مزید مہنگائی کا انتظام!

مزید مہنگائی کا انتظام!

  



حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کر دیا۔ پٹرول 2.61، ڈیزل 2.25 اور مٹی کا تیل 3.10روپے فی لیٹر بڑھ گیا۔زیادہ اضافہ ایل پی جی کے نرخوں میں ہوا جو 23.56روپے فی کلو ہے اور اب گھریلو سلنڈر 1792 روپے کا ہو گیا ہے۔ حکومت نے اس بار کراچی والوں پر بھی نظر ڈالی اور کے الیکٹرک کو 4روپے 87پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی کرکے فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ سب معمول کے مطابق کیا گیا جبکہ کراچی کے سوا باقی صارفین کے لئے قریباً پونے دو روپے فی یونٹ بجلی ہر ماہ مہنگی کی جاتی ہے، جسے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کا نام دیا گیا ہوا ہے۔ مستقل اضافہ اس سے الگ ہے اور بجلی کے نرخ 24روپے فی یونٹ تک پہنچ جاتے ہیں، تاہم بجلی کی اصل قیمت کے قریب قریب ٹیکس بھی شامل ہوتے ہیں اور صارف کو استعمال شدہ بجلی سے دوگنا بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ اب جو ایل پی جی بڑھائی گئی ہے تو شاید اس کی وجہ مارکیٹ کے نرخ ہیں کہ گیس کے بحران کی وجہ سے ایل پی جی مہنگی ہو کر 161روپے فی کلو تک بک رہی تھی۔وزیراعظم پاکستان نے عوام کو خوشخبری دی تھی کہ نئے سال میں ان کو سہولتیں دی جائیں گی کہ گزرے سال میں معیشت کا استحکام ضروری تھا جو ہو چکی۔ اب جو نرخ بڑھے، ان سے پہلے گیس اور بجلی کے نرخ بڑھائے جا چکے تھے اور یوں عوام پر دہرا تہرا بوجھ پڑا ہے۔ اس کے باوجود وزیراعظم نے عوام سے کہا ہے کہ ”گھبرانا نہیں“، اب یہ جو نرخ بڑھے ہیں تو ان سے گرانی میں اضافہ یقینی ہے، جب آمدنی نہیں بڑھے گی اور اخراجات بڑھتے چلے جائیں گے تو توازن کیسے پیدا ہو گا، ایسے تمام اقدام دراصل آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لئے اٹھائے جا رہے ہیں، ان کی وجہ سے خرانے میں تو اربوں روپے آ جائیں گے لیکن اثرات عام زندگی پر ہوں گے کہ اشیاء ضرورت اور خوردنی مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ یوں عام آدمی کو نئے سال میں بھی کسی سہولت کی آس نہیں اور اسی پر لوگ مضطرب اور احتجاج کر رہے ہیں۔ اگر سارا بوجھ عوام پر منتقل کرکے ہی معیشت نے مستحکم ہونا تھا تو پھر حکومت کی بہت بڑی معاشی ٹیم کی ضرورت کیا تھی، ایسا تو ایک عام شہری بھی کر سکتا تھا۔ حکومت اور وزیراعظم کو غور کرنا ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...