بے نظیر بھٹو کی نویں برسی کے موقع سعودی عرب میں تعزیتی ریفرنس

بے نظیر بھٹو کی نویں برسی کے موقع سعودی عرب میں تعزیتی ریفرنس
بے نظیر بھٹو کی نویں برسی کے موقع سعودی عرب میں تعزیتی ریفرنس

  

جدہ (بیورو رپورٹ) پاکستان ایک بہادر، جرأت مند اور نڈر لیڈر سے محروم کردیا گیا جو وفاق کی علامت تھیں محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے دہشتگردوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے جان کا نذرانہ پیش کردیا گیا مگر دہشتگردی کے خلاف جہاد جاری رکھا۔ وہ ایک محب وطن اور دہشتگردوں کو للکارنے والی لیڈر تھیں جو یہ جانتی تھی کہ اگر ان حالات میں پاکستان واپس گئی تو ان کی جان بھی جاسکتی ہے۔ مگر جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اسوقت میرا ملک خطرات میں گھرا ہے اور اس کے کچھ علاقوں سے دہشتگردوں نے قومی پرچم اتاردئیے ہیں جن کو ہم نے دوبارہ لگانا ہے اور دہشتگردوں سے اپنے علاقوں کو واگزار کرانا ہے اور اسی جدوجہد میں محترمہ شہید بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کردی۔ ان خیالات کا اظہار معروف صحافی پی پی پی مشرق وسطیٰ کے چیف کوآرڈی نیٹر اسد اکرم نے یہاں محترمہ بینظیر بھٹو کی نویں برسی سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کے مہمان خصوصی پی وائی او آزاد کشمیر کے چیئرمین خالد گجر تھے۔ اسد اکرم نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ وفاق کی سیاست کی ہے اور یہی وجہ تھی کہ قوم محترمہ بینظیر بھٹو کو چاروں صوبوں کی زنجیر قرار دیتے تھے، جب کوئی صوبہ بلوچستان جانا کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا تو بینظیر بھٹو نے وہاں جاکر جلسہ کیا جس سے ان کی مثالی جرأت کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں قوم کو بینظیر بھٹو شہید جیسے جرأتمند لیڈر کی ضرورت ہے جو دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکے، انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین آصف زرداری کے پارلیمنٹ میں آنے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان کے آنے سے پارلیمنٹ مزید مضبوط ہوگی اور جمہوری ہدایات مزید پروان چڑھیں گی۔ خالد گجر نے اپنے خطاب میں کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے لمبی سیاسی جدوجہد کی اور پاکستان کی ہر اکائی کے حقوق کی بات کی۔ وہ ایک عالمی رہنما تھیں جنہوں نے اقتدار میں ہوتے یا نہ ہوتے کشمیر کے مسئلہ کو دنیا بھر کے فورموں پر اٹھایا۔ وہ اپنے باپ کی طرح عوام کے حقوق کی بات کرتی تھی اور ہمیشہ انہوں نے غریب آدمی کو امیر کے برابر لانے کی کوشش کی۔ آج ملک میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی بڑی کمی محسوس کی جارہی ہے اگر آج وہ زندہ ہوتی تو پاکستان کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا اور پاکستان عالمی برادری میں تنہا نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی ڈپلومیسی میں اہمیت رکھنے والا ملک ہوتا۔ پی پی وحید خاکسار نے تقریر کرتے ہوئے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پاکستان اور کشمیر کے لئے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ سامراج کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوگئی تھی۔ بینظیر بھٹو شہید نے ہمیشہ کارکنوں ، کسانوں اور مزدوروں کے حق کے لئے لڑیں۔ افتخار چوہدری نے تقریر میں کہا کہ ایسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کرکے دراصل پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ کلیم خان نے نظامت کرتے ہوئے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی پاکستان نے اور دنیائے اسلام کے لئے خدمات کو اجاگر کیا۔ تقریب سے سردار اعجاز، محمد کریم خان، فہیم متیلہ، ملک سجاد اعوان نے بھی خطاب کیا۔ تلاوت قرآن پاک یاسر متیلہ نے کی۔ آخر میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو شہید ، بیگم نصرت بھٹو، مرتضیٰ بھٹو، شاہنواز بھٹو اور کارساز کے شہداءکے لئے چوہدری محمد عالم نے فاتحہ خوانی اور دعا کروائی۔

مزید : عرب دنیا