”کشمیر میں گوریلا جنگ کی ناکامی کا سبب یہ دو بڑے جنرل تھے “

”کشمیر میں گوریلا جنگ کی ناکامی کا سبب یہ دو بڑے جنرل تھے “
”کشمیر میں گوریلا جنگ کی ناکامی کا سبب یہ دو بڑے جنرل تھے “

  

لاہور( اسپیشل ایڈیٹر)بھارت کے زیر تسلط کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے جسطرح آپریشن کارگل فوجی اور سیاسی قائدین کی باہمی چپقلش کی وجہ سے ناکام ہوا،اس سے پہلے آپریشن جبرالٹر میں یہ سبق مل چکا تھا ۔1965ءمیں بھارت کے خلاف اس آپریشن کی منظوری ذوالفقارعلی بھٹو کی زیرکمان وزارت خارجہ نے دی تھی اور ایوب خان کو یقین دلایاتھا کہ عالمی قوتیں پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں اسے آزادی کی تحریک تسلیم کریں گے۔ آپریشن جبرالٹربھی دراصل فوجی اور سیاسی قیادت کی سازش کی وجہ سے ناکام ہوا ۔ اور اس کے نتیجے میں 1965ء پاک بھارت جنگ کی تاریخ پاکستان آرمی اور ریاستی قیادت کی نااہلیوں، فاش غلطیوں، مبہم منصوبہ بندی اور غلط فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن دفاعی محقق اسکا مورد الزام فیلڈ مارشل جنرل ایوب اور فوج کے سربراہ جنرل موسیٰ خان کو ٹھہراتے ہیں۔

پاک فضائیہ کے قابل فخر فائٹرریٹائرڈائر کموڈور پائلٹ سید سجاد حیدر اپنی کتاب میں آپریشن جبرالٹر کی ناکامی کا باعث بننے والی درپردہ فاش غلطیوں پر سے پردہ اٹھاچکے ہیں۔ مصنف نے 1965ء اوربعدازاں 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں تاریخ ساز کردار ادا کرتے ہوئے بھارتی ایئر فورس پر پاک فضائیہ کی دھاک بٹھا دی اور ستارہ جرا¿ت حاصل کیا۔1980ء میں ایئر کموڈور کے طور پر ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد انہوںنے اپنی عسکری زندگی پر مشتمل یادداشتوں کو فلائٹ آف دی فالکن میں مجتمع کیا جو بعد ازاں اردو میں شاہین کی پرواز کے نام سے منظر عام پر آچکی ہے۔ان کی یہ کتاب تاریخی نوعیت کی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے اور بیسٹ سیلرز میں شمار ہوتی ہے۔ سید سجاد حیدر نے کتاب میں 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں ایئر فورس کی کارکردگی اور درپردہ سازشوں اور ناکامیوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پینسٹھ کی جنگ کا باعث بننے والا آپریشن جبرالٹر دفتر خارجہ کا برین چائلڈ تھا اور اس میں فضائیہ کو مکمل بے خبر رکھا گیا تھا۔آپریشن جبرالٹر فوجی اور سول قیادت کی ناپختہ اور ناقص منصوبہ بندی کا نمونہ تھا اور پاکستانی قوم کے ساتھ ایک ظالمانہ مذاق تھا۔ اس کی ناکامی یقینی تھی کیونکہ یہ ایک کم تر پیشہ ورانہ تجربے کے حامل صدر اور اس کے مسکین کمانڈر ان چیف کی کمزور قائدانہ صلاحیتوں کا مظہر تھا۔ ان دونوں کا فوجی آپریشن کا تصور گہری حکمت عملی سے خالی تھا۔ جنرل ایوب کے بارے میں گلبرٹ لیتھ ویٹ نے لکھا ”میں اس کو کسی بھی لحاظ سے اعلیٰ دانشور طبقے میں شمار نہیں کرتا۔ ہمارے ریکارڈ کے مطابق وہ لیفٹنٹ کرنل کے طور پر ایک ناکام کمانڈنگ افسر تھا۔ اس کافوجی علم محدود ہے۔ اس نے پاکستانی فوج کا کمانڈر ان چیف بننے کے بعد اپنی نا تجربہ کاری کو چھپانے کے لیے لفٹنٹ جنرل سر راس میکے کو اپنا ذاتی مشیر بنایا۔ وہ اس پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا۔“

صدر ایوب اور جنرل موسیٰ نے دانستہ طور پر پاکستان ایئر فورس کے کمانڈر ان چیف ایئر مارشل اصغر خان کو آپریشن جبرالٹر سے بے خبر رکھا کیونکہ وہ اصغر خان کے بلند اخلاقی معیار اور جرا¿ت مندانہ اظہار خیال سے خائف تھے۔ اصغر خان نے پی اے ایف کی آبیاری اپنے خون جگر سے کی تھی اور اسے ایک انتہائی منظم، مربوط، تربیت یافتہ اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل تیز رفتار ایئر فورس میں تبدیل کردیا تھا۔ انہوں نے اپنی بصیرت افروز نظروں سے ان کچھ کی جھڑپوں کے بعد پیدا ہونے والے طوفان کا اندازہ کر لیا تھا اور ایئر فورس کو انتہائی تیاری کی حالت میں رکھا ہوا تھا۔ 23جولائی 1965ء کو پی اے ایف کی قیادت ایئر مارشل نور خان نے سنبھال لی اور اصغر خان کو پی آئی اے کا چیئرمین بنادیا گیا۔ کمان کی اس تبدیلی کے موقع پر ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز بریگیڈیئر گل حسن نے ان کو بتایا کہ فوج مقبوضہ وادی کشمیر میں ایک بڑے آپریشن کی تیاریاں کررہی ہے۔ اصغر خان اس کے بارے میں بالکل بے خبر تھے۔ جب ایئر مارشل نور خان نے اس سلسلے میں جنرل موسیٰ سے دریافت کیا، تو اس نے کہا کہ یہ ایک چھوٹا مقامی معاملہ ہے جس کو میجر اختر ملک ہی سنبھال لے گا اور پی اے ایف کی شرکت بالکل ضروری نہیں ہے۔ نورخان نے اختر ملک سے بھی ملاقات کی اور پوچھا کہ وہ یہ آپریشن ایئر فورس کی مدد کے بغیر کیسے سرانجام دیں گے۔ اس نے کہا کہ وہ رسدکی سپلائی کے لیے آرمی ہیلی کاپٹر اور خچر استعمال کریں گے۔ ن±ور خان کو فوجی افسران کی محدود سوچ اور غیر پیشہ ورانہ حکمت عملی پر سخت مایوسی ہوئی۔یہ انتہائی بدقسمتی کی بات تھی کہ ایک انتہائی تربیت یافتہ لڑاکا فوج کی سربراہی فوجی حکمتِ عملی سے عاری کمزور جرنیل کے ہاتھ میں تھی۔بعد ازاں ایوب خان نے اپنی کتاب”یادداشتیں“ (Diaries)میں اعتراف کیا ہے کہ ”جنرل موسیٰ نااہل اور غیر مو¿ثر تھا۔“ پی اے ایف کے دونوں سربراہان کو اس حقیقت سے بے خبر رکھا گیاکہ کشمیر میں گوریلا جنگ کی منصوبہ بندی مئی 1965ء میں ہی کرلی گئی تھی۔ جنرل موسیٰ نے اپنی مذکورہ کتاب میں نور خان کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ جنرل موسیٰ فوج کے دستوں کو جنگ کے محاذوں پر متعین

کرنے میںبر±ی طرح ناکام رہا بلکہ مشرقی سرحد پر تمام بارودی سرنگوں اور دوسری دفاعی تنصیبات کو بھی ہٹا دیا گیا۔اس طرح سیالکوٹ، لاہور اور قصور کے محاذوں پر بکھرے ہوئے فوجی دستوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پی اے ایف کو اپنی زیادہ توجہ اس طرف مرکوز کرنا پڑی ورنہ وہ اپنے پہلے حملے میں ہی دشمن کی ایئر فورس کو زمین پر ہی تباہ کرنے میں کامیاب ہوسکتے تھے۔ فوجی قیادت نے ایئر چیف کو آپریشن جبرالٹر سے مکمل طور پر بے خبر رکھا۔ درحقیقت جنرل موسیٰ بھارتی فوج کے ممکنہ ردِ عمل سے خوفزدہ تھا اس لیے اس نے فوجی یونٹوں کو مشرقی سرحد سے دور رکھا اور ان کو صرف اس وقت محاذوں پر جانے کا حکم دیا،جب بھارتی فوج تین اطراف سے پاکستان پر حملہ آور ہوچکی تھی۔ اس معاملے میں فوجی اور سیاسی قائدین اپنی کوتاہ نظری اور غفلت کے الزام سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ اپنے منصوبے کے ممکنہ نتائج کی پیش بینی میں ناکام رہے اور اسی وجہ سے انھوں نے جنگ کی تیاری پر کوئی توجہ نہ دی۔ ان کا یہ تصور کہ کشمیر آپریشن میں ایئر فورس کو شریک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، قابلِ افسوس حد تک غلط مفروضوں اور جنگی حرکیات سے لاعلمی پر مبنی تھا۔ وہ ابھی تک جنگ کے منڈلاتے ہوئے خطرات سے لا تعلق، بغیر تیاری کے خوش اعتمادی کے نشے میں مدہوش تھے کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا۔ جس کے نتیجے میں پاکستانی فوج کو جسٹر، برکی، واہگہ، اٹاری، چونڈہ اور کھیم کرن کے محاذوں پر بے پناہ جانی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ آرمی قیادت کا اپنے آپریشن کو ایئر فورس سے خفیہ رکھنے کا فیصلہ ناقابل معافی اور قابل مذمت جرم تھا۔ تاہم نور خان نے اپنی بصیرت سے کام لیتے ہوئے اور خطرے کی ب±و سونگھتے ہوئے پی ایے ایف کو 18اگست1965ء کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا۔“

مزید : لاہور