نیا سال اور دھرنے

نیا سال اور دھرنے
 نیا سال اور دھرنے

  

علامہ طاہر القادری کی سربراہی میں ملک کی 40چھوٹی بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کئی گھنٹے سر جوڑ کر بیٹھے۔تمام قائدین نے جوشیلے انداز میں تقریریں کیں۔شیخ رشید نے کہا کہ نواز شریف کو رائے ونڈ سے پکڑ کر لے آئینگے۔ قمر الزمان کائرہ نے کہا ہم شہداء ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کو انصاف دلائیں گے۔ پی ٹی آئی کے وفد نے کہا ہم اپنا خون کا آخری قطرہ بہا دینگے مصطفیٰ کمال نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا۔ جبکہ طاہرالقادری نے خطابت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔شریف برادران کی بچپن سے لیکر اب تک کی تمام غلطیاں گستاخیاں ایک ایک کر کے گنوائیں اور آخر میں اعلامیہ پڑھنے کا اعزاز قمرالزمان کائرہ کو نصیب ہوا۔اعلامیہ کے مطابق تمام جماعتوں کے قائدین ایک ہفتے کے بعد پھر اسی طرح سر جوڑ کر بیٹھیں گے 40 جماعتوں نے سپریم کورٹ سے یہ بھی استدعا کی کہ اب ماڈل ٹاؤن کے مسئلہ پر جے آئی ٹی بنائی جائے اور عمل درآمد کے لیے ایک نگران جج مقرر کیا جائے۔آخر میں راناثناء اللہ سے استعفیٰ دینے اور شریف برادران کو نیا این آر او نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ قارئین یاد رہے کہ 40جماعتوں کا یہ نمائندہ اجلاس ماڈل ٹاؤ ن و قوعہ سے تقریبا3سال بعد ہو رہا ہے۔پیپلز پارٹی اس سے قبل اس ایشو پر جمہوریت کو بچانے کے نام پر شریف برادران کے ساتھ تھی ۔اب آصف علی زرداری کو اچانک پتہ چلا ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں بہت ظلم ہواتھا،حیرانگی کی بات یہ ہے کہ پوری قوم کی نظریں طاہرالقادری کی سربراہی میں 40جماعتوں کی اے پی سی پر لگی ہوئی تھیں مگر 40جماعتوں کے قائدین نے بڑے معذرت خواہانہ انداز میں رانا ثناء اللہ کے استعفے کے مطالبے پر بات ختم کر دی۔اور جواب میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف استعفی دینے سے انکار کیا بلکہ یہ بھی کہہ دیا کی انکی عوامی تحریک کے قائدین سے کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں تمام معاملات طے پا گئے تھے بس قصاص کی رقم کم زیادہ کرنے اور مطلوبہ رقم کو خاص جگہ ٹرانسفر کرنے کے ایشو پر معاملہ خراب ہو گیا۔پی اے ٹی کے ساتھ ڈیل کے حوالے سے رانا ثناء اللہ خان نے پہلی بار دعویٰ نہیں کیا،اس سے قبل بھی وہ کئی بار یہ بات میڈیا پر کہہ چکے ہیں ،اور جوابا عوامی تحریک کی طرف سے تردید آجاتی ہے حالانکہ عوامی تحریک کو ایسے سنگین الزام پر رانا ثناء اللہ کو عدالت میں لے کر جانا چاہیے تھا ۔قارئین آج کل ن لیگ دعویٰ کرتی ہے کہ پاکستان کی سیاست نواز شریف اور اینٹی نواز شریف ہو گئی ہے۔مجھے تو ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے بار بار رانا ثناء اللہ کے خلاف دھرنے دینے اور استعفے کا مطالبہ کرنے کے بعد لگ رہا ہے کہ ملکی سیاست رانا اثناء اللہ اور اینٹی رانا ثناء اللہ ہوچکی ہے۔ رانا ثناء اللہ فیکٹر ملکی سیاست میں بہت اہم ہوچکا ہے۔40جماعتیں بمع درجنوں گدی نشینوں کے قائدین اور مولانا سیالوی سمیت تمام حضرات نے رانا ثناء اللہ کے خلاف بار بار احتجاج کر کے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کر کے ان کو پنجاب کے وزیر قانون سے اٹھاکر ایک بین الاقوامی شخصیت بنا دیا ہے۔اس وقت جب پاکستان کی 40سے زائد سیاسی اور مذہبی جماعتیں رانا ثناء اللہ کے استعفے کا مطالبہ کررہی ہیں عین اسی وقت امریکہ انگلینڈ سمیت موثر ترین لابیاں رانا ثناء اللہ کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں کہ رانا ثناءء اللہ پاکستان میں اتنے اہم کیوں ہیں؟ یہ بات اپنی جگہ پر اہم ہے کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف جاری احتجاج کا انہیں فائدہ ہی ہوا ہے ۔اس حوالے سے ان دوستوں کو سوچنا چاہیئے جو اسی پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔آج 40جماعتوں کے قائدین کو رانا ثناء اللہ سے استعفے کا مطالبہ کرنے کے بجائے اس نظام کو تبدیل کرنے کے بارے میں سوچنا ہوگا جو تین سال کے بعد کسی مظلوم کو انصاف نہیں دلا سکا۔اس پر بھی بحث ہونی چاہیے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے معاملے کو مدعی کی طرف سے خراب کیا گیا یا پھر حکومت ذمہ دار ہے؟اگرسانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو عجیب و غریب صورتحال سامنے آتی ہے۔مثال کے طور پر40جماعتوں کے مشترکہ اعلامیہ میں 14افراد کی شہادتوں کا ذکر ہے ۔ایف آئی آر نمبری696/14میں کل مقتولین 8لکھے گئے ہیں جبکہ بعد ازاں عوامی تحریک کی طرف سے ایک سال نو ماہ بعد جو عدالت میں استغاثہ دائر کیا جاتا ہے اس میں مقتولین کی تعداد 10لکھی جاتی ہے،اے پی سی کے اعلامیہ سے لیکر آج تک میڈیا میں جو بیانیہ چلتا رہا اس میں 14شہیدوں کا ذکر کیا جاتا ہے میں نے ذاتی طور پر کئی پروگرامز میں 14افراد کے قتل کا ذکر کیا اسی طرح ایف آئی آر میں کل ملزمان 24ہیں استغاثہ میں کل ملزمان 139لکھے گئے ہیں ۔زخمی افراد جو ایف آئی آر کے مطابق ہیں انکی تعداد 53ہے جبکہ استغاثہ کے مطابق 66ہیں۔گواہان ایف آئی آرکے مطابق 57ہیں استغاثہ کے مطابق 127ہیں۔یہ سب کیا ہے؟اور کیوں ہے۔اور سب سے بڑی بات جو ابھی تک عام آدمی کو ہضم نہیں ہو رہی کہ پی اے ٹی جیسی منظم جماعت نے آخر اس مقدمہ کی پیروی کے حوالے سے سستی کا مظاہرہ کیوں کیا؟اس مقدمے کو قانونی کے بجائے سیاسی کیوں بنانے پر فوکس رکھا گیا ؟اب بھی یہ مقدمہ سیاسی انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ ہلاک تو ہوئے ہیں کیمرے کی آنکھ نے بہت کچھ دکھایا بھی ہے سیاست کیساتھ ساتھ اس مقدمہ کو قانونی طور پر بھی لڑنے کی ضرورت ہے۔تا کہ مقتولین کے ورثاء کو انصاف اور ان کے دل کو قرار مل سکے۔اسی طرح پی اے ٹی نے میاں نواز شریف ۔چوہدری نثار علی خان ،اور پرویز رشید سمیت ن لیگ کی پوری کی پوری قیادت کو نامزد کر کے خود ہی مقدمہ کو کمزور کر لیا ہے۔کیونکہ جب حقائق سامنے آئیں گے تو یہ ثابت کرنا مشکل ہو گا کہ یہ تمام لوگ وقوعہ کے روز کسی جگہ میٹنگ میں ہم مشورہ ہو کر پلان کر رہے تھے یا پھر لاہور میں موجود تھے۔جہاں تک رانا ثناء اللہ کے استعفے کی بات ہے وہ ایک تربیت یافتہ سیاسی ورکر ہیں جن کے اعصاب خاصے مضبوط ہیں وہ اس سے قبل بھی کافی سختیاں اور مشکلات بھگت چکے ہیں۔پنجاب اسمبلی میں ایک ادارے کے خلاف تقریر کرنے پر انکی کمال قسم کی خاطر مدارت کی جا چکی ہے وہ جب اغوا اور خاطر مدارت کے بعد واپس آئے تو اگلے دن پھر پنجاب اسمبلی میں پہنچ گئے اور انہوں نے اپنی گفتگو وہیں سے شروع کی جہاں پر اغوا سے قبل ختم کی تھی۔رانا ثناء اللہ ایک مضبوط اعصاب کا مالک ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں جوانی میں انکو کسی نے پیٹ میں خوفناک حد تک چھریاں مار دی تھیں، تو موصوف کی پیٹ سے آنتیں باہر آگئیں اُنہوں نے خود ایک ہاتھ سے اپنے پیٹ کو پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے رکشہ روک کر ہسپتال جا پُہنچے۔ایسے کارکن اپنی لاش اپنے کندھے پر اٹھائے پھرتے ہیں اس سے قبل بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے معاملے پر موصوف استعفیٰ دے چکے ہیں۔اس وقت ایسی صورتحال پیدا کی گئی تھی کہ ارباب اختیار کو یقین ہو گیا تھا کہ قبر ایک اور بندے دو ہیں کسی ایک کو اس میں جانا ہے لہذا رانا ثناء اللہ کو ہی جانا تھا ان کو بھیج دیا گیا اب ایک بار پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحریک قصاص اور ختم نبوت جیسے حساس ترین مسئلے پر جاری تحریک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہدف پھر رانا ثناء اللہ ہیں۔ دباؤ دن بدن بڑھتا جائے گا،دیکھتے ہیں اس بار ،سٹیپ ڈاؤن، کی آواز کب آتی ہے ؟رانا ثناء اللہ کتابیں پڑھنے کے شوقین ہیں انکو یاد تو ہوگا کہ سیاست ایک بے رحم کھیل ہے سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔

مزید :

رائے -کالم -