دوران پروازپائلٹس اور ائیرہوسٹسز یکدم ایک ایک کرکے گرنے لگے، انہیں کیا ہوا تھا؟ ایسا انکشاف کہ مسافروں کے واقعی ہوش اُڑگئے

دوران پروازپائلٹس اور ائیرہوسٹسز یکدم ایک ایک کرکے گرنے لگے، انہیں کیا ہوا ...
دوران پروازپائلٹس اور ائیرہوسٹسز یکدم ایک ایک کرکے گرنے لگے، انہیں کیا ہوا تھا؟ ایسا انکشاف کہ مسافروں کے واقعی ہوش اُڑگئے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ دنوں برٹش ایئرویز کی ایک پرواز حادثے سے بال بال بچی جس میں ٹیک آف کے فوری بعد کیبن میں ایک ایسی پراسرار خطرناک گیس کا اخراج شروع ہو گیا جس سے پائلٹس سمیت جہاز کا تمام عملہ ذہنی طور پر مفلوج ہونے لگا، ان کے سر چکرانے لگے،انہیں قے آنے لگی اور وہ ایک ایک کرکے گرنے لگے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ پرواز سین فرانسسکو سے لندن آ رہی تھی لیکن ٹیک آف کے فوری بعد کیبن میں اس گیس کے اخراج کے بعد اس کا رخ کینیڈا کے شہر وینکوور کی طرف موڑ دیا گیا اور پائلٹ آکسیجن ماسک کا سہارا لیتے ہوئے جہاز کو وینکوور ایئرپورٹ پر اتارنے میں کامیاب ہو گئے جہاز پرواز کے لینڈ کرتے ہی تینوں پائلٹس سمیت دیگر عملے کے اراکین کو فوری طور پر ہسپتال پہنچادیا گیا۔

انڈونیشین ائیرلائن کے پائلٹ کی شراب کے نشے میں جہاز پر چڑھتے ہوئے ویڈیو سامنے آگئی تو پھر ائیرلائن کی انتظامیہ اپنے ساتھ کیا کام کرنے پر مجبور ہوگئی؟ جان کر پی آئی اے حکام شرم سے پانی پانی ہوجائیں گے

رپورٹ کے مطابق جہاز میں یہ واقعہ ٹیک آف کے 40منٹ بعد پیش آیا۔ کیبن سروس ڈائریکٹر کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس گیس کی بو اس طرح کی تھی جیسے پلاسٹک جل رہا ہو۔سنڈے ٹائمز میں شائع ہونے والی واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ گیس جہاز کے مرکزی کیبن کے دروازے سے آ رہی تھی۔ اس کی بدبو اتنی تیز تھی کہ جلد ہی جہاز کا تمام عملہ عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگا۔ ان کے سرچکرانے لگے، سردرد اور متلی محسوس کرنے لگے اور ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور درد کرنے لگیں۔ انہیں ایسا احساس ہو رہا تھا جیسے وہ ہوا میں اڑ رہے ہوں۔ اس سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہوئی کہ عملہ چیزیں بھولنے لگا اورشدید ذہنی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا تھا۔انہیں نارمل طریقے سے سوچنے اور بات کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔ عملے کے کچھ ارکان جہاز کے دوسرے کونے میں چلے گئے تھے لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ وہاں تک کیسے پہنچے۔“ ابتدائی طور پر اپنے بیان میں برٹش ایئرویز نے کہا تھا کہ ”جہاز میں بظاہر ایسی کوئی خرابی نہیں تھی۔“ رپورٹ کے مطابق پائلٹس نے فوری طور پر گیس ماسک پہن لیے، جہاز میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور کسی طرح اسے وینکوور میں اتارنے میں کامیاب ہو گئے۔ ماہرین نے کمپنی کے اس بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ برٹش ایئرویز نے واقعے کو بہت کم بیان کیا، حالانکہ تحقیقاتی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انتہائی تشویشناک واقعہ تھا جس نے سینکڑوں مسافروں کی زندگیاں داﺅ پر لگا دیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس