این۔ آر۔ او کسے کہتے ہیں؟

این۔ آر۔ او کسے کہتے ہیں؟
این۔ آر۔ او کسے کہتے ہیں؟

  



تحریک انصاف کی حکومت جب بھی عوام کو مستقبل کیلئے ”اچھی“ خبر دیتی ہے ٹھیک اسی دن عالمی بنک اور کبھی آئی ایم ایف اپنا پالیسی بیان جاری کردیتے ہیں جو عوام کیلئے ایک شدید ”جھٹکا“ہوتا ہے۔ اب بھی وزیراعظم عمران خان سمیت تمام حکومتی ذمہ داروں نے یہ خوشخبری دی تھی کہ 2020ء کے آغاز سے اچھی خبریں آنا شروع ہوگی اور عوام کو ریلیف ملنا شروع ہوجائے گا۔ ڈالر کی اڑان رکے گی تو روپیہ مستحکم ہوجائے گا جس سے روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہو گی۔ مگر کیا ہو آئی ایم ایف کا جس نے محض چند روز قبل چالیس کروڑ ڈالر سے زیادہ قرضے کی دوسری قسط جاری تو کردی ہے مگر ساتھ ہی آئندہ سال کیلئے اقتصادی اعشاریوں کی وضاحت بھی کردی ہے کہ ڈالر کی اوسط شروع مبادلہ 160سے زیادہ تک ہوسکتی ہے جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قیمت 172تک کی پیشن گوئی بھی ابھی تک اپنی جگہ موجود ہے اللہ کرے گا ایسا نہ ہو مگر اس بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے روپے کی گراؤٹ مزید 3.8تک کرنے کا عندیہ دیا ہے جو اقتصادی صورت حال کو مزید خراب کرنے کیلئے کافی ہوگا جس سے یہ انداز ہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ آئندہ سال مہنگائی کا سیلاب مزید مشکلات اختیار کرسکتا ہے آئی ایم ایف کا یہ بھی کہنا ہے بلز ٹیکسیشن، بجلی وگیس سمیت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کاروبار کی لاگت میں اتنا اضافہ ہورہا ہے کہ برآمدات بڑھتے کی بجائے کم ہورہی ہیں افراط زر 13فیصد کی بلند ترین سطح پر اب بھی موجود ہے اور اب حکومتی عہدیداروں کی طرف سے ایک مزید منی بجٹ دینے کا عندیہ دیا جارہا ہے جس میں 150ارب روپے کے مزید نئے ٹیکس لگائے جارہے ہیں جو اقتصادی صورت حال کو مزید خراب کرنے میں ”معاون“ ثابت ہوں گے۔

اس کا اثر کیا ہوگا اس کے خیال سے پریشانی کا کرنٹ دوڑ جاتا ہے۔ لیکن کیا کہتے ہیں حکومت اور اس کے کرم فرماؤں کے کہ وہ نیب قوانین کے حوالے سے جاری ہونے والے صدارتی آرڈیننس کے دفاع میں بھی ایسی الٹی سیدھی بیان بازی کررہے ہیں۔ جس سے حکومت کا امیج مزید خراب ہورہا ہے ادھر اپوزیشن نے بھی اس ایشو پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے مگر مجال ہے جو کسی ذمہ داروں کے کان پر جوں بھی رینگ جائے یا وہ شرمندہ ہوں۔ اب وفاقی وزیر خارجہ بھی فرمارہے ہیں کہ ملک کے تینوں ستون اگر اپنی حدود میں رہیں تو مشکلات پیدا نہیں ہوگی، مگر سوال یہ ہے کہ وہ کن تینوں ستونوں کا ذکر کررہے ہیں کیونکہ نیب قوانین میں تبدیلی کا آرڈیننس تو انہی کی حکومت ہی لائی ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے کسی کو این آر او دیا نہ کسی کا تحفظ کررہے ہیں نیب قوانین میں ترمیم مسلم لیگ (ن) کا پرانا مطالبہ تھا اب واویلا کیوں ہے؟ وزیر خارجہ نے اب بھی یہ بات دہرائی ہے کہ ملک لوٹنے والوں کیلئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رہے اگر ان کی یہ بات درست ہے تو پھر وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں ہونے والی ایک تقریب میں یہ کیوں کہہ دیا کہ ہمارے کچھ دوست نیب کی انکوائریوں میں پھنسے ہوئے تھے اس لئے ہم نے قوانین میں ترمیم کردی ہے

اگر یہ بات درست ہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ یہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے بعد دوسرا این آر او ہوچکا ہے جسے سیاسی اور اقتصادی تجزیہ نگار ملکی معیشت کیلئے ایک مزید خطرہ قرار دے رہے ہیں جس سے وزیراعظم کے دوستوں کو تو فائدہ ہوسکتا ہے لیکن یہ عوام کی قیمت پر ہی ہوگا۔ اب ایسی صورت میں کیا ہوسکتا ہے ماسوائے کہ صبر کے ساتھ ماتم ہی کیا جائے لیکن تحریک انصاف کی حکومت کو اس پر بھی غور کرنا ہوگا کہ ان کی جماعت کا بنیادی کارکن بھی ان کے اقدامات سے ناراض نہیں تو خوش بھی نہیں ہے اور اب تو وہ سوشل میڈیا پر حکومت کا دفاع کرنے کی بجائے تنقید کا عمل بھی شروع کرچکے ہیں اور یہ عمران خان کی 22سالہ جدوجہد والی سیاسی جماعت کیلئے انتہائی خطرناک اور نقصان دہ عمل ثابت ہورہا ہے جو ان کو کوئی بھی بتا نہیں رہا، جس کا اندازہ انہیں آئندہ انتخابات میں بخوبی ہوجائے گا ادھر مخدوم جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف کی حکومت کو ایک مرتبہ پھر آڑے ہاتھوں لیا ہے

اور حکومتی کاروائیوں کو تاریخ کی بدترین انتقامی کارروائی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جس بھونڈے انداز میں جھوٹے مقدمات بے نقاب ہورہے ہیں اس سے حکومت کی رٹ ختم ہورہی ہے اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں ایف آئی اے نے مسلم لیگ (ن) کے دفتر پر چھاپہ مار کر فسطائیت کا مظاہرہ کیا اور ایک سیاسی دفتر کا تقدس خراب کیا ہے تمام سیاسی جماعتوں کو اس کی مذمت کرنی چاہیے انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو ایک فاشسٹ حکمران قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ یعنی عمران خان آنے والے دنوں میں مزید سیاسی انتقام کیلئے کارروائیاں کریں گے اور یہ عوام کی توجہ آنے والی مہنگائی کے طوفان سے ہٹانے کیلئے ہوگی انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کی کانفرنس بلانے کا مشورہ بھی دیا تھا کہ عوام کو بتایا جاسکے کہ کس طرح حکومت انتقامی کارروائیوں کی آڑ میں مہنگائی کی چکی میں عوام کو پیس رہی ہے ادھر وزیراعظم پنجاب سردار عثمان بزدار نے خانیوال میں ایک شادی میں شرکت لگے ہاتھوں میاں چنوں کا دورہ بھی کرلیا اور پہلی مرتبہ اس ضلع کیلئے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کا اعلان بھی کردیا اب یہ وعدہ کب پورا ہوتا ہے اس کیلئے وقت کا انتظار کرنا ہوگا دوسری طرف حضرت شاہ رکن عالم کے سالانہ عرس کی سہ روزہ تقریبات کا یکم جنوری 2020ء سے آغاز ہوگا وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، جو سجادہ نشین بھی ہیں عرس کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔

مزید : رائے /کالم