مسلم لیگ ن کی حکومت کمزور ، سینیٹر پرویز رشید اور مشاہداللہ خان کو دباﺅ میں آکر ہٹا دیا ،میں نے کھل کر باتیں کرکے اپنی واپسی کا راستہ بند کردیا:جاوید ہاشمی

مسلم لیگ ن کی حکومت کمزور ، سینیٹر پرویز رشید اور مشاہداللہ خان کو دباﺅ میں ...
مسلم لیگ ن کی حکومت کمزور ، سینیٹر پرویز رشید اور مشاہداللہ خان کو دباﺅ میں آکر ہٹا دیا ،میں نے کھل کر باتیں کرکے اپنی واپسی کا راستہ بند کردیا:جاوید ہاشمی

  

ملتان (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر سیاستدان اور تحریک انصاف کے سابق صدر جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کمزور ہے جب انہوں نے سینیٹر پرویز رشید اور مشاہداللہ خان کو دباﺅ میں آکر ہٹا دیا ہے تو میں نے تو سارا بھانڈا پھوڑ دیا ہے مجھے کہاں لیں گے ان باتوں کے بعد تو میں نے راستہ ہی بند کردیا ہے، 2018ءکا الیکشن ضرور لڑوں گا۔

سینئر سیاستدان اور تحریک انصاف کے سابق صدر جاوید ہاشمی نے دنیا نیوز کے پروگرام ”نقطہ نطر “میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بات پوچھی جائے میں چھپا نہیں سکتا،میرے دل میں کوئی بات رہتی نہیں ہے،میری طبیعت ہی ایسی ہے،جو بات کی ہے اس پر قائم ہوں،جو حقیقت ہے وہ سامنے لارہا ہوں، عمران خان نے کہا تھا کہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت ہونی چاہیے،عمران خان نے ساری باتیں اعلانیہ کی تھیں،قومی لیڈر کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے،میں نے عمران خان سے کہا تھا کہ ہمارے ساتھ نوجوان ہیں،عوام ہیں ،تحریک انصاف 2018ءتک بڑی پارٹی بن سکتی ہے۔

اب سپریم کورٹ میں مقدمہ ملتوی کرنے کی درخواستیں نہیں سنیں گے:چیف جسٹس آف پاکستان

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کمزور ہے جب انہوں نے سینیٹر پرویز رشید اور مشاہداللہ خان کو دباﺅ میں آکر ہٹا دیا ہے تو میں نے تو سارا بھانڈا پھوڑ دیا ہے مجھے کہاں لیں گے ان باتوں کے بعد تو میں نے راستہ ہی بند کردیا ہے، 2018ءکا الیکشن ضرور لڑوں گا،عوام نے مجھے محبت دی ہے،اب ووٹ دیں نہ دیں میں جمہوری نظام کے ساتھ کمٹمنٹ شو کروں گا،نوازشریف نے کبھی بھی مجھے خوش ہوکر ٹکٹ نہیں دیا پھر بھی میں الیکشن لڑتا رہا ہوں،اب دیکھوں گا آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنا ہے یا کسی جماعت کی طرف سے ابھی نہیں سوچا ہے۔

معروف صحافی رؤف کلاسرا کی چینی سفارت کار سے شدید لڑائی ہوگئی , انتہائی شرمناک جملہ کہہ دیا

مجھے بتایا گیا کہ سول کپڑوں میں جنرل طارق خان اور عمران خان کے درمیان ملاقات ہوئی ہے،دھرنے سے پہلے اور دھرنے کے بعد یہ باتیں ہوئیں،24جولائی سے10ستمبر 2014ءکے درمیان الیکشن کروانے کی عمران خان تیار ی کرچکے تھے،انہوں نے لسٹیں بھی فائنل کرلی تھیں کہ کون کون ممبران بنیں گے،اجلاس میں سب موجود ہوتے تھے جن میں جہانگیر ترین،شاہ محمود قریشی،اسد عمر،عارف علوی ،شیریں مزاری سبھی شامل ہوتے تھے،میری باتوں سے عمران خان کے اردگرد موجود باتوں سے خوش نہیں تھے،اعجاز چودھری،علیم خان خوش ہوتے تھے ،پارٹی کے زیادہ تر رہنماءمجھ سے اتفاق کرتے تھے،عمران خان نے سپریم کورٹ کے جج کا بولا تو میں نے کہاتھا مارشل لاءلگ جائے گا،جہانگیر ترین نے بھی پارلیمنٹ جانے سے انکار کردیا تھا،عمران خان بھی ان کے گھر ہونے والے اجلاس میں فیصلے سے متفق ہوگئے تھے،اس اجلاس میں پارلیمنٹ پر چڑھائی نہ کرنے کا فیصلہ ہوا تھا،عمران خان نے اچانک فیصلہ تبدیل کیا تھا۔

کرپشن الزامات، عرب ملک کے ڈپٹی چیف جسٹس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا

انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت جنرل راحیل شریف سے ملاقات ہوچکی تھی اورہمارے مطالبات ماننے ہمیں گارنٹی بھی مل گئی تھی ،نواز شریف پر دھاندلی ثابت ہوجاتی تو جنرل راحیل شریف نے استعفیٰ لے کردینا تھا۔

مزید : قومی /اہم خبریں