مستقبل کا چینل’’FITNA‘‘

مستقبل کا چینل’’FITNA‘‘
 مستقبل کا چینل’’FITNA‘‘

  

قارئین کرام! آج کل الیکٹرانک میڈیا کا بول بالا ہے۔ بدلتے وقت نے الیکٹرانک میڈیا کو آگے بڑھانا شروع کیا تو ساتھ ہی سوشل میڈیا بھی سراُٹھاتا چلا گیا۔ نئے شہسوار، نئے گھوڑے، نئے افسانے، نئے چینل اُستوار ہونا شروع ہوگئے۔

زمانے کی نظروں میں ’’اِن‘‘رہنے کے لئے، اصلِ اقتدار کے لئے میڈیا کا وجود تو ویسے ہی ناگزیر ہوتا ہے، مگر پرنٹ میڈیا نے انہیں جس مروت و شفقت کا عادی بنادیا تھا، وہ ’’ہنر‘‘موجودہ تیز رفتار میڈیا میں مفقود نظر آتا ہے۔

الیکٹرانک میڈیا نے مقتدر حلقوں کو گھورنا شروع کیا تو ناچار اقتدار والے خود ہی بھیس بدل بدل میڈیا کا حصہ بننا شروع ہوگئے۔ ابلاغیات کا گھوڑا، اپنا راستہ، اپنی منزل بھول کر، انجانے راستوں پر بھٹک گیا۔ سرپٹ بھاگتے وقت کے ساتھ میڈیا بھی کسی شترِ بے مہار کی طرح کسی طوفان کا سارنگ اختیار کرتا گیا۔

بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز نے اپنی ابلاغی اخلاقیات کے پیمانے خود ہی ایجاد کرنا شروع کردیئے۔ جوں جوں آگہی کا سیلاب سر اُٹھاتا گیا، الیکٹرانک میڈیا کھلبلی مچاتا چلا گیا۔

معنی، الفاظ کچھ ایسے گڈمڈ ہونا شروع ہوگئے کہ صرفِ دکھلاوایا گلیمر (Glamour) ہی میڈیا کے زندہ رہنے کا جواز بنتا چلا گیا۔ایک چینل کسی ’’شخصیت‘‘ کو اگر ’’نجات دہندہ‘‘ بناکر پیش کررہا ہے تو دوسرا اُسے’’منحوس و نحس‘‘ ثابت کرنے پر تلا بیٹھا ہے اُسی شخصیت پر کہیں پھول نچھاور کئے جارہے ہیں تو کہیں کیچڑ اچھالا جارہا ہے۔

کوئی مٹھائیاں بانٹ رہا ہے تو کوئی تلخیاں بکھیر رہا ہے۔ تاویلات اور بے ڈھنگی تحقیقات کا پٹارا کھولا جارہا ہے۔ غرض ہر چینل اپنی بہار، اپنی خزاں دکھا رہا ہے اور ناظر بے چارا، ریموٹ ہاتھ میں لئے، حیرت زدہ ہے کہ وہ کسے دیکھے؟ کسے سنے؟ کسے مانے؟زندگی گویا کئی رنگ لئے اُس کے سامنے آن کھڑی ہوگئی ہے۔

قارئین کرام! حالات یہ ہیں کہ میڈیا بزعمِ خود بااختیار ہوچکا ہے ’’خبر‘‘ کی جگہ’’جسارت‘‘ نمایاں ہے، ’’آداب‘‘ ذومعنی ’’القاب‘‘ میں ڈھل چکے اور ’’مشاورت‘‘ کی حیثیت احکامات کی سی ہوگئی ہے۔

ہربڑے میڈیا ہاؤس نے اپنا شیڈوگورننگ سسٹم ایجاد کرلیا ہے، اپنا ہی شیڈو جیوڈیشل سسٹم اور اپنا ہی ڈیفنس سسٹم آپ کو جو شخص ایک کاندھے پر کیمرہ اُٹھائے چلتا نظر آرہا ہے، یوں سمجھیں دوسرے کاندھے پر وہ دنیا کا نظام اُٹھائے پھررہا ہے۔

اِس منظر نامے سے قارئین! آپ کو وہ جھلک دکھلانا مقصود ہے جو آئندہ چند مہینوں یا دنوں میں آپ دیکھا کریں گے۔ مثال کے طور پر آپ جب ایک نیا چینل ’’ٹیون اِن‘‘(Tune-in) کریں گے تو مناظر کچھ ایسے بھی دکھائی اور سنائی دیا کریں گے۔

’’ناظرین! ہم چینل ’’FITNA‘‘ کی جانب سے آپ کو ویلکمWel-come کرتے ہیں، ہماری نشریات آپ کو ہمہ وقت باخبر رکھنے کا تہیہ کئے آپ تک پہنچتی رہیں گی۔

ہمارے کارکن خوب سے خوب تر کی جستجو میں مستعد ہیں۔ ناظرین! ابھی آپ کو اگلی نشریات کی تفصیل بتانے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ کچھ احمق سے ناقدین کی طرف سے ہمارے چینل کے ضمن میں زہریلا پراپیگنڈا کیا جارہا ہے۔

ہمارے چینل کے نام (FITNA) کے معنی ومفاہیم پر بے تکی سی باتیں بنائی جارہی ہیں اور احمقانہ سے تبصرے کئے جارہے ہیں۔ جو کہ دراصل انگریزی Friends International TV Net Work Alliance کا مخفف ہے۔ یہ ناقدین ہمارے چینل کے نام پر بلاجواز اعتراضات اُٹھائے جارہے ہیں یعنی’’FITNA‘‘ کو خدانخواستہ ایک شیطانی ترجمہ یعنی ’’لڑائی، جھگڑا، فساد‘‘ وغیرہ کے ساتھ منسلک کررہے ہیں۔

ناظرین! آپ غور کریں کئی اور چینلز (جوعرصہ دراز سے روبکار ہیں) وہ اپنے نام کی تشکیل میں اُردو الفاظ میں کچھ اور معنی رکھتے ہیں، جبکہ انگریزی میں کچھ اور۔۔۔ اُن پر آج تک کسی نے انگشت نمائی نہیں کی۔

افسوس!ناقدین اورحاسدین ہمیشہ سے ہر نئی اُٹھنے والی آواز کو ہدف تنقید بناتے رہتے ہیں۔ جس کی ہمیں کچھ پرواہ نہیں، کیونکہ آپ جیسے ذہین ناظرین یہ تماشے خوب سمجھتے ہیں۔بہر حال ان باتوں کو چھوڑیئے اور آج کا نیوز بلیٹن ملاحظہ فرمائیں۔

(Pause)۔۔۔ناظرین! ’’فتنہ نیوز‘‘ میں خوش آمدید، میں ہوں ’’خوشامد پرویز‘‘ اور میرے ساتھ ہیں ’’شرمیلا دلیر‘‘۔ پیش ہیں آج کی ’’ہیڈ لائنز‘‘ ۔۔۔وزیر تعمیرات کا نئے پل کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت سے گریز(صحافی سراپا احتجاج)۔۔۔وزیر اعظم کا دورۂ ’’فساد پور‘‘ منسوخ(بوجہ چند تنظیموں کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات)۔۔۔ چند ’’مفلوک الحال‘‘ شعرا کی جانب سے منعقدہ ’’محفل مشاعرہ‘‘ میڈیا کی بے رخی کا شکار(اہلِ دانش کا اظہارِ غم و افسوس)۔۔۔ اور اب ان خبروں کی تفصیل اور تردید( اوور ٹوشرمیلا دلیر)

(Pause)۔۔۔میں ہوں شرمیلا دلیر اور اب ان خبروں کی تفصیل۔۔۔ناظرین! ۔۔۔ بلاشبہ، وزیر تعمیرات نئے پُل کے افتتاح کے موقعہ پر نہایت پرجوش نظر آرہے تھے، مگر متعلقہ ’’کنٹریکٹر‘‘ کی غیر حاضری نے اُن کی طبیعت مکدر کردی۔

جس بنا پر وہ صحافی حضرات سے بغیر کسی گفتگو کے رخصت ہوگئے اس معمولی بات پر صحافی حضرات اگر احتجاج پر تل گئے ہیں تو اس میں وزیر موصوف کا کیا قصور؟۔۔۔وزیر اعظم کا ’’مشنِ امن‘‘ جاری ہے، مگر ’’فساد پور‘‘ کے رہائشی کسی طور آمادہ نہ تھے۔

وہ ’’فساد پور‘‘ میں ’’قیام امن‘‘ کا سنگِ بنیاد رکھنا چاہتے تھے، مگر چند عاقبت نا اندیش قسم کے این الوقت لوگوں نے دھمکیاں دینا شروع کردیں، جس بنا پر یہ دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ اب اس میں وزیر اعظم موصوف کیا کرسکتے تھے۔

مفلوک الحال شعرأ حضرات خود اس درفنطنی کے ذمہ دار ہیں، کیونکہ وہ محض ’’مشاعرہ‘‘ منعقد کرنا ہی باعثِ فخر سمجھتے ہیں، جبکہ میڈیا والوں کو تو ’’مشاہرے‘‘ سے غرض ہوتی ہے۔

وہ اِس بات کا علم بھی رکھتے ہیں کہ میڈیا کس مزاج میں ڈھل چکا ہے تو پھر اہلِ دانش کا اظہارِ غم و افسوس بیکار ہے۔ اہل دانش حضرات کو خود سوچنا چاہیے کہ میڈیا کیا اُن مفلوک الحال لوگوں کی Projection کرے گا جو محض لفاظی تک محدود ہیں اور جو نہ کام کے نہ کاج، دشمن فقط ’’اناج‘‘ کے۔

مزید : رائے /کالم