اگر آپ بات کرتے ہوئے بار بار گالی نکالتے ہیں تو یہ شاندار خوشخبری آپ کیلئے ہے!

اگر آپ بات کرتے ہوئے بار بار گالی نکالتے ہیں تو یہ شاندار خوشخبری آپ کیلئے ہے!
اگر آپ بات کرتے ہوئے بار بار گالی نکالتے ہیں تو یہ شاندار خوشخبری آپ کیلئے ہے!

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر میں بات بے بات گالیاں دینے والوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن اب ماہرین نفسیات نے گالیاں دینے والوں کے متعلق ایسا حیران کن انکشاف کر دیا ہے کہ صاف ستھری زبان بولنے والے بھی گالیاں سیکھنے پر غور کرنے لگیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نفسیات نے اپنی نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ”بہت زیادہ گالیاں دینے والے لوگ زیادہ ایماندار اور مخلص ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جو عام سماجی قوانین کو نہیں مانتے اور محفل کا خیال رکھے بغیر گالیاں دیتے ہیں انہیں سچ بولنا پسند ہوتا ہے اور وہ لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔“

سفر کے دوران ساتھ بیٹھی مسافر کو اگر یہ بات کہی جائے تو وہ آپ کی دوست بن جائے گی، ماہر نفسیات نے ایسا مشورہ دے دیا کہ آپ بھی آزمانے پر مجبور ہوجائیں گے

کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے اپنی اس تحقیق میں 2تجربات کیے۔ پہلے تجربے میں گالیاں دینے والے 276افراد سے سوالات کیے گئے جبکہ دوسرے تجربے میں فیس بک کے 74ہزار صارفین کے اپنی وال پر گالیاں دینے اور ان کی ایمانداری کے معیار کا تجزیہ کیا گیا۔ماہرین کے مطابق ”گالیاں دینا اپنے جذبات کا مستند اور سچا اظہار ہوتا ہے اور جو لوگ اکثراوقات گالیاں دیتے رہتے ہیں وہ اس لیے مخلص ہوتے ہیں کہ دوسروں کے برعکس وہ گالیاں دل میں روک کر بناوٹی جذبات کا اظہار نہیں کرتے۔ ان کے دل میں جو ہوتا ہے وہ بول دیتے ہیں اس لیے وہ زیادہ قابل بھروسہ اورمخلص ہوتے ہیں۔“

تحقیق کار ڈیوڈ سٹل ویل کا کہنا تھا کہ ”اس چیز کو دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ گالیاں دینا ایک منفی رویہ ہے اور گالیاں دینے والے کچھ لوگ ممکنہ طور پر واقعی برے بھی ہو سکتے ہیںلیکن دوسری طرف ایسے لوگ اپنی زبان کو فلٹر نہیں کرتے اور جو ان کے دل میں ہوتا ہے بول دیتے ہیں۔“واضح رہے کہ اس سے قبل مختلف جرائم کے ملزمان پر کی جانے والی تحقیق میں بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ان میں سے جو لوگ زیادہ گالیاں دیتے تھے ان کی اکثریت بعدازاں بے گناہ ثابت ہوئی جبکہ اس کے برعکس جوملزم گالیاں نہیں دیتے تھے بعدازاں ان میں سے اکثر پر جرم ثابت ہو گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس