تعلیمی اداروں کی سیکورٹی  کے نام پر لوٹ مار

تعلیمی اداروں کی سیکورٹی  کے نام پر لوٹ مار
تعلیمی اداروں کی سیکورٹی  کے نام پر لوٹ مار

  

نجم الثاقب

سولہ دسمبر 2015 کو دہشت گردوں نے خیبر پختوان خوا کے سرکاری سکول اے پی ایس میں تعلیم کی روشنی حاصل  کرنے  والے   معصوم  فرشتوں پر حملہ کردیا اور اس افسوناک ودلخراش سانحے میں  135  سے زائد مائوں کی گودیں  اجڑ گئیں۔ ابھی اس  افسوناک  سانحے کے زخم بھرے ہی نہیں تھے کہ21 جنوری  2016 دہشت گردوں نے  باچا خان یونیورسٹی پر دھاوا بول کر 21 سے زائد طلبہ کو شہید کر دیا۔

دہشت گردوں کے ان عزائم کو جانچتے ہوئے ملک کے  تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے تمام تعلیمی اداروں (یونیورسٹیز، کالجز ، اسکوال) کو بند کرکے سیکورٹی کے فول پروف انتظام کے لئے اسپیشل  ایس ۔ او۔ پی  کا نفاذ کیا ۔  صوبے، تحصیل اور ضلع کی سطح پر تمام تعلیمی اداروںکی حفاظتی  اقدامات کے لئے  سخت آرڈز جاری کئے گئے۔

سیکورٹی پالیسی( ایس ۔ او ۔ پی )کے اہم قواعد میں تمام  تعلیمی مراکز   کی  باونڈی وال کو 8 سے 10 فٹ تک اونچا  کرنے، دیوار کے اوپر 2 فٹ  اضافی خاردار تار کا استعمال،داخلی اور خارجی راستوں پر بیریئز ، لوہے کی بار اور  رکاوٹیں کا قیام،موثرو جامع سیکورٹی کیمروں کا نصب کرنے،  ایمرجنسی بنکر، واک تھرو گیٹ، چیکنگ کے آلات کے ساتھ تربیت یافتہ  سیکورٹی گارڈز اور    شوٹرزکا تعین کو انتہائی ضروری قرار دیا گیا۔

حکومتی  رائج  سیکورٹی پالیسی کے بعد تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے اخراجات بڑھ گئے وہاں حکومت کی طرف سے تمام تر  سیکورٹی کی ذمہ داری تعلیمی اداروں کے مالکان  اور انتظامیہ پر ڈال دی گئی۔  سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں نے سیکورٹی کوجواز بنا کر فیسوں میں  بھاری بھرکم اضافہ کر دیا ہےجس کابوجھ بھی عوام  الناس کی جیبوں پر ڈاکہ مار کر پورا کیا جارہا ہے۔حالانکہ یہ ادارے پہلے سے  بھاری فیسیں بٹوررہے تھے ،حکومت کو چاہئے تھا کہ فیسوں کے اضافہ کو روکنے کے  لئے سخت اقدامات اٹھاتی ، اس سلسلے میں ضلعی  وتحصیل  کی   سطح پر اپنی ٹیمیں سرکاری و نجی اداروں میں بھیجی جاتیں تاکہ فیسوں کے نام پر من مانا اضافہ کو ختم کیا جا سکتا۔ لیکن ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا۔عوام جو پہلے  ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ان کی  اس پریشانی کا ازلہ ہو ۔

نجی اور مہنگے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ نے کافی حد تک حفاظتی اقدامات کو فالو کرتے ہوئے سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کےلئے  اپنا ذاتی سیکورٹی پلان ترتیب دیا ہے۔درمیانے طبقے اور سرکاری تعلیمی اداروں نے سیکورٹی کمپنز سے معاہدے کی  بدولت سیکورٹی کی تمام ذمہ داری ان کے سر تھوپ دی ہے۔ لیکن یہ اتنا ہی کافی نہیں ہے۔دیکھنے میں اتنا ہے کہ زیادہ تر اداروں کی سکیورٹی بس واجبی ہے۔

حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد ان سیکورٹی کمپنز کی چاندی ہو گئی،  بہت سی رجسٹرڈ سیکورٹی کمپنیز مارکیٹ میں موجود ہیں جن کی  کارکردگی کے اوپر بہت سے تحفظات ہیں۔میڈیا میں آئے روز کے واقعات سے پیشتر سیکورٹی کمپنز  پرمتعدد مرتبہ سوالات اٹھا ئے گئے  بہت سی سیکورٹی  کمپنز  میں موجود  سٹاف  / گارڈز کی نااہلی ، سستی اور کاہلی کے باعث شدید جانی و مالی نقصانات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ اکثر  دیکھنے   میں آیا ہے کہ ایمرجنسی حالات میں گارڈز خود غائب ہو جاتے ہیں، ان کو نالج  ہی نہیں  ہوتا کہ انھوں نے کیسے انسانی جان کو بچانا ہے،کئی بار گارڈز کو اسلحہ چلانے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے،  بعض مرتبہ   اسلحہ ہی ناکارہ ہوتا ہے۔ متعدد مرتبہ چوری، ڈاکیتی اورڈاکہ کی وادارت میں گارڈز خود  ہی ملوث پائے گئے۔ حکومت کو سیکورٹی کمپنز کے بارے میں سخت رائج کردہ پالیسی کے مطابق تمام سیکورٹی کمپنز کو پابند کرنا چاہئے تاکہ وہ عوام کی جان ، مال اور عزت کے لئے سیکورٹی رسک ثابت  نہ ہوں۔

سیکورٹی  چیکنگ کے نام پرایک مسئلہ نجی اداروں  کی طرف سے فی میل    استاتذہ اکرام  ،  فیکللٹی و دیگر اسٹاف  کی طرف سے رپورٹ ہوا ہے ۔ فی میل  استاتذہ  اکرام اور فیکللٹی ممبرز  کی جانب سےشکایت کی گئی ہے کہ   پولیس اور  دیگر تفتیشی اداروں  کے کچھ اہلکار  سیکورٹی چیکنگ کے نام  پر ان کے ایڈریس، ٹیلیفون، موبائل نمبردرج کر رہے ہیں ۔ حکومتی اداروں  اورمحکمہ پولیس سے ان تمام  فی میل استاتذہ اکرام اور دیگر سٹاف  کی گذارش ہے کہ ان کو  اس سلسلے میں بے جا تنگ نہ کیا جائے اور جو بھی معلومات درکار ہو وہ متعلقہ تعلیمی ادارے  میں موجود ہے وہاں سے  حاصل کریں۔ 

تعلیمی اداروں کی سیکورٹی انتظامات کے باعث ایک بڑا مسئلہ ٹریفک  کی روانی بھی ہے۔ تعلیمی اداروں نے سیکورٹی پروف  کو اپنانے  کے لئے سٹوڈنٹس  پک اینڈ  ڈراپ انٹری کو ختم کر دیاہے  جس کے باعث  شہری تعلیمی اداروں کے باہر اپنی گاڑیاں سڑکوں کے اطراف میں پارکنگ  کر تے ہیں تواس سے  دفتری  اوقات کے دوران  ٹریفک میں  شدید خلل پڑتا ہے۔  ضلعی انتظامیہ   کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں کے قریب ٹریفک کے رش کو کنٹرول کرنے کے لئے اسپشل انتظام کرےاور ٹریفک واڈرن کو سکول اور کالج کے اوقات پر مین شاہراروں پر تعین کرےتاکہ ٹریفک کی فروانی متاثر نہ ہو ۔

صوبے پنجاب میں سرکاری طور پر 46 ہزار 344 اسکول اور 720 کالجزہیں ، جس میں سیکورٹی پرو ٹیکشن کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات عمل میں نہیں آئے۔  پنجاب کے دیہاتوں  ، پسماندہ علاقوںاور قصبوں میں آج بھی سکولوں  کا  برُا حال ہے کئی ایریازمیں سکولوں  کی  حفاظتی دیوار اور  باونڈی وال سرے سے  موجود نہیں ہےوہاں سیکورٹی پالیسی تو دور کی بات طلبہ کو بنیادی تعلیمی سہولیات میسرہی نہیں ہیں۔   جس کے وجہ سے والدین ایک حد تک بچوں کوتعلیم دلوانے پر مجبور ہیں۔   حکومت کو سیکورٹی کے ساتھ  دیگر بنیادی سہولیات (بجلی ، پانی، گیس ، فرنیچر ،بچوں کے کھیلنے کے گراونڈ، بیت الخلا) کی فراہمی کو یقینی بنائے۔   

حساس اداروں کی جانب سے کئی مرتبہ حفاظتی الرٹ جاری کئے گئے جس کے بعد پنجاب حکومت کو مجبورا ًعملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت محسوس ہوئی جس کے نتیجے میں 1200 چوکیدار اور 5ہزار230 سیکورٹی گارڈز کو حساس مقامات کے  اسکولوں میں بھرتی کرنے کے آرڈز جاری کئے ہیں ۔ شہریوں   کا یہ سوال ہے ان کے ٹیکسوں سے چلنے والی حکومت اور اس کے تابع فرمان پولیس، لاء انفورس منٹ  اداروں کی ذمہ داری  یہ نہیں ہے کہ وہ ملک کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کو موثر بنانے کےلئے اپنا فرض انجام دیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید : بلاگ