نیا سال، عوام اور کرپشن!

نیا سال، عوام اور کرپشن!
نیا سال، عوام اور کرپشن!

  



سال نو (عیسوی) کی پہلی تحریر، لکھتے وقت خیال تھا کہ سب کی طرح ہم بھی گزرے سال کا مختصر تجزیہ اور نئے سال کے حوالے سے خوش گمانی پیدا کریں، لیکن لکھتے وقت ذہنی رو بہک سی گئی اور خیال آیا کہ حکومت وقت تو ”کرپشن مٹاؤ“ پر قائم ہے اور اس کی اس سال بھی توجہ اسی طرف رہے گی۔ وزیراعظم نے بھی یہی کہا ہے اور اب تو انہوں نے دہرایا ہے کہ ”این آر او نہیں دوں گا“ اور ”نہیں چھوڑوں گا“ یوں بات تو یہی آ گئی ہے اب مہنگائی، بے روزگاری، جرائم، تو سب پھر سے پیچھے رہ گئے اور نئے سال کا تحفہ بھی یہ ہے کہ ”گھبرانا نہیں“ حالانکہ پٹرولیم، بجلی اور گیس کے نرخ بڑھا دیئے ہیں تو اس میں گھبراہٹ کی کیا بات ہے۔ ہم تو پھر بھی اسی تنخواہ پر کام کریں گے۔ پھر بھٹک گئے ہم نے تو سب کچھ چھوڑ کر کرپشن کی بات کرنا تھی، تو قارئین! وزیراعظم عمران خان اپنے کہے پر قائم ہیں اور وہ کرپشن کا قلع قمع کرکے”گناہ گاروں“ کو جہنم واصل کرکے اور لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لا کر ہی دم لیں گے تو چلئے ہم بھی ایسی ہی بات کر لیتے ہیں کہ سال نو ہے۔

قارئین! کرپشن کی جہاں تک بات ہے تو نیب نے محمد نوازشریف،محمد شہبازشریف اور ان کے خاندان والوں کے خلاف کیسز بنائے اور ریفرنس بھی دائر کئے ہیں۔ محمد نوازشریف، مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر سزا یافتہ اور ضمانت پر ہیں۔ دوسری طرف آصف علی زرداری، فریال تالپور سے لے کر خورشید شاہ اور پیپلزپارٹی کے متعدد سرکردہ حضرات بھی زد میں ہیں اور بعض دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمات درج اور تحقیقات ہو رہی ہیں، رانا ثناء اللہ تو ایک ایسے کیس میں پھنسے جس میں بچت کا کوئی پہلو نہیں، لیکن وہ بھی ضمانت پر باہر آ گئے اور اب اینٹی نارکوٹکس اور کابینہ کے اراکین کے درمیان تلخی پیدا ہوئی ہے۔ وزیردفاع بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کے ساتھ تو یہ الفاظ موسوم کئے گئے ہیں …… ”عدالت کو قسمیں نہیں ثبوت چاہیے“۔گستاخی معاف! بات سے بات نکلتی چلی آ رہی ہے، بہرحال بات تو کرپشن کی، جناب! بڑے تو مبینہ کرپشن کے کیسز بھی بھگت رہے ہیں، لیکن جو کرپشن نچلی سطح پر ہے اور اب بھی ہر روز جاری ہے اس کا کیا کیا گیا ہے کچھ علم ہی نہیں،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ ادارے جو براہ راست عوام سے ”ڈیل“ کرتے ہیں وہ تو مادر پدر آزاد ہو گئے ہیں، نیب کا دائرہ کار ان تک ہے نہیں اور اینٹی کرپشن کا محکمہ خود بھی زیر الزام ہے۔ ایسے میں عوام روز لٹتے ہیں۔ ان کی شکایات کا ازالہ کیسے ہو گا اور یہ جو خود غرض لوگ سرکاری سڑکوں، گرین بیلٹوں اور درختوں تک کے دشمن ہیں ان کو کون پوچھے گا۔

اگر آپ صبح کو ہمارے ساتھ گھر سے نکلیں تو سب سے پہلا واسطہ تو کوڑے کے ڈھیروں سے پڑے گا اور آپ ناک پر رومال رکھ کر تعفن سے بچنے کی کوشش پر مجبور ہوں گے۔ باہر نکل کر سڑک پر آئیں تو سیدھے سبھاؤ آپ کی گاڑی یا آپ کی موٹرسائیکل کو کوئی بھینس یا گائے ٹکر مارنے کی کوشش کرے گی۔ آگے آپ کی قسمت کہ آپ بچ جائیں، چلیں چھوڑیں، ذرا آگے آئیں تو مصطفےٰ ٹاؤن وحدت روڈ کی مرکزی گرین بیلٹ ملے گی۔ یہ دو رویہ سڑکوں کے درمیان ایک بڑی اور چوڑی گرین بیلٹ ہے اس میں دوچار نہیں، بیس پچیس بھینسیں اور گائے پودے اور گھاس کھاتی ملیں گی۔ جب کبھی اتوار کے روز آئیں تو یہاں ایک سے زیادہ ریوڑ ہوں گے اور کسی فکر کے بغیر چرائے جا رہے ہوں گے جیسے یہ گرین بیلٹ نہیں کوئی جنگل یا چراگاہ ہے۔

ہر سال دو مرتبہ اس گرین بیلٹ میں شجر کاری ہوتی ہے اور یہ پودے کبھی بھی نہیں ابھرے کہ ان ریوڑوں کی خوراک بن جاتے ہیں۔ ان کو روکنے والا کوئی نہیں، حتیٰ کہ وزیراعظم شکایات کارٹل پر کی گئی شکائت کا بھی اثر نہیں ہوا اور ٹاؤن والوں نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے۔ چلیں یہ تو علاقے کی بات ہے، اگر آپ وحدت روڈ، کینال بینک روڈ، کریم بلاک مارکیٹ اور علامہ اقبال ٹاؤن کا چکر لگائیں تو کھلی سڑکیں بھی ٹریفک کے لئے راستہ نہیں دیتیں، تجاوزات کی بھرمار ہے اور درخت کاٹ کر گرین بیلٹوں کو برباد کر دیا گیا کہ یہ سب پارکنگ بن چکی ہیں، وحدت روڈ پر شادی گھر اور سکول ہیں۔ شادی گھروں کی تمام تر پارکنگ گرین بیلٹوں میں ہوتی ہے اور تعلیمی اداروں والے بھی سروس روڈ کے ساتھ گرین بیلٹ ہی کو موٹرسائیکل سٹینڈ اور کارپارکنگ بنائے ہوئے ہوتے ہیں، ایل ڈی اے والوں نے جوہر ٹاؤن سے علامہ اقبال ٹاؤن تک کی تمام مرکزی سڑکوں کے دو طرفہ رہائشی عمارتوں کو کمرشل قرار دے دیا ہوا ہے اب یہاں مارکیٹیں، تعلیمی ادارے اور شادی گھر ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سبزے کا نشان باقی نہیں رہتا اب سوال یہ ہے کہ کسی نے ان کو پوچھا؟ کبھی نہیں، جعلی ریڈ ہوتے اور بتایا جاتا ہے کہ اتنے ٹرک سامان اٹھایا گیا جو جرمانے کے بعد واپس ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ رہائشی علاقوں کو تجارتی علاقوں میں کیسے تبدیل کیا گیا؟ پھر یہ سب گرین بیلٹس کو پارکنگ کے لئے کس قانون کے تحت استعمال کرتے اور درختوں کو کاٹ کر راستہ صاف کرتے ہیں۔

یہ تو ایل ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن کے کارنامے ہیں جو یقینا ”رشوت“ کے عوض ہی انجام پاتے ہیں، ذرا ضلع کچہری کا بھی چکر لگا لیں تو آپ کو دن میں تارے نظر آ جائیں گے جب آپ دیکھیں کہ ریڈر اور اہلمد بھی کھلے بندوں رشوت لیتے اور ہمارے وکلاء بھائی ان کو دلاتے یا خود دیتے ہیں۔ یہ ایک معمولی سی جھلک ہے ورنہ کوئی سارا ادارہ جو ”پبلک ڈیلنگ“ سے تعلق رکھتا ہے دیانت داری سے کام کر رہا ہے؟ اب آپ کرپشن ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو یہ بھی ختم کریں ادھر بھی توجہ دیں، پولیس تو بدنام ہے، پٹواری بھی معاف نہیں کرتے اور تو اور اب تو وارڈن اور ڈولفن والے بھی اس رنگ میں رنگے گئے ہیں تو محترم کپتان صاحب! کرپشن ضرور ختم کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں، ذرا ادھر بھی تو توجہ دیں کیونکہ ہمارے خیال میں نیا سال بھی ایسے ہی گزرے گا اور شہریوں پر بھاری ہو گا کہ ہر ”نئی تبدیلی“ بھی ان کی جیبوں پر بھاری گزرے گی۔ اگر ان کی جیب میں کچھ ہوا، تو؟

قارئین! آپ سے معذرت کہ ہم بہک سے گئے ہیں اور نقار خانے میں طوطی کی آواز جیسا کام کر دیا ہے۔ شائد کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات۔

مزید : رائے /کالم


loading...