کچھ ”کنڈکٹ آف وار“ کے بارے میں

کچھ ”کنڈکٹ آف وار“ کے بارے میں
کچھ ”کنڈکٹ آف وار“ کے بارے میں

  



(چوتھی اور آخری قسط)

فلر نے اس کتاب میں آمریت کے زوال،جمہوریت کے آغاز، صنعتی انقلاب، ٹیکنالوجیکل انقلاب، سوشلزم کی ابتداء، آبادی کی افزائش، میڈیا کے رول اور مذہب کی روبہ زوال اقدار جیسے موضوعات پر گرانقدر تبصرہ پیش کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ عوامی امنگوں کی تھیوری نے جمہوریت کو جنم دیا اور ساتھ ہی جنگ کو بھی لامحدود کر دیا۔ بادشاہوں اور شہنشاہوں کے ادوارکی جنگیں محدود ہوتی تھیں۔ پانی پت کے میدانوں میں فیصلہ ہو جاتا تھا اور شام کو اہل شہر کو معلوم ہوتا تھا کہ کون جیتا اور کون ہارا۔ لیکن جمہوریت اور قائم افواج (Standing Armies) کی روایت نے اور نیز جبری بھرتی کے رواج نے جنگ کو عالمگیر وسعت دے دی۔ پھر جب جنگ میں کمیونزم کا اضافہ ہوا تو جنگ فزیکل کی بجائے نظریاتی بنیادوں پر لڑی جانے لگی۔صنعتی اور ٹیکنالوجی کے انقلابات نے کمیونزم کو جنم دیا اور عسکری ٹیکنالوجی میں بھی بے پناہ تبدیلیاں آئیں۔ یہ تبدیلیاں اتنی تیز رفتار تھیں کہ سولجر کو ان کے قدم سے قدم ملانا مشکل ہوگیا اور اسی وجہ سے پہلی عالمی جنگ میں تعطل پیدا ہوا اور لاکھوں انسان موت کے گھاٹ اتر گئے۔ اور پھر جب ٹیکنالوجی نے 1917ء میں میدان جنگ کی حرکیت بحال کی تو نوبت ایٹم بم تک آ گئی۔ یہ جوہری اسلحہ صنعتی انقلاب کی آخری منزل ہے کہ اس کے بعد ”اللہ بس باقی ہوس!“

کنڈکٹ آف وار میں اگرچہ فلر نے صدر امریکہ روز ویلٹ اور کئی دوسرے امریکی ملٹری کمانڈروں پر کھل کر تنقید کی لیکن یہ عجیب بات ہے کہ امریکہ میں اس کتاب کی بہت پذیرائی ہوئی۔ وہاں لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ وہاں کے ایک پروفیشنل میگزین Ordnanceنے اسے ماہ رواں کی بہترین کتاب قرار دیا۔ آج کل بھی بہت سی امریکی یونیورسٹیوں میں یہ کتاب بطور نصاب رائج ہے۔

مصنف نے خود اس کتاب کے دیباچے میں کہا ہے کہ کلاسیوٹز کا باب اس کتاب کا اہم ترین باب ہے۔ اس نے کلاسیوٹز کے دو موضوعات پر تنقید کی ہے۔ اور دو کو سراہا ہے۔ کلاسیوٹز نے حملے کے مقابلے میں دفاع کو ”جنگ کی بہتر صورت“ قرار دیا تھا اور جنگ کا آخری مقصد ”فتح“ بیان کیا تھا۔ جبکہ فلر کا استدلال ہے کہ دفاع نہیں بلکہ حملہ اور یلغار ”جنگ کی بہتر صورت“ ہے اور فتح نہیں بلکہ امن جنگ کا آخری مقصد ہے۔ کلاسیوٹز کی جن دو باتوں کی فلر نے تعریف کی ان میں سے ایک تو اس کی وہی تھیوری ہے جسے آج تک کوئی جھٹلا نہیں سکا یعنی ”جنگ“ سیاسی پالیسی کی توسیع کا نام ہے“ اور دوسرے اس کے وضع کردہ وہ اصول ہائے جنگ ہیں جنہیں کلاسیوٹز نے پہلی بار مرتب شکل میں تحریر کیا۔اس کے باوجود عام تاثر یہی ہے کہ فلر نے کلاسیوٹز سے انصاف نہیں کیا۔ لیکن جب ہم فلر کے ایک خط کا درج ذیل حصہ دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے۔ یہ خط فلر نے کنڈکٹ آف وار کے امریکی پبلشر مسٹر سلون Sloneکو اواخر جنوری 1961ء میں تحریر کیا تھا…… فلر نے لکھا تھا:

”جہاں تک کلاسیوٹز کا تعلق ہے تو میرا ارادہ اسے دقیانوسی خیالات کا حامل قرار دینے یا اس کی شہرت کو کم کرنے کا نہیں بلکہ اس کی نگارشات کی قدر و قیمت کو مزید واضح کرنے کا ہے۔ میری کوشش ہے کہ لوگ اس کا صرف حوالہ ہی نہ دیا کریں اس کو پڑھا بھی کریں۔ آن وار (On War) کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے مندرجات کا 9/10 حصہ اب متروک ہو چکا ہے۔ اور 1/10جو خالص سونا ہے وہ 9/10حصے کے کچرے میں کہیں دبا ہوا ہے…… میری نگاہ میں کلاسیوٹز کا مقام کوپرلیکس، نیوٹن اور ڈارون کا ہم پایہ ہے“۔

”کنڈکٹ آف وار“ کو سرسری نظر سے دیکھنے والا اس پر مندرجہ ذیل اعتراضات کرتا ہے:

1۔ ذخیرہ الفاظ مشکل، نامانوس اور اجنبی ہے۔

2۔طرزِ تحریر کلاسیکی ہے۔ بعض اوقات ایک جملہ پورے پیراگراف کو محیط ہے۔

3۔فرانسیسی زبان کا جابجا استعمال کیا گیا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ فرانسیسی مواد کا انگریزی میں ترجمہ لکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی۔

4۔اقتباسات کی بھرمار ہے۔

5۔ حواشی اور حوالوں کی کثرت ہے۔

6۔مشکل فلسفیانہ اصطلاحوں سے اندازِ بیان بوجھل ہو گیا ہے اور قاری ایک آدھ صفحے کے بعد بورہو کر کتاب پھینک دیتا ہے۔

لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ اس کتاب کی یہی خامیاں اس کی حقیقی خوبیاں ہیں۔ یہ درست ہے کہ کھجور کا پھل بہت اونچے درخت پرلگتا ہے، اس کا تنا بھی بالکل سیدھا ہوتا ہے اور ماسوائے چوٹی کی شاخوں کے اس کے تنے کے ابتدائی اور وسطی حصے پر شاخیں نہیں ہوتیں اس لئے اس پر چڑھنا مشکل ہوتا ہے اور پھر جہاں پھل لگتا ہے وہاں پتوں کے اندر نوکیلے کانٹوں کا ایک جھنڈ بھی موجود ہوتا ہے…… تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ پھل کا قصور ہے یا درخت مجرم ہے؟…… حقیقت یہی ہے کہ اگر کسی نے یہ پھل توڑنا ہے تو اسے ان ساری رکاوٹوں کو پھلانگنا اور ان پر قابو پانا ہو گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھل کھانے کا حق دار نہیں۔ اگر ہم اپنے جرمِ کو تاہ دستی کو کھجور کی بلندی اور رفعتِ مقام کے سرتھوپ دیں گے تو انگور کھٹے ہیں کی مثل ہم پر صادق آئے گی۔ علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے:

تری نگاہ فرومایہ ہاتھ ہے کوتاہ

ترا گنہ کہ نخیلِ بلند کا ہے گناہ

پہلا اعتراض کہ کتاب کا ذخیرۂ الفاظ مشکل اور دقیق ہے تو یہ اس لئے ہے کہ مصنف کو پورے دو سو سالوں کی تاریخِ حرب و ضرب صرف ساڑھے تین سو صفحات میں سمیٹنی تھی۔ آپ اگر کسی درخت کے سارے پھل کا جوس نکال کر اسے صرف ایک بوتل میں بھرنا چاہیں گے تو وہ زیادہ گاڑھا اور شاید کڑوا بھی ہو جائے۔ اس کو رقیق کرنے کے لئے بعض اوقات اس میں پانی ملائیں گے، بعض اوقات شہد ملانا پڑے گا اور بعض اوقات کسی اور رقیق جوس کے ساتھ اسے مرکب کرنا پڑے گا۔ تب جا کر وہ حلق سے نیچے اترے گا…… بعینہ فلر نے ایک ایک باب میں نہیں بلکہ ایک ایک سیکشن میں پورے ایک عہد کو سمیٹ دیا ہے۔ اس سمیٹا سمیٹی میں اسے جن تدبیروں سے کام لینا پڑا ان کی وجہ سے انداز بیان مشکل بلکہ ادق ہو گیا۔

دوسرا اعتراض کہ طرز تحریر کلاسیکی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مصنف نے عمداً یہ انداز اختیار کیا۔وہ شائد تاریخ میں اپنے مقام و مرتبہ کی فکر میں تھا۔ تمام اچھے اور بڑے مصنفین کا یہی حال ہے۔ فلر نے ملٹن، کارلائل اور جانسن کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور ان کی مشکل پسندی اسے پسند تھی۔ مرزا غالب کی طرح وہ مشکل پسند ضرور تھا۔ لیکن اس قسم کی مشکل پسندی کلاسیکی تصنیفات کا جزواعظم شمار ہوتی ہے۔ لمبے لمبے فقرات تمام فلاسفر مصنفین کا طرہ امتیاز رہے ہیں۔ ہیگل، کانت، نطشے، کارل مارکس وغیرہ سب کے سب اسی طرز تحریر کے شیدائی تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد تقریباً تمام بڑے بڑے کمانڈروں نے اپنے جنگی تجربات کو کسی نہ کسی صورت قلم بند کیا۔ منٹگمری، آئزن ہاور، بریڈلے، میکارتھر، ولیم سلم، زوکوف، گڈیرین، مین سٹین اور درجنوں دوسرے جرنیلوں نے اپنے اپنے انداز میں طبع آزمائی کی ہے اور خوب کی ہے۔ لیکن ان کی تحریروں کا مقابلہ جب فلر کی تحریروں سے کرتے ہیں تو ایک واضح فرق نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ایجاز و اختصار فلر کا شیوہ ہے وہ کسی دوسرے مورخ میں نہیں پایا جاتا۔ فلر ایک فقرے میں پوری تاریخ بیان کر دیتا ہے اور ایک پیراگراف میں پورے فلسفے یا فلسفیانہ تھیوری کا نچوڑ پیش کر دیتا ہے جبکہ باقی اہلِ سیف جب قلم اٹھاتے ہیں تو ان کو اس قسم کے مطالب و موضوعات کو بیان کرنے میں کم از کم پورا ایک باب صرف کرنا پڑتا ہے۔ وہ جن اصطلاحات، تلمیحات، محاورات اور الفاظ و مرکبات (Phrases) کا استعمال کرتا ہے ان کو سمجھنے کے لئے قاری کو وسعتِ مطالعہ درکار ہے۔اور کنڈکٹ آف وار کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ قاری کو نہ صرف درجنون کتابوں کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دیتی ہے بلکہ مجبور کر دیتی ہے کیونکہ جب تک وہ ایسا نہیں کرتا، فلر کو سمجھ نہیں سکتا۔

تیسرا اعتراض اس کتاب میں فرانسیسی زبان کا جابجا استعمال ہے اور یہ بھی کہ اس نے فرانسیسی جملوں اور کئی پیراگرافوں کا انگریزی ترجمہ نہیں دیا تو اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ فلر کے زمانے تک فرانسیسی زبان کے حوالے دینا بالکل ایسے ہی تھا جیسے کچھ عرصہ پہلے تک اردو میں اچھے اچھے لکھنے والے فارسی اشعار کا استعمال کیا کرتے تھے اور ساتھ ترجمہ دیناضروری نہیں سمجھتے تھے۔ اور دوسرے شائد یہ بھی کہ فلر کی والدہ فرانسیی تھی اور یہ زبان گویا اس کی گھٹی میں پڑی تھی۔ مزید برآں آج بھی انگلش چینل کے دونوں طرف رہنے والے لوگ ان دونوں زبانوں سے شناسائی رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ فلر نے فرانسیسی جملوں کا ترجمہ کیوں نہیں دیا۔

چوتھا اعتراض اقتباسات کی بھرمار کا ہے۔ اس کا جواب فلر نے اپنے پیش لفظ میں دے دیا ہے کہ ”بجائے اس کے کہ میں مارشل فوش، لینن، ہٹلر اور کلاسیوٹز کے مفہوم کو اپنے طریقے سے بیان کرتا، میں نے مناسب خیال کیا کہ ان کو خود ہی بولنے دوں“۔

پانچواں اعتراض حواشی اور حوالوں کی کثرت کا ہے۔ اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ حوالوں کی کثرت تحریر کو مصدقہ بناتی ہے۔ اس بارے میں کوئی دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ دوسرے فلر کو مطالعہ کا از حد شوق تھا۔ وہ ہر موضوع پر نئی طبع ہونے والی کتاب کی خبر رکھتا تھا اور ان کو پڑھنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ تیسرے حواشی کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ موضوع زیر بحث پر اضافی اور فروعی معلومات مہیا کرتے ہیں۔ فلر نے ایسا کرکے سنجیدہ قارئین کی معلومات میں اضافہ کیا ہے اور ہمیں اس سلسلے میں اس پر تنقید کرنے کی بجائے اس کا ممنون ہونا چاہیے۔

چھٹا اور آخری اعتراض فلر کے فلسفیانہ انداز بیان پر ہے۔ دراصل جنرل کلاسیوٹز، مارکس، لینن وغیرہ ایک اعتبار سے فلسفی بھی تھے۔ ان کے نظریات پر بحث و مباحثہ کے لئے دوسرے بہت سے فلاسفروں کا حوالہ دینا ناگزیر تھا۔ علاوہ ازیں جن پونے دو سو برسوں پر فلر نے تبصرہ کیا ہے ان میں تحریک احیائے علوم، تحریکِ اصطلاحِ دین، انقلابِ فرانس، انقلابِ روس اور صنعتی انقلاب وغیرہ کے فکری پہلوؤں کو اس وقت تک اجاگر نہیں کیا جا سکتا تھا جب تک ان عملی مظاہروں کی پشت پر فکر و تدبر کی جو فلسفیانہ قوت تھی، اس کا تجزیہ نہ کیا جاتا۔ اس تجزیے میں فلسفہ کی اصطلاحیں استعمال کرنا ناگزیر تھا۔

کنڈکٹ آف وار پر ان عمومی اعتراصات کا مختصر جواب دینے کے بعد راقم الحروف کے خیال میں بعض سفارشات قاری کو تفہیمِ مطالب میں آسانیاں پیدا کر سکتی ہیں۔مثلاً:

1۔ کتاب کو یک بار پڑھنے سے مکمل سمجھ نہیں آتی کہ مصنف کیا کہنا چاہتا ہے اس لئے اسے بار بار پڑھنا چاہیے۔

2۔چونکہ یہ کوئی عسکری تاریخ نہیں بلکہ عسکری تاریخ پر تبصرہ اور نقد و نظر ہے اس لئے جب تک عسکری تاریخ نہ پڑھ لی جائے، تبصرہ اور نقد و نظر کی سمجھ نہیں آ سکتی۔ نپولین کی عہد کی جنگیں، 1870-71ء کی فرانکو۔ جرمن وار،1873ء کی آسٹرو جرمن جنگ، 1899ء تا1902ء کی بوئر وار،1904-05ء کی روسو۔ جاپان وار، جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم کا مطالعہ کئے بغیر اس کتاب کو پڑھنا تو شاید مشکل نہ ہو، سمجھنا ضرور مشکل ہو گا۔ آپ جتنا زیادہ مطالعہ کسی جنگ یا کسی انقلابی عہد کا کریں گے، اتنا ہی آپ کو مصنف کی کاوش کی داد دینی پڑے گی اور آپ حیران ہوتے جائیں گے کہ اتنے کم صفحات میں اس نے کس طرح اتنا وسیع و عریض اور طول طویل مضمون اور موضوع سمیٹ ڈالا ہے۔

جن شخصیتوں کا ذکر مصنف نے کتاب میں کیا ہے۔ اضافی معلومات کے لئے ان کی سوانح اور ان کی تصانیف بھی ضرور پڑھنی چاہئیں۔ اگر زیادہ نہیں تو گوگل پر جائیں اور ان پر جو مختصر سوانحی نوٹس وغیرہ دیئے گئے ہیں ان کی فوٹو کاپیاں کروا کر سکون سے پڑھیئے……امید ہے اس کے بعد فلر آپ کو زیادہ آسان لگنے لگے گا!

4۔یہ ایک مربوط تحریر ہے اور اس میں ایک زمانی تدریج (Time Sequence) موجود ہے۔ جب تک آپ گزشتہ باب نہیں پڑھیں گے موجودہ یا آئندہ باب کی سمجھ کم آئے گی یا شائد بالکل ہی نہ آئے۔ چونکہ پوری کتاب ایک مربوط سلسلہ ہے اس لئے اسے اول تا آخر پڑھنا چاہیے۔

5۔کتاب کو رک رک کر پڑھیں اور جہاں موضوع مشکل ہو یامطلب سمجھنے میں دشواری ہو رہی ہو وہاں اس موضوع پر لائبریری سے حوالہ جاتی کتب لے کر مطالعہ کریں۔

6۔یہ ذہن میں رکھیے کہ فلر اور لڈل ہارٹ دونوں وزیراعظم برطانیہ مسٹر چرچل کے مخالفین میں سے تھے۔ دونوں نے کھل کر چرچل پر تنقید کی ہے۔ فلر کی تنقید نسبتاً زیادہ کاٹ دار ہے۔ اس لئے جب تک چرچل کے حامی مصنفین کی کتب آپ کی نگاہوں سے نہیں گزریں گی، آپ ایک متوازن رائے قائم نہیں کر سکیں گے۔ چرچل نے خود جو دوسری عالمی جنگ کی مبسوط تاریخ لکھی ہے وہ کئی جلدوں پر پھیلی ہوئی ہے اس کی تلخیص بھی بعض لائبریریوں میں مل جاتی ہے اسے بھی پڑھنا چاہیے……

مجھے امیدہے کہ اگر ان معروضات اور سفارشات پر عمل کرکے فلر کو پڑھا جائے گا تو پھر آپ دیکھیں گے کہ اس کی یہ کتاب خشک اور بے کیف کوشش نہیں بلکہ ایک ایسا شاہکار معلوم ہو گی جس میں عسکری فکر و فن اور اسرار و رموز کے بے شمار گہرہائے آبدار جا بجا بکھرے پڑے ہیں …… لفاظی اور انداز بیان کی پیچیدگی قاری کے ذوق مطالعہ کے لئے رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ بقول حضرت اقبالؒ:

الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا

غوّاص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے؟

(ختم شد)

مزید : رائے /کالم