طلباء تنظیموں کی بحالی کا معاملہ

طلباء تنظیموں کی بحالی کا معاملہ
طلباء تنظیموں کی بحالی کا معاملہ

  



تعلیمی اداروں میں طلباء تنظیمیں طویل عرصے سے دنیا بھر میں طالب علموں کے حقوق کی پاسداری اور اُن کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرتی آئی ہیں۔ یہ تنظیمیں طلباء کی معاشرتی،معاشی،تعلیمی اور سیاسی شعور کی بیداری، ثقافتی معاونت اوررہنمائی بھی کرتی ہیں۔ بالخصوص، طالب علموں میں سماجی اور شعور کی بیداری، حقوق انسانی اور باہمی روابط کے لئے اپنی گراں قدرخدمات پیش کر تی آئی ہیں۔ پاکستان میں بھی طلباء تنظیمیں بہت فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں۔یہ تنظیمیں ملکی سیاسی عمل داری میں بھی پیش پیش رہی ہیں۔ بالخصوص طالب علموں میں لیڈر شپ کی صلاحیت اور تربیت کا کام بطریق احسن کرتی رہی ہیں۔یہ تنظیمیں جمہوری عمل میں سٹوڈنٹ لیڈرز تیار کرنے میں پنیری کا کام سرانجام دیتی تھیں۔ان کے اس مثبت اور موثر کردار نے ملک کو بہت سے قابل رہنما بھی عطا کیے۔ان میں شیخ رشید احمد، جاوید ہاشمی، جہانگیر بدر،لیاقت بلوچ، فرید پراچہ، فیصل سبزواری،شہلارضا اور راحیلہ ٹوانہ زندہ مثالیں ہیں۔ 1984ء میں جنرل ضیاء الحق نے تعلیمی اداروں میں طلباء تنظیموں پر پابندی عائد کردی،جو تادم تحریر جاری ہے۔پابندی کی وجوہات میں طلباء تنظیموں کے مابین تشدد کے واقعات، نظریاتی و سیاسی اختلافات کی بنا پر جھگڑے فساد،ہڑتال، توڑ پھوڑ، مارکٹائی اور کلاسوں کے بائیکاٹ شامل ہیں،تاہم اسی دوران ان طلباء تنظیموں پر پاپندی ہٹانے کے لئے 1988ء میں بینظیر حکومت نے عملی قدم اٹھایا اور تعلیمی اداروں میں ان تنظیموں کو بحال کر دیا گیا،لیکن اس بحالی کو 1990ء میں سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیاگیا۔1993ء میں عدالت کی جانب سے طلباء تنظیمیں پر دوبارہ پابندی لگا دی گئی۔

بحالی کی ایک اور کوشش 2017ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے ان تنظیموں پر پابندی ہٹاکر کی گئی، جب سینٹ میں اس مقصد کے لئے بل پیش کیا گیا،تاہم یہ بل پارلیمنٹ میں پیش نہ کیے جانے کے باعث التوا کا شکار ہو گیا۔ایک کو شش سند ھ اسمبلی کی جانب سے بھی کی گئی،تاہم ابھی تک تعلیمی اداروں میں طلباء تنظیمیں بحال نہیں ہو پائیں۔یہ اپنی جگہ ایک المیہ ہے کہ ہماری دو نسلیں طلباء تنظیموں کی سرگرمیوں سے فیض یاب ہوئے بغیر اداروں سے فارغ التحصیل ہو چکی ہیں۔حال ہی میں طالب علموں نے ایک کوشش از خودکی ہے، جب وہ سڑکوں پر طلباء تنظیموں کی بحالی کے لئے آگئے۔ان کی آواز میں دیگر طلباء تنظیمیں،گروپ این جی اوز،سیاسی جماعتیں اور ذرائع ابلاغ بھی ہم نوا ہوئے،تاہم ضمنی طور پر عرض کرتے چلیں کہ یونین بحالی کی اس تحریک اور احتجاج کو نہایت مضحکہ خیز انداز میں پیش کیا گیا جو کسی سکول یا کالج کے ”ٹیبلوشو“ سے زیادہ نہیں تھا۔سوشل میڈیا پر بھی اس کا خاصا مذاق بنایا گیا۔ طلباء تنظیموں کی بحالی کی اس کوشش کا انداز نہایت غیر سنجیدہ تھا۔ ایک نہایت سنجیدہ مسئلے کو یو ں ”کھیل تماشا“ بنا کر پیش کرنے نے کوئی موثر کردار ادا نہیں کیا۔بہتر ہوتاکہ اس مسئلے کو قانونی،سیاسی اور عدالتی سطح پر مُدلل طریقے سے پیش کیا جاتا۔آج مختلف اداروں میں ٹریڈ یونینوں کی شکل میں بہت سی تنظیمیں کام کر رہی ہیں اور اپنے اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے کوشاں ہیں،جن پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں، تو پھر طلباء تنظیموں پر پابندی چہ معنی دارد؟

ہم ذاتی طورپر طلباء تنظیموں کی بحالی کے حامی اور ان کی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کردینے کی اجازت کے حق میں ہیں۔ہم اپنے طالب علمی کے زمانے میں کسی حد تک، بلاواسطہ اور بالواسطہ ان سرگرمیوں کا حصہ بھی رہے ہیں۔اپنے کالج کے مجلے کے ایڈیٹر سے لے کر ادبی تنظیموں کے عہدیدار تک ان سرگرمیوں میں بھرپورحصہ لیا۔حقیقت تو یہ ہے کہ انہی سرگرمیوں نے لکھنے لکھانے کا شعور اور ہنر بخشا۔ اُسی دور میں روزنامہ ”مشرق“ اور ماہنامہ سیارہ ”ڈائجسٹ“ میں مضمون نگاری شروع کی۔

طلباء تنظیمیں طالب علموں کے حقوق کی پاسداری ،اُن کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں اور حق تلفیوں کے تدارک کے لئے کام کرتی ہیں۔ یہ ان کا ایک اہم کردارہے، جس سے ہر طالب علم مستفید ہوتا رہا ہے۔ یہی طلباء تنظیمیں اپنی سرپر ستی میں علمی و ادبی سرگرمیوں کا انعقاد بھی کرتی ہیں۔ کھیلوں کے فروغ،تحقیقی کام،تعلیمی مباحثے، تقریری مقابلے اور ڈرامے وغیرہ بھی کرتی ہیں،یوں ان تنظیموں کی بدولت تعلیمی اداروں میں ”یونین ویک“ کی شکل میں ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد بھی ہوتا ہے۔یاد رہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر گلوکاری اور اداکاری کرنے والے طالب علموں نے آگے چل کر ان شعبوں میں بڑا نام کمایا۔ طلباء کی تنظیموں پر پابندی لگانے کے محرکات کو دور کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ مسئلے اور معاملے کو جڑ سے اکھاڑکر پھینک دیا جائے۔عام طور پر تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور حکومتیں،پُرتشدد سرگرمیوں کے پیش نظراور نقصِ امن کے خطرے سے بچنے کے لئے طلباء کی سرگرمیوں اور طلباء تنظیموں پر پابندی لگا دیتی ہیں،جبکہ ان مسائل کا تدارک کیا جانا چاہیے اور ان کاکوئی پُرامن اور قانونی حل نکالنا چاہیے۔ اس ضمن میں بہت ضروری ہے کہ حکومت طلباء تنظیموں کے لئے کوئی ضابطہء اخلاق، قواعد وضوابط، کوئی ٹی او آر،اور قانونی طریقہ کا ر وضع کرے تاکہ تنظیموں کی غیر قانونی،تخریبی اور پُرتشدد سرگرمیوں کی روک تھام کی جا سکے۔ایسے ہی نظم وضبط کے قوانین تعلیمی اداروں کے ہوسٹلوں کے لئے تیار کرنے ضروری ہیں۔ان سب سے زیادہ اس امر کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ طالب علم تشددپسند، مفادپرست اور ملک دشمن عناصر کے آلہ ء کار نہ بن سکیں۔جواس ٹوہ میں لگے رہتے ہیں کہ اُنہیں ایسا کوئی پلیٹ فارم مل سکے۔ 1984ء کے ان حالات، جب طلباء تنظیموں پر پابندی لگی اور آج کے حالات میں بہت فرق ہے۔ معاشرہ، اس کا نظام اور تقاضے، سوچ و فکر کے انداز، سیاسی،سماجی اور ثقافتی معاملات و معیارات تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے پیچھے ایک مضبوط اور موثر میڈیا ہے۔

موجودہ دور فتھ جنریشن وارفیئر کا دور ہے۔ یہ ایک میڈیا وار کی جدید شکل ہے، جو کسی بھی جدید ہتھیار اور روایتی جنگ سے زیادہ خطرناک ہے۔ اب ٹیلی ویژن کی سکرین، لیب ٹاپ کا جادو اور موبائل فون کا کھلونا علاقائی،ملکی اور عالمی سطح پر رائے عامہ کو تبدیل کرنے اور اپنے حق میں کرنے پر مکمل طور پر قادر ہے، لہٰذا طلباء تنظیمیں بھی اس سے مثبت طور پر فیض یاب اور منفی طور پر گمراہ ہونے سے اپنا دامن نہیں بچا سکتیں۔دوسری جانب اب کسی بھی سطح پر کوئی عمل،کارروائی یا ایکشن عوام کی نظروں سے پوشیدہ نہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں طلباء تنظیموں کی بحالی کا اثر اب غیر سرکاری تعلیمی اداروں پر بھی پڑے گا۔گویا جلد یا بدیر وہاں بھی طلباء تنظیموں کا کسی نہ کسی شکل میں کچھ شور شرابا ہوسکتا ہے۔ان اداروں کی انتظامیہ دیدہ دلیری سے اپنی من مانیاں کرتی ہے، جس کی ایک مثال پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کا پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی فیسوں کا نوٹس لیناتھا۔طلباء تنظیموں کی بحالی ایک احسن قدم ہوگا،لیکن لازمی ہے کہ اس کے لئے کوئی قانونی سازی، ضابطہ اخلاق،قواعدوضوابط اور حدودوعمل داری کا تعین کیا جائے،تاکہ تعلیمی اداروں میں ہونے والے لڑائی جھگڑے اور خون خرابے کو روکا جا سکے۔جیسا کہ حال ہی میں اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں طلباء کے دو گروپوں کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے نتیجے میں ایک جان کے چلے جانے کا واقعہ ہوا ہے۔طلباء تنظیموں کے ہزار فائدوں کے ساتھ یہ المیہ بھی نتھی ہے، جس کے تحفظ کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...