دنیا کی مشہور ترین جاسوسی ناول نگار خاتون کو جب اپنے ہی شوہر کی جاسوسی کرنا پڑی تو اس کے ساتھ ایسا کام ہوگیا جس کا وہ تصوّر بھی نہیں کرسکتی تھی

02 جنوری 2018 (17:08)

لاہور (ایس چودھری )آگاتھا کرسٹی جاسوسی ناول نگاری کا ایک بڑا نام ہے جس نے66 جاسوسی ناول لکھ کر پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا ۔ان کے ناولوں پر فلمیں بھی بنیں ۔انہیں بڑی مضبوط اور ایسی شاطر ذہین عورت سمجھا جاتا تھا جس کے پاس مصائب اور مشکلات سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا تھا ۔عام طور پر جاسوسی ناول نگاروں سے یہی توقعات رکھی جاتی ہیں لیکن آگاتھا کرسٹی کی نجی زندگی اسکے بالکل برعکس تھی ۔انہیں جب اپنے شوہرکی جانب سے رنج پہنچا تو وہ دماغی توازن کھوبیٹھی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آگاتھا کرسٹی نے اپنے شوہر کی خود جاسوسی کی اور جب حقیقت معلوم ہوئی تو اسکا صدمہ برداشت نہ کرسکیں۔ دسمبر 1926ء میں آگاتھا کرسٹی اپنے مکان واقع سننگ ڈیلاس سے لاپتہ ہوگئی تھیں۔ 12دن بعد اس کے شوہر نے اس کا سراغ لگالیا۔ وہ ہیرو گیٹ کے ایک ہوٹل میں تھی۔ یہاں کے ایک ویٹر نے اسے پہچان لیا تھا۔ پریس کو بتایا گیا کہ کرسٹی عارضی طور پر اپنی یادداشت کھو بیٹھی تھی۔یہ بات درست تھی کیونکہ اس زمانے میں کرسٹی کا شوہر کسی اور عورت میں دلچسپی لے رہا تھا اور کرسٹی جذباتی صدمے کا شکار تھی۔ اس واقعہ کے بعد سے ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس پر لوگوں کی نگاہ نہیں جاسکتی تھی۔ یعنی کرسٹی کے ناولوں کی فروخت ایک دم سے بڑھنے لگی۔ معلوم نہیں کرسٹی کی یہ گمشدگی کوئی پبلسٹی سٹنٹ تھی یا کیا؟ تاہم بہت سے لوگوں کا یہی کہنا ہے۔ اس ضمن میں لطف کی بات یہ ہے کہ کرسٹی نے پھر عمر بھر کبھی اس واقعے پر کسی سے کوئی بات نہیں کی۔نہ کسی کے سوال کا جواب دیا ۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

مزیدخبریں