یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور میں گیارہویں کانوکیشن کا انعقاد

یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور میں گیارہویں کانوکیشن کا ...

  



یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے گیارہویں کانووکیشن کا گزشتہ روز انعقاد ہوا۔ جس کی صدارت چانسلر / گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کی جبکہ دیگر اہم شخصیات میں وزیر لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب سردار حسنین بہادر دریشک کے علاوہ ویٹرنری یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی سمیت مختلف یونیورسٹیوں کے پروفیسرز، پولٹری و ڈیری صنعتکار، سٹیک ہولڈرز، طلبہ و اساتذہ کی بڑی تعداد اُس موقع پر موجود تھی۔ کانووکیشن میں 1469 گریجویٹ طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں جن میں سے 222 ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن، 355 بی ایس آنرز، 91 ڈاکٹر فارمیسی، 27 ڈاکٹر آف نیوٹریشن اینڈ ڈائٹیٹکس، 42 ماسٹر بزنس ایڈمنسٹریشن، 24 ماسٹر بزنس ایڈمنسٹریشن ایگزیکٹو، 35 بی بی اے آنرز، 11 ماسٹر بزنس فنانس، 233 ایم ایس سی، 36 پی ایچ ڈی اور 393 ایم فل کی ڈگریاں طلبہ و طالبات نے وصول کیں جبکہ پوزیشن حاصل کرنے والے 78 طلبہ کو میڈل بھی دیئے گئے۔

یونیورسٹی ہذ ا نے اپنی شاندار روایت کو اپناتے ہوئے اپنے آٹھ اساتذہ کرام کو بھی شیلز سے نوازا جنہوں نے دوران ملازمت مختلف یونیورسٹیز سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لیں جن میں ڈاکٹر محمد فاروق، ڈاکٹر شائستہ قمر، ڈاکٹر محمد خاور بشیر، ڈاکٹر محمد عمران، ڈاکٹر طالب حسین، ڈاکٹر فرحان مسعود، ڈاکٹرہما رشید شامل ہیں۔ اسی طرح گیاراں اساتذہ اکرام جنہوں نے رائل وٹرنری کالج، لندن یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویٹ سرٹیفیکٹ حاصل کیا اور انکو اعزازی شیلڈ ز سے نوازا گیا ان میں پروفیسر ڈاکٹر حفظہ زینب، ڈاکٹر میمونہ چوہدری، ڈاکٹر گلبینہ سلیم، ڈاکٹر زاہد طاہر، ڈاکٹر صائمہ اشرف، ڈاکٹرشہلا گل بخاری، ڈاکٹر محمد قمر شاہد، ڈاکٹر شاہان عظیم، ڈاکٹر جبران حسین، ڈاکٹر خالد عبدلمجید جبکہ پروفیسر ڈاکٹر عقیل جاوید کو شیلڈز سے نوازا گیا وہ یونیورسٹی ہذا کے واحد فیکلٹی ممبر ہیں جو بطور ممبر پاکستان اکیڈمی آف سائنسز مقرر ہوئے۔سپورٹس میں بہترین کارکردگی کی بنا پر طلباء کو اعزازی شلیڈز سے نوازا گیا اور جناب رانا امجد اقبال، ڈائریکٹر سپورٹس کو انکی بہترین خدمات پر شیلڈ سے نوازا گیا۔ مجموعی طور پر اس سال 1469طلباء و طالبات کو مختلف اندڑ گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرامز میں ڈگریوں سے نوازا گیا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز اللہ تعالیٰ کے پاک کلام سے ہوا۔ یونیورسٹی ہذا کی ایک طالبہ نے تلاوت کی۔ سٹیج سیکرٹری جناب ڈاکٹر محمد علی حمزہ نے اپنے منفرد اور دلکش انداز میں اپنے فرائض انجام دیے۔ کنٹرولر امتحانات یونیورسٹی ہذا محترم جناب سید ضرغام حید ر نے کامیاب طلباء خلاصہ بیان کرتے ہوئے حاضرین کو مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا۔ جبکہ وائس چانسلر محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے گزشتہ سال یونیورسٹی کی کارکردگی پیش کی۔ انہوں نے یونیورسٹی کو ملنے والی مختلف گرانٹس کا ذکر کیا اور حاضرین کو بتا یا کہ یونیورسٹی حقیقی میدان میں بہت سے اپنے احداف حاصل کرچکی ہے۔

پی ایچ ڈی کرنے والوں میں حامد مصطفی، سید کلیم الحسن، عرفان ارشد، عابد حسین، مہتاب احمد، عائشہ خالد، محمد زاہد، اصغر خاں، صبا ثناء، محمد طاہر خاں، محمد زین سلیم، محبوب احمد، سہیل احمد، حفض الرحمان، زاہد اقبال، محمد عمران حسین، طیبہ سہیل، صادق علی، فیصل حسین، ممونہ حسیب، مدیحہ خاں، ساجدہ صباحت، احسن انجم، عمران محسن شامل ہیں جبکہ مختلف پروگرامز میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والوں میں بشری شکیل، عاصمہ خان، فریحہ مظفر، سمیرا گیلانی، صبا احمد، شہنیل فاطمہ، نمرہ انور، عقیلہ افضل، سروج حسن، جرویہ ظفر، غوثیہ مزمل، حمیرا اصغر، ارمد یونس، عروج سبطین، محمد ریحان، فاطمہ شہباز، اور سلور میڈلز عظیم اقبال، میمونہ اختر، نایاب بشیر، سونیہ عامر، عمارہ شریف، نادیہ حبیب، مروت حسین، سیرت مریم، عائشہ شریف، عائشہ محمد دین، حریم زینب، اقراء مصطفی، حارث ندیم، شہباز علی، بہزاد حسین، طوبہ ریاض، محمد ریحان، احمد علی، ضعیم سرور، سیدہ رمشاء، قمر عباس، زینب اسحاق، طیبہ کنول، سحر ستارہ، کنزلہ سلیم، غشایہ آصف، محمد فیصل ریاض، صلحہ النساء، عدیل منظور، مریم خلیل، میمونہ یاسمین جبکہ کانسی کے میڈلز حاصل کرنے والوں میں رفیعہ اکرم، انجم شبیر، ثمرا مسعود، اقصی متعین الرحمن، فضہ ناز، عروج غفار، حافظ راؤ عبداللطیف، علینہ خادم، کنول سعید، عروج اشرف، فائقہ ظفر، ثانیہ مجید، سیدہ سمعیہ ظفر، عاصمہ شریف، سیدہ طاہرہ گیلانی اور فرہاد علی شامل ہیں۔ مختلف پروگرامز میں گولڈ میڈل، سلور میڈلز اور کانسی کے میڈلز حاصل کرنے والوں میں طالبات کی تعداد زیادہ تھی۔

٭٭٭

پروفیسر ربانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یونیورسٹی کے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں بھی بتایا۔مختلف ذرائع سے طلباء کی رہنمائی کے حوالے سے پروفیسر ربانی نے یہ بھی بتایا کہ ہر سال طلباء کو بیرون ملک مختلف یونیورسٹیوں میں ایکسچینج آف نالج کے تحت بھیجا جا رہا ہے۔ جبکہ غریب اور ہونہارطلباء کو وظائف سے نوازا جا رہاہے۔ یونیورسٹی تعلیم و تحقیق کے ساتھ ساتھ طلبا ء کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے حصول کے لیے بھی کو شاں ہے۔ پروفیسر ربانی نے بتا یا کہ 1882میں قائم ہونے والا یہ سکو ل اب بہت سی نامور یونیورسٹیوں کو پیچھے چھوڑ چکا ہے اور اسکا مقام ناصرف HECکی رینکینگ میں نمایاں ہے بلکہ ایشیاء کی رینکینگ میں بھی 401-450نمبر پر ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی نے اپنے خطاب میں حاضرین کو یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی، کلینیکل سروسز، کمیونٹی سروسز اور ایکسٹینشن پروگرامز اور پاکستان بھر کی جامعات میں ویٹرنری یونیورسٹی کی موجودہ پوزیشن، کامیابیوں اور ماس کی تاریخ اہمیت کے بارے میں تفصیلی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سپورٹس رینکنگ میں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویٹرنری یونیورسٹی پاکستان بھر کی دس بہترین جامعات کی فہرست میں پہلے سے ہی شامل ہے۔ ڈاکٹر ربانی نے کہا کہ ویٹرنری یونیورسٹی نے اپنی اعلیٰ تعلیمی معیار، تحقیق اور وسائل کو بروئے کار لا کر نوجوان نسل کی ویٹرنری ایجوکیشن میں مہارتوں کو اجاگر کرنے میں ہمیشہ اپنا مثالی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا یونیورسٹی میں اساتذہ 1.7 بلین مالیت کے 144 تحقیقی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ربانی نے کہا کہ یونیورسٹی 6.4 بلین کے 4 ترقیاتی پراجیکٹس چلا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی نے گزشتہ سال کے دوران ہونہار طلبہ کو میرٹ کی بنیاد پر 56.4 ملین کی 1087 شکالر شپس بھی دی ہیں۔ یونیورسٹی نے کھیلوں وغیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے اور ویٹرنری یونیورسٹی کے کھلاڑیوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والی چیمپئن شپس میں اپنی اعلیٰ کارکردگی کی بدولت 65 میڈلز جیتے ہیں۔ ویٹرنری یونیورسٹی کا سینٹر فار اپلائیڈ پالیسی ریسرچ ان لائیو سٹاک پولٹری اور ڈیری سیکٹر کو مستحم بنانے سے متعلقہ پالیسیاں مرتب کرنے کے لئے مختلف مشاورتی اجلاس بھی منعقد کروا رہا ہے۔

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرورنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کامیاب طلباء کو مبارک باد پیش کی اور زور دیا کہ طلبا ء اپنی عملی زندگی میں بھی محنت، لگن اور ایمانداری کی روایت کو زند ہ رکھیں۔ گورنر صاحب نے اپنی گورنمنٹ کی ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ موجودہ حکومت تعلیم کے شعبہ کو بہت اہمیت دے رہی ہے اور فارغ التحصیل طلباء کو مختلف گرانٹس سے نوازا جا رہا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے ڈگریاں اور میڈل حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو مبارک باد پیش کی اور ان سے کہا کہ یہ اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنے علم و عمل کے ذریعے سے ملک و ملت کی ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ انہوں نے تعلیم و تحقیق کی ترویج اور کمیونٹی سروسز کے لئے ویٹرنری یونیورسٹی کے کردار و کاوشوں کو سراہا اور اعلیٰ کارکردگی کی بدولت نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں پاکستان بھر کی دس بہترین جامعات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے، ایشیاء کی بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے نیز کھیلوں میں پاکستان بھر کی پبلک سیکٹر جامعیات میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر مبارک باد بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک سیکٹر پاکستان میں انتہائی صلاحیت کا حامل ہے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی پیش نظر لائیو سٹاک کی پیداوار کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے اور صارف تک حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق کھانے کی صاف ستھری معیاری اشیاء فراہم کرنے کے لئے حکومت پنجاب انقلابی اقدامات کر رہی ہے مزید کہا کہ ملک میں لائیو سٹاک سیکٹر کو ایک مستحکم فعال سیکٹر بنانا حکومت پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے طلبہ کو وزیراعظم کے کلین اینڈ گرین (سرسبز شاداب پاکستان) پروگرام میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے بارے میں زور دیا اور کہا کہ یونیورسٹی سٹی کیمپن لاہور اور بالخصوص راوی کیمپس پتوکی میں ہریلی کو فروغ دینے کی غرض سے بڑی تعداد میں شجرکاری بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب جامعات کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور تعلیم کے اعلیٰ معیار کو حاصل کرنے نیز انسٹی ٹیوشنل لیول پر گڈ گورننس کے معیار کو قائم رکھنے کے لئے ہر ممکنہ معاونت فراہم کرنے کے لئے آمادہ ہے۔

قبل ازیں چانسلر / گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی کے ہمراہ پی ایچ ڈی سکالرز اور پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کے درمیان میڈلز (تمغے) بھی تقسیم کئے۔

یونیورسٹی کے اس Event کو کامیاب کرنے کے لیے وائس چانسلر صاحب نے پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمن کی نگرانی میں مختلف کمیٹیا ں تشکیل دیں۔ جنہوں نے اپنی بھرپور توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یونیورسٹی کے اس میگا فنگشن کو کامیابی سے ہمکنار کروایا۔ ان میں نمایاں نام سیدضرغام حیدر کنٹرولر امتحانات، مسٹر بدر منیر اسسٹنٹ کنڑولر امتحانات، ڈاکڑ فرحان جمیل، مسٹر امجد محمود، پروفیسر ڈاکڑ عاصم محمود ڈاکٹر سید سلیم احمد، پروفیسر ڈاکٹر اویس عمر، پروفیسر ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی، ڈاکٹر لیاقت احمد، ڈاکٹر علی رضا اعوان، کرنل الیاس عالم، مسٹر محمد ریاض، پروفیسر محمد یاسین ٹیپو، ڈاکٹر میاں عبدالحفیظ، پروفیسر عاصم اسلم، پروفیسر ڈاکٹر کامران اشرف، پروفیسر ڈاکٹر عقیل جاوید، ڈاکٹر نثار احمد، مسٹر محمد رضوان سلیم، پروفیسر ڈاکٹر رانا ایوب، مسٹر محمد عمر، سید شاہ نواز بخاری اور جناب سجار حیدر صاحب رجسٹرار یونیورسٹی ہذا شامل ہیں۔ یہ سب حضرات یقینی طور ہر مبارک باد کے مستحق ہیں لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ کنٹرولر امتحانات کا تمام عملہ بھی یقینی طور پر ناصرف مبارک باد کا مستحق ہے بلکہ خصوصی شاباش کا بھی مستحق ہے۔

عظیم درسگا کے تمام اساتذہ اور آفیسرز صاحبان اور چھوٹا عملہ قابل فخرہیں۔ جو اپنی محنت سے اس ادارہ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...