اٹک کا اردگان

اٹک کا اردگان
اٹک کا اردگان

  

تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

دنیا کے ہر مہذب ملک میں بلدیاتی اداروں کی اہمیت مسلمہ ہے کیونکہ یہ ادارے ایک جانب تو جمہوریت کی ترقی اور بقاء کے لیے نہ صرف سیاسی قیادت فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کی تربیت بھی کرتے ہیں تو دوسری جانب یہ ادارے عوامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے میں بنیادی کردا ر ادا کرتے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان میں بھی بلدیاتی اداروں کو بنیادی جمہوری اداروں کی اہمیت حاصل ہے اور تاریخ شائد ہے کہ ان اداروں نے نہ صرف وطن عزیز کو ایک مدبر سیاسی قیادت فراہم کی ہے بلکہ عوام فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا آخری مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور تو تمام میونسپل کمیٹیوں اور اضلاع کے چیئر مینوں کا چناؤ ہو چکا ہے پنجاب بھر میں صاحب اقتدار جماعت مسلم لیگ ن کو بھر پور کامیابی حاصل ہوئی ہے مگر پنجاب کے ضلع اٹک جس کا شمار پاکستان کے قدیم اضلاع میں ہوتا ہے ، موجودہ بلدیاتی انتخابات میں عوام نے مسلم لیگ ن کے خلاف فیصلہ دیا حالانکہ اس ضلع سے مسلم لیگ ن کے ایک وفاقی وزیر ، دو صوبائی وزراء ، ایک ایم این اے ، دو ایم پی اے اور پیپلز پارٹی تحریک انصاف کے ایک ناراض دھڑا کی بھرپور کوششوں کے باوجود بھی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ سابق ناظم میجر طاہر صادق کی صاحبزادی چوہدری شجاعت حسین کی بھانجی بی بی ایمان وسیم نے بھاری اکثریت سے تمام تر حکومتی کوششوں کے باوجود وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے بھانجے سردار احسن خان کو شکست سے دو چار کر دیا ۔ ضلع اٹک کے چیئرمین کے لیے میجر طاہر صادق گروپ کی یہ مسلسل چوتھی کامیابی ہے۔ اس سے قبل اس گروپ کے سردار محمود خان چیئرمین ضلع کونسل جبکہ میجر (ر)طاہر صادق دو مرتبہ ضلع ناظم رہے اور اب چوتھی بار بھی کامیابی انہی کی رہی ۔میجر طاہر صادق کے فرزند زین الہی ممبر قومی اسمبلی بھی ہیں ۔میجر طاہر صادق میں عوامی خدمت کا جذبہ ، سچائی کی روشنی اور کام کرنے لگن اپنے والد سردار محمد صادق خان مرحوم سے ورثے میں ملی ہے جو سچے مسلم لیگی ، نہایت مخلص اور ایماندار سیاسی رہنما ء تھے۔انہیں قائداعظم محمدعلی جناح کا محافظ ہونے کا بھی اعزاز حاصل تھا ۔وہ کئی بار قومی اسمبلی کے ممبر اور مشیر بھی رہے۔ میجر طاہر صادق کی نیک دلی اور خدا ترسی میں ان کی والدہ محترمہ کی تربیت کا کمال ہے جو انتہائی نیک دل اور مذہبی خاتون تھیں۔ اپنے شوہر کے انتقال کے بعد ممبر صوبائی اسمبلی بھی رہیں ۔ طاہر صادق نے اپنے ناظم ہونے کے دو ادوار میں اٹک کے عوام کی بے پناہ خدمت کی انہوں نے ضلع اٹک میں تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کے ایسے کارنامے سرانجام دیئے کہ ان کی دھوم پورے ملک میں پھیل گئی ۔ ان کے دور سے قبل ضلع اٹک بنجر اور بارانی ہونے کے باعث پنجاب بھر کے پسماندہ اضلاع میں سر فہرست تھا ۔ یہاں کے کسان صرف بارشو ں کی امید پر زندگی گزارتے تھے ۔ ضلع بھر میں آمدو رفت کے ذرائع نہ ہونے کے برابرتھے۔ لوگ تعلیم اور صحت جیسی سہولیات سے بھی نا آشنا تھے ۔طاہر صادق نے ضلع کی تعمیر و ترقی کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے ۔ ضلع کو سمال ڈیمز اور آبپاشی کی دیگر جدید سہولیات فراہم کیں۔ ضلع بھر میں سکولوں کو اپ گریڈ کر کے مڈل کو ہائی اور ہائی ہائیر سیکنڈری کے درجے دلوائے۔ گرلز اور بوائز کالجز قائم کیئے ۔ ضلع میں یونیورسٹیوں کے قیام عمل میں لائے گئے۔ سڑکوں کا جال بچھایا گیا۔ زراعت ، تعلیم اور صحت کے ساتھ ساتھ لائیو سٹاک ، جنگلات ، امداد باہمی ، سوشل ویلفیئر، کھیل اور ثقافت کی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ بجلی کی فراہمی ، پی ٹی سی ایل ، سوئی گیس جیسی سہولیات اور ضلع سے بیروز گاری کے خاتمے کے لیے خالی آسامیوں پر بھرتی کے عمل مکمل کر کے اور نئی آسامیاں پیدا کر کے گراں قدر خدمات سرانجام دی گئیں اور یہی وجہ ہے کہ ٓاپو زیشن جماعتیں اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ضلع اٹک کی چیئرمین شپ کی سیٹ چوتھی باربھی ان سے نہ چھین سکی کیونکہ طاہر صادق کی عوامی خدمات کے باعث ضلع اٹک کے عوام کے دل میں ان کے لیے وہی شفقت اور محبت ہے جو کہ ترک عوا م کی اپنے صدر طیب اردگان سے ہے جن کی عوامی خدمت کی بدولت ان کے عوام نے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر اور اپنی جانیں قربان کر کے بغاوت کو ناکام بنادیا تھا۔ بالکل اسی طرح ضلع اٹک کے عوام بھی طاہر صادق کی گراں قدر عوامی خدمات پر ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور ان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا راز بھی یہی ہے کہ وہ عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید : بلاگ