پھر وہی استعفوں اور دھرنوں کا راگ

پھر وہی استعفوں اور دھرنوں کا راگ
 پھر وہی استعفوں اور دھرنوں کا راگ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پوری دنیا میں نئے سال کا آغاز ایک نئے ویژن اور منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جا رہا ہے ،لیکن پاکستان میں اپوزیشن کی چند جماعتیں الٹی گنگا بہانا چاہتی ہیں۔

جس طرح کوئی نکما طالب علم دو سال ضائع کرنے کے بعد امتحانات قریب آنے پر گھبرا جاتا ہے اور اس کی دعا ہوتی ہے کہ یا تو امتحان ملتوی ہو جائے یا پھر اسے نقل کرنے کے لئے کوئی وسیلہ مل جائے ،تاکہ اس کا کام چل جائے۔

اسی طرح اپوزیشن جماعتوں نے بھی پانچ سال دھرنوں اور جلوسوں میں گزار دئیے، اب بعض سیاسی جماعتیں عوامی تحریک، جس کی پارلیمنٹ میں ایک بھی سیٹ نہیں، اس کے ساتھ مل کر سسٹم کر تلپٹ کرنے کے درپے ہیں۔

پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف نے ایک دوسرے پر ان چار برسوں میں کون سا الزام ہے جو نہیں لگایا۔ کیسی کیسی کردار کشی کی اور ایک دوسرے کے لیڈروں پر گھٹیا الزامات کی سیاست بھی کی، لیکن آج یہ دونوں طاہر القادری کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے ہیں، تاکہ منفی سیاست کو پروان چڑھا کر اپنے مذموم عزائم پورے کر سکیں۔

چار برس قبل خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو صوبائی حکومت ملی تو اس نے تبدیلی کا نعرہ لگایا اور ترقی کے بڑے بلند و بانگ دعوے کئے، لیکن ساڑھے چار برس گزرجانے کے بعد بھی جب ان کی ٹوکری خالی رہی تو انہوں نے سوچا کہ کسی طرح انتشار کا ماحول پیدا کر دیا جائے تا کہ شارٹ کٹ کے ذریعے اقتدار میں آنے کا کوئی راستہ نکل سکے۔


عمران خان کو دھرنا سپیشلسٹ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ،کیونکہ انہوں نے موجودہ دور حکومت کی ابتدا ہی دھرنوں سے کی تھی۔ان کی مثال ایسی ہے کہ جب کسی شخص کو کسی جگہ نوکری ملتی ہے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ شروع میں زیادہ محنت کرے اور اپنے کردار اور افعال کے ذریعے اپنے باس اور ادارے کے سامنے خود کو جفا کش اور جاب کے لئے اہل ثابت کرے ،تاکہ اس کی نوکری بھی پکی ہو سکے اور اسے آگے چل کر ترقی ملنے کے امکانات بھی روشن ہو سکیں،لیکن عمران خان کا معاملہ مختلف ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ میں اکیس سال سے سیاست میں جدوجہد کر رہا ہوں تو پھر کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ پانی انہوں نے اس لئے یہ سیاست کی تھی کہ انہیں جب حکومت ملے تو وہ جمہوریت کو مضبوط کرنے اور جمہوری رویے اختیار کرنے کی بجائے جھگڑوں اور کردار کشی کی سیاست کے ذریعے اس ملک پر حکومت کریں گے؟

وہ اگر خیبرپختونخوا کو مثال بنا لیتے اور اس میں ترقیاتی کام کرتے جن کا فائدہ صوبے کے عوام کو پہنچتا تو کوئی ان پر انگلیاں نہ اٹھاتا۔ چار برس دھرنوں میں ضائع کرنے کے بعد اب وہ پھر سے اپنے سیاسی کزن طاہر القادری کے ساتھ جا بیٹھے ہیں ،تاکہ چور رستہ اختیار کر کے اپنے عزائم پورے کر سکیں۔


پیپلزپارٹی کا حال بھی مختلف نہیں۔ اس نے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ لندن میں میثاق جمہوریت بھی کیا تھا جس کے تحت انہوں نے ایک دوسرے کو زک نہ پہنچانے اور روایتی سیاست سے دوری کا عزم ظاہر کیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) تو اس پر کاربند نظر آئی، کیونکہ ماضی میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور مسلم لیگ(ن) کے پاس کئی ایسے مواقع آئے جب یہ ذرا سا دھکا لگاتی تو حکومت کھائی میں جا گرتی ،لیکن اس نے جمہوریت کو مضبوط کرنے اور جمہوری حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کا موقع دیا اور اس بات کا تہیہ کیا کہ عوام پانچ برس بعد انتخابات میں خود ہر جماعت کی کارکردگی دیکھ کر یہ فیصلہ کریں گے کہ اقتدار کا تاج کس کے سر پر رکھنا ہے، تاہم پیپلزپارٹی نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا اور سندھ میں جہاں اسے پانچویں مرتبہ صوبائی حکومت ملی ہے ،اس کے حالات بدلنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

آج حالت یہ ہے کہ وہاں سرکاری بد انتظامی اور کرپشن کے اتنے سکینڈل چل رہے ہیں کہ ریکارڈ ٹوٹنے والا ہے۔ صاف پانی تو بڑی نعمت ہے، کراچی والے تو پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔

عدالت عظمیٰ اس پر نوٹس لے چکی ہے اور صاف پانی پراجیکٹ کے چیئرمین کے خلاف کیس بھی چل رہا ہے کہ انہوں نے اپنے لئے ساڑھے تین کروڑ کی گاڑی کیوں منگوائی، جبکہ صاف پانی کا پراجیکٹ شروع ہونے سے قبل ہی کرپشن اور اقربا بروری کی نذر ہو گیا۔


کون نہیں جانتا کہ حال ہی میں جو عوامی تحریک نے اے پی سی کروائی ہے: اس کا مقصد سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف دلانا نہیں، بلکہ ان بیرونی عزائم کی تکمیل ہے جن کے لئے طاہر القادری پہلے بھی کئی مرتبہ پاکستان آ چکے ہیں۔

وہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں بھی ایک دھرنا دے چکے ہیں اور اس کا انجام بھی سب کو یاد ہو گا؂ جب انہوں نے پانچ چھ دن مسلسل اپنے لوگوں کو سردی اور بارش میں بٹھائے رکھا اور اس دھرنے میں سے کچھ بھی نہ نکلا۔

وہ کینیڈا سدھار گئے اور ان کے لوگ دھرنے میں بیمار ہو کر انہیں کوستے رہے۔ پھر عمران خان کے ساتھ مل کر انہوں نے حکومت گرانے کی کوشش کی، لیکن ان کی یہ کوشش بھی رائیگاں چلی گئی ،کیونکہ وہ جن قوتوں کی آس لگائے بیٹھے تھے: انہوں نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور جمہوریت کی بالاد ستی کے حق میں فیصلہ دیا۔

طاہر القادری کو اگر انصاف چاہیے تو انہیں اپنا یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں لے جانا چاہیے اور وہاں اپنی جدوجہد کرنی چاہیے ۔ عمران خان جنہیں سپریم کورٹ نے صادق اور امین قرار دیا ہے۔ انہیں طاہر القادری کے ساتھ سڑکوں پر عدالت لگانے کی بجائے طاہر القادری کو لے کو عدالت عظمیٰ کا رخ کرنا چاہیے۔

عمران خان اور زرداری کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے پیچھے لگ کر اپنی سیاسی جدوجہد کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں ،کیونکہ قادری صاحب کی نہ توکسی اسمبلی میں نمائندگی ہے اور نہ ہی وہ عوامی رہنما ہیں۔

انہوں نے تو اپنا مقصد پورا ہوتے ہی کینیڈا کی فلائٹ لے کر نکل جانا ہے، نقصان تو ان دونوں کو ہو گا جو بظاہر سیاسی اور عوامی لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان کا عمل ان کی سوچ سے میل نہیں کھاتا۔

نیا سال شروع ہو چکا، بہتر ہو گا یہ تینوں جماعتیں جمہوریت کی مضبوطی اور استحکام کے لئے کام کریں، سڑکوں اور دھرنوں کی سیاست سے باز رہیں اور روز روز استعفے مانگنے کی بجائے اپنے صوبوں میں عوام کی بہتری کے لئے کام کریں، تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

مزید :

رائے -کالم -