زبانوں میں اردو کو دوسری عالمی پوزیشن حاصل ہے ۔اس سے اردو کی عالمگیریت کا تصور کیا جاسکتا ہے ۔لیکن دوسری جانب پاکستان میں اس قومی زبان کے ساتھ جو ہتک آمیز سلوک کیا جاتا ہے وہ بھی قابل غور اور شرمناک ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے سربراہان کی اپنی زبان سے محبت دیکھ لیجئے کہ وہ جب بھی کسی دوسرے ملک جاتے ہیں تو اپنی زبان میں مدعا بیان کرتے ہیں لیکن پاکستانی حکمران اردو بولتے ہوئے شرماتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جب تک حکومتی سطح پر اردو کو تاجور نہیں بنایا جائے گا،یہ ترقی اور قبولیت حاسل نہیں کرپائے گی۔

اردو تاریخی طور پر ہندوستان کی مسلم آبادی سے جڑی ہے۔ بعض ذخیرہ الفاظ کے علاوہ یہ زبان معیاری ہندی سے قابل فہم ہے جو اس خطے کی ہندوؤں سے منسوب ہے۔ زبانِ اردو کو پہچان و ترقی اس وقت ملی جب برطانوی دور میں انگریز حکمرانوں نے اسے فارسی کے بجائے انگریزی کے ساتھ شمالی ہندوستان کے علاقوں اور جموں و کشمیر میں اسے سنہ 1846ء اور پنجاب میں سنہ 1849ء میں بطور دفتری زبان نافذ کیا۔ اس کے علاوہ خلیجی، یورپی، ایشیائی اور امریکی علاقوں میں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو بنیادی طور پر جنوبی ایشیاء سے کوچ کرنے والے اہلِ اردو ہیں۔ 1999ء کے اعداد وشمار کے مطابق اردو زبان کے مجموعی متکلمین کی تعداد دس کروڑ ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ تھی ،اس لحاظ سے یہ دنیا کی نویں بڑی زبان کہلا سکتی ہے۔

اْردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے۔ اْردو اور ہندی میں بْنیادی فرق یہ ہے کہ اْردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ ہندی زبان دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے۔ کچھ ماہرینِ لسانیات اْردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں۔ تاہم، دیگر ماہرین اِن دونوں کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اْردو سے نکلی ہے۔ اسی طرح اگر اردو اور ہندی زبان کو ایک سمجھا جائے تو یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے۔

اردو زبان باوجود دنیا کی نئی زبانوں میں سے ہونے اپنے پاس معیاری اور وسیع ذخیرہ ادب رکھتی ہے۔خاص کر جنوبی ایشیائی زبانوں میں اردو اپنی شاعری کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمگیریت رکھنے والی اردو کو اسکا حق دیا جائے تاکہ ہم جہاں بھی ہوں اپنی قومی زبان کو اظہار کا ذریعہ بناتے رہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

مزید : بلاگ