پیپلز پارٹی کے لئے مشکل امتحان

پیپلز پارٹی کے لئے مشکل امتحان
پیپلز پارٹی کے لئے مشکل امتحان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان کے بڑے صوبوں میں آج کل سیاسی اور سماجی سرگرمیاں ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہیں ، سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت گرائے جانے کا عندیہ ہے جس کے تحت صوبائی اور وفاقی حکومتی نمائندے آمنے سامنے آگئے ہیں جبکہ بلوچستان میں سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ، پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نیب کی حراست میں ہیں جبکہ موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اپنے صوبے میں ترقیاتی کاموں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔اگر ہم بلوچستان کی بات کریں تو یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، جو آنے والے وقت میں پاکستان کی معاشی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دشمن عناصر بلوچستان کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں، کبھی دہشت گرد حملوں تو کبھی ہمارے بلوچ بھائیوں کو ریاست کے خلاف بھڑکا کر بلوچستان کا امن خراب کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ اِس ضمن میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا حالیہ بیان کہ بلوچستان کی سیکورٹی پاک فوج کی اوّلین ترجیح ہے،

نہایت خوش آئند ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کی خوشحالی، بلوچستان کے امن و استحکام اور خوشحالی سے جڑی ہے۔ پاک فوج بلوچستان کی سیکورٹی صورتحال مزید بہتر رکھنے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، پاک افغان بارڈر پر باڑ کی تنصیب اِس ضمن میں اچھا اقدام ہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را سمیت درجن بھر دہشت گرد تنظیمیں سر گرم عمل ہیں۔ پاک فوج اور حکومت نے اِن مسلح تنظیموں سے وابستہ لوگوں اور دیگر انتہا پسند عناصر کو قومی دھارے میں لانے کیلئے جو ترغیبات دی ہیں اْس کے نتیجے میں سینکڑوں دہشت گرد اور شدت پسند عناصر ہتھیار ڈال چکے ہیں باقی کا قلع قمع کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سندھ کی سیاسی بساط سجائی جا چکی ہے اس ضمن میں وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری کا کھیل ختم ہوچکا، وہ جو مرضی کرلیں قوم اب بے وقوف نہیں بنے گی، علی زیدی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے لوگ خود ہمارے پاس آرہے ہیں اور موجودہ سندھ حکومت سے جان چھڑانے کی درخواست کررہے ہیں۔علی زیدی نے یہ بھی کہا کہ آصف زرداری صاحب، گیم ازاوور، انہوں نے استفسار کیا کہ آصف زرداری کے مالشی کے اکاؤنٹ بھی 8 ارب روپے سے زائد کی رقم تھی وہ کہاں سے آئی؟اس حوالے سے سندھ اور وفاقی حکومت آمنے سامنے آگئی ہے اورسندھ میں سیاسی جوڑتوڑ عروج پر پہنچ گیا ہے‘فواد چوہدری بھی تین روزہ دورہ پر کراچی پہنچ گئے ہیں‘

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو سمیت سندھ میں کسی کو گرفتار نہیں کریں گے، گرفتاری کے خدشات ظاہر کرنے والے اپنی کرتوتوں کی وجہ سے گھبراہٹ کا شکار ہیں‘ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت گرانا نہیں چاہتے ، پیپلز پارٹی نیا چیف منسٹر لے آ ئے کیونکہ موجودہ وزیراعلیٰ کا نام جے آئی ٹی رپورٹ کی وجہ سے ای سی ایل میں آ چکا ہے۔دوسری جانب تحریک انصاف کی قیادت نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ پر مستعفی ہونے کے لئے دبا ؤبڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ اس سلسلے میں فواد چوہدری کراچی اور اندرون سندھ دورہ کے دوران پیر پگاڑا،لیاقت جتوئی، ذوالفقار مرزا ، فہمیدہ مرزا، ایاز پلیجو اور دیگر رہنماں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ اور سندھ کے سیکریٹری اطلاعات عاجز دھامراہ نے کہا ہے کہ کوئی مائی کا لال سندھ حکومت نہیں گرا سکتا اگر عمران نیازی تھرڈ ایمپائر کے انتظار میں ہے تو وہ بھی سندھ حکومت کو نہیں گراسکتے‘

سندھ حکومت پر ڈاکہ ڈالا گیا تو وفاقی حکومت کو بھی نقصان ہوگا‘ ہمارے ورکرز الرٹ ہیں۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ سندھ میں سیاسی درجہ حرارت گرم ہے‘ انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے جانے والے قافلوں سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے جو سیاسی منظر نامہ پیش کیا اس کے مطابق انہوں نے عوام کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ۔نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے کہا کہ سلو موونگ آمرانہ دور کے کپتان عمران خان سے مزاحمت کریں گے بلاول بھٹو کا اتنا کہنا تھا کہ اسی دن 172لوگوں کی لسٹ آجاتی کہ جن کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا‘بلاول بھٹو پبلک آفس ہولڈر نہیں لیکن ان کا نام بھی ای سی ایل لسٹ میں ہے‘ پھر دو دن بعدایف آئی اے اصغر خان کیس سے دستبردار ہو نے کی سفارش کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معیشت میں روز زلزلے آرہے ہیں‘اس ملک کے خزانہ میں 7

.9ارب ہیں‘ 4 ماہ ہو گئے ہیں آپ ذمہ داری نہیں لے رہے‘پی ٹی آئی کے وزراء کے پاس گالیوں کے سوا کچھ نہیں ہے‘آپ کی نیت بس یہ ہے کہ فیڈریشن کو نقصان پہنچائیں‘کس قانون کے تحت واٹر کمیشن آیا ہے؟وقت آنے پر گرفتاریاں بھی دیں گے۔پیپلز پارٹی کے دوسرے نمائندوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت سندھ آرہی ہے تو انہیں خوش آمدید کہتے ہیں‘ لیکن فساد کی اجازت نہیں دیں گے اور ویسے بھی جمہوریت پسند عوام آپ کے فساد کا جواب دینے کی بھرپور قوت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں انڈر 16سمجھتے ہیں‘ یہ کھیلنا چاہتے ہیں تو ہم کھیلانا جانتے ہیں‘ یہ بچے ہیں جب بڑے ہوں گے تو پتا چلے گا سیاست کیسے کی جاتی ہے۔

حکومت گرانا نیازی صاحب کے بس کی بات نہیں ہے اور ویسے بھی عمران خان کی وفاقی حکومت تو خیراتی بیساکھی پر کھڑی ہے اگر ہم نے لسٹ فراہم کر دی کہ آپ کے کتنے ایم این ایز ہم سے رابطے میں ہیں تو آپ کو دورے پڑ جائیں گے۔ادھر صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اپنی کابینہ کو لے کر بہاولپور پہنچ گئے جہاں انہوں نے جنوبی پنجاب کو دی جانے والی سہولیات کو دیکھا اور وہاں ایک کمیٹی بنا دی ہے جو جنوبی پنجاب کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرے گی اور وہاں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا ۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت سب سے زیادہ سیاسی گرمی سندھ میں محسوس کی جا رہی ہے اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے وہ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن یہ ضرور نظر آ رہا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ کی صوبائی حکومت کو ختم کرنے کا مکمل ارادہ کر چکی ہے ۔سندھ کی صوبائی حکومت فوراً ختم ہو جائے گی یا سندھ کی عوام اس عمل میں مزاحمت کرے گی ، یہ سب کچھ سیاستدانوں پر منحصر ہوگا کہ وہ عوام کو کیا پیغام دیتے ہیں ۔

مزید :

رائے -کالم -