مجلس ِ اقبال میں ڈاکٹر معین کے ساتھ خصوصی نشست

مجلس ِ اقبال میں ڈاکٹر معین کے ساتھ خصوصی نشست

  



10 دسمبر 2019ء بروز منگل مجلس اقبال کے چہرہ بچہرہ روبرو سلسلے کی ساتویں نشست ڈاکٹر معین الدین نظامی صاحب کے ساتھ رکھی گئی جو کہ عصر حاضر کے ایک نامور محقق، ادیب شاعر اور مصنف ہیں۔فارسی زبان و ادب میں ان کا بڑا نام ہے۔ صدر مجلس نے ڈاکٹر معین نظامی صاحب کے تعارف سے نشست کا آغاز کیا جس میں ان کے ادبی کارناموں اور خدمات کا تذکرہ کیا۔ مزید برآں ان کی شاعری پڑھ کر انھیں خراج تحسین پیش کیا اور مجلس اقبال جی سی یونیورسٹی لاہور میں آنے پر خوش آمدید کہا اور شکریہ ادا کیا۔

اس کے بعد ڈاکٹر معین نظامی صاحب نے طلبہ کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی غزلیں اور نظمیں پڑھ کر سنائیں جس سے طلبہ وطالبات بہت محظوظ ہوئے۔ ایک طالبعلم محمد حفیظ نے سوال کیا کہ شروع میں غزل کا موضوع عشق و عاشقی اور ہجر و وصال رہا ہے مگر اب کچھ نئے موضوعات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن پھر بھی غزل اپنا وجود پہلے کی طرح رکھتی ہے، ایسا کیوں ہے؟ ڈاکٹر معین الدین نظامی صاحب نے جواب دیا کہ میرے خیال میں غزل ہی وہ واحد صنف ہے جس کی بقاء یقینی ہے وہ چاہے کسی بھی حالت میں ملے۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ فارسی زبان کے استاد ہیں اور فارسی زبان و ادب میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں، اس لیے ایک طالبعلم نے سوال کیا کہ فارسی زبان و ادب کی طرف آپ کا رجحان کب ہوا؟ جواب میں جناب ڈاکٹر معین نظامی نے کہا کہ فارسی زبان میں دلچسپی بچپن ہی سے تھی۔غالباً پانچویں یا چھٹی کلاس ہی میں گلستان سعدی اور بوستان سعدی پڑھ لی تھی، کیونکہ ان سمیت فارسی کی کئی دوسری کتب بھی گھر میں موجود تھیں اس لیے پڑھتا رہا یہاں تک کہ پھر فارسی زبان و ادب میں ہی ماسٹر، ایم فل اور پھر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے والد گرامی بھی پروفیسر تھے اور ادب سے لگاؤ رکھتے تھے جس کی وجہ سے کتب گھر میں ہی آسانی سے دستیاب ہو جاتیں اور ساتھ ساتھ والد گرامی سے بھی کسب فیض کا موقع ملا۔

اس نشست میں پروفیسر ڈاکٹر اقبال شاہد صاحب، پروفیسر ڈاکٹر خاور سعید بھٹہ، پروفیسر ڈاکٹر غلام اکبر، پروفیسر قاضی اکرام بشیر، پروفیسر ڈاکٹر سفیر حیدر صاحب، پروفیسر ڈاکٹر بابر نسیم آسی، ڈاکٹر فرزانہ ریاض، جناب عاصم کلیار، ڈاکٹر احتشام علی، پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم صاحب و دیگر اساتذہ کرام نے بھی شرکت کی اور شعر و ادب سے محفل کو مزید رونقوں سے مالا مال کر دیا۔ ڈاکٹر معین نظامی، پروفیسر ڈاکٹر اقبال شاہد اور پروفیسر ڈاکٹر خاور سعید بھٹہ صاحب ہم عصر دوست ہیں اور کالج میں اکٹھے زیر تعلیم بھی رہے، انھوں نے اپنی پرانی یادوں کو بھی تازہ کیا اور کچھ کالج کے زمانے کے واقعات بھی سنائے جنہیں سن کر ہم نے خوب لطف اٹھایا۔

پروفیسر قاضی اکرام بشیر صاحب نے اس نشست میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے کہا کہ آج کا دن تاریخی دن تھا اور ایک کامیاب نشست کے انعقاد پر ڈاکٹر سفیر حیدر صاحب کو مبارکباد بھی پیش کی۔ آخر میں نگران مجلس اقبال ڈاکٹر سفیر حیدر صاحب نے آنے والے تمام مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر معین الدین نظامی صاحب کو تحفتاً پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور گروپ فوٹو بھی لی گئی۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1