نئے سال سے توقعات1

نئے سال سے توقعات1

  



2019ء رخصت ہو گیا، اور2020ء کا سورج اُفق پر چھا گیا۔گذرنے والا سال کئی صدمے دے گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہوا، اس پر اہل ِ کشمیر ہی کے نہیں اہل ِ پاکستان کے دِل بھی بجھے ہوئے ہیں۔ یہ کہیے کہ جہاں جہاں آزادی پسند انسان بستے ہیں، اور دِل میں انسانیت کا کچھ نہ کچھ درد بھی رکھتے ہیں، وہاں وہاں اہل ِ کشمیر کی بپتا کا احساس کیا جا رہا ہے۔دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ رکھنے والی مملکت…… بھارت…… نے لاکھوں افراد کے گھروں کو ان کے لیے قید خانوں میں تبدیل کر رکھا ہے۔نئے سال کا سورج اس ستم کے150ویں دن کے ساتھ طلوع ہوا ہے۔وہاں معمولاتِ زندگی بحال نہیں ہو پا رہے۔مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے وادی اور لداخ کے الگ الگ انتظامی یونٹ بنا دیے گئے ہیں، اس علاقے کی ریاستی حیثیت ختم کر دی گئی ہے، اور نئی دہلی براہِ راست انتظامی کنٹرول سنبھال چکا ہے، گویا اس ریاست کو اتنی خود مختاری بھی میسر نہیں رہی جو بھارت کے صوبوں کے پاس ہے۔اس شر سے خیر البتہ یہ برآمد ہوئی ہے کہ اہل ِ کشمیر بھارت کے خلاف یک آواز ہیں،ان میں سے جو بھارت کے ساتھ الحاق کے حامی رہے تھے، اور جن کو موروثی سیاست نے یہی سکھایا تھا ان کی بھی آنکھیں کھل چکی ہیں۔ انہوں نے بھی بھارت کا جوا اتار پھینکا ہے۔ ان کے اندر بھی جذبہ ئ حریت بیدار ہو رہا ہے کہ ان کے لئے بھارتی حکومت کے پاس قید و بند کی صعوبتوں کے سوا کچھ نہیں۔ مقبوضہ ریاست میں اب بھارت اور آزادی کے حوالے سے دو آرا نہیں رہیں، ایسا ”اجماع“ اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا تھا…… دُعا کی جانی چاہیے اور امید کی جانی چاہیے کہ نئے سال کا کوئی دن اہل ِ کشمیر کے لیے وہ کچھ لے کر طلوع ہو گا،جو اہل ِ پاکستان اور اہل ِ بھارت برسوں پہلے حاصل کر چکے ہیں۔اپنے فیصلے آ پ کرنے کا حق۔اس مقصد کے حصول کے لیے اہل ِ پاکستان سے اہل ِ کشمیر کو جو توقعات ہیں بلکہ یوں کہیے کہ اہل ِ پاکستان کو اپنے ”کرتاؤں دھرتاؤں“سے جو توقعات ہیں انہیں ان پر پورا اترنا ہو گا۔ اپنے آپ کو بدلنا ہو گا۔اپنی سیاست کو بدلنا ہو گا،اور اپنے انداز کو بدلنا ہو گا…… یہ ہمارے رہنما، سیاسی ہوں یا مذہبی، یا دونوں میں قیادت کا دعویٰ رکھتے ہوں، آزای کی اس نعمت کا احساس نہیں کر پا رہے جو ان کو حاصل ہے، اور یہ بھی احساس نہیں کر پا رہے کہ اہل ِ کشمیر کو اس میں شریک کرنے کے لیے کس سطح اور کس درجہ کی صف بندی درکار ہے۔یہ مانا کہ پاکستان ایک کثیر الجماعتی ملک ہے۔ یہاں کا دستور ہر شہری کو جماعت بنانے یا کسی جماعت میں شامل ہونے کا حق دیتا ہے۔یہ جماعتیں حصولِ اقتدار کے لیے جدوجہد کرنے کا حق بھی رکھتی ہیں۔اس کے لیے انتخابات میں حصہ لے سکتی اور ایک دوسرے کو شکست دینے کے ارمان پال سکتی ہیں۔ایک دوسرے کے لتّے لے سکتی ہیں،اور ایک دوسرے سے کشتی لڑ سکتی ہیں۔ایک دوسرے کو للکار سکتی ہیں، اور ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈے کی مہم چلا سکتی ہیں لیکن انہیں اپنے اختلاف کو مخالفت بلکہ مخاصمت میں تبدیل کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ فاؤل کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔ایک دوسرے کے خلاف دھونس اور دھاندلی کے حربے اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ قوم کو مستقل طور پر تقسیم کرنے کی اجازت نہیں ہے،اور اس کے اندر دشمنی کا زہر پھیلانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اقتدار کی لڑائی لڑنے والے جو بھی خواب دیکھیں اور دکھائیں۔ انہیں اہل ِ وطن کو خانوں میں بانٹنے اور دوسروں کی تکلیف کو اپنی راحت بنانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ایک ملک کے رہنے والے، ایک جغرافیے پر یقین رکھنے والے، ایک چھت کے تلے سانس لینے والے، اور ایک ہی گھر میں بسیرا کرنے والے ایک دوسرے کی عزت، مال اور جان کے دشمن نہیں ہوتے۔انہیں نقصان پہنچانے کی تاک میں نہیں رہتے۔ان کی عزت سانجھی ہوتی ہے،ان کی جان سب کے لئے محترم ہوتی ہے، وہ حملہ آوروں کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار بن کر دکھاتے ہیں، لیکن حلقہ یاراں میں ابریشم کی طرح نرم ہوتے ہیں۔ پاکستان میں الحمد للہ اس وقت کئی سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے آپ کو منظم کیے ہوئے ہیں۔ ان میں حکومت کرنے والے بھی شامل ہیں، اور ان سے اختلاف کرنے والے بھی، لیکن پاکستان نے انہیں ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔ اپنی آزادی کی حفاظت ان پر یکساں طور پر واجب ہے،اس کے لئے جان لڑا دینا سب پر لازم ہے۔ 2019ء کا سال ان جماعتوں کو، ان کے رہنماؤں کو، اور ان کے کارکنوں کو ایک دوسرے سے برسر پیکار دیکھ چکا ہے۔اسے افسوس ہے کہ اہل ِ کشمیر پر جو گذر رہی ہے،اس نے پاکستانی سیاست کے روز و شب پر وہ اثرات مرتب نہیں کیے جو ہونا چاہئیں تھے۔ پاکستان کے رہنماؤں کو، ذمہ داروں کو، بااختیاروں کو، مقتدر اداروں کو ہر دم سجدہئ شکر بجا لانا چاہیے کہ یہاں کے کھیت کھلیان، مسجدیں، میدان، پہاڑ اور بیابان آزاد ہیں۔وہ اپنی مرضی سے یہاں اپنے اپنے کام کرنے (یا دکھانے) کی چھوٹ رکھتے ہیں۔ ان کی فضائیں اور ہوائیں بلا شرکتِ خیرے ان کی اپنی ہیں،جب کہ کشمیر میں یہ سب کچھ بھارت نے اپنی مٹھی میں لے رکھا ہے۔ سجدہئ شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس عزم کی ضرورت تھی، اور ہے کہ جب تک اہل ِ کشمیر قید سے آزاد نہیں ہوں گے، جب تک مقبوضہ علاقے کو تازہ ہوا نہیں ملے گی، جب تک وہاں کی وادیوں اور پہاڑوں پر اہل ِ کشمیر کی اپنی حکمرانی نہیں ہو گی، تب تک ان کے پاکستانی بھائی اپنے اختلافات کو ایک حد میں رکھیں گے۔ اپنے گروہی، جماعتی اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اولین ترجیح مقبوضہ کشمیر کی آزادی کو بتائیں گے، اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،جب تک سری نگر اور اسلام آباد کا معانقہ نہیں ہوتا۔ وہ اکٹھے بیٹھ کر اپنے فیصلے نہیں کر پاتے،اور یک جا ہو کر اپنی تقدیر سوارنے کے لیے برسرِ عمل نہیں ہو جاتا۔

2020ء سے بہت سی توقعات قائم کی جا سکتی ہیں، اور 2020ء بھی ہم سے بہت سی توقعات قائم کر سکتا ہے لیکن اولین ترجیحی ہی ہونی چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات ختم ہو، اس کے لیے وہ سب کچھ کر گذرنا ہو گا جو ہمارے بس میں ہے۔بے بسی سے تماشہ دیکھنے والوں کو نہ پہلے کسی نے کچھ دیا ہے، نہ آئندہ مل پائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...