ہم طاقتور قو م، آستانوں سے ملک دشمنوں کو یکجہتی کا پیغام دیں گے: شاہ محمود قریشی 

      ہم طاقتور قو م، آستانوں سے ملک دشمنوں کو یکجہتی کا پیغام دیں گے: شاہ ...

  



ملتان (سٹی رپورٹر‘ وقا ئع نگار)سلسلہ سہروردیہ کے روحانی پیشوا، شیخ الاسلام حضرت شاہ رکن الدین عالم سہروردیؒ کے 706 ویں سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات کا ملتان میں آغاز ہو گیا ہے۔ عرس کے پہلے روز درگاہ کے سجادہ نشین و وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزار کو عرق گلاب سے غسل دیا اور چادر پوشی کی۔ اس موقع پر ان کے چھوٹے بھائی مخدوم مرید حسین قریشی، مخدوم زادہ زین قریشی، معین الدین قریشی سمیت زائرین کی بھی کثیر تعداد(بقیہ نمبر9صفحہ12پر)

 موجود تھی۔ بعد ازاں درگاہ کے احاطہ میں قومی شاہ رکن عالم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے کی جبکہ کانفرنس میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض قومی زکریا اکیڈمی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری نے سر انجام دئیے۔ عرس کے موقع پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ قلعہ کہنہ قاسم باغ اور اس کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ عرس کی تقریب میں شرکت کرنے کیلئے آنے والے زائرین کو مکمل تلاشی کے بعد اندر آنے کی اجازت دی گئی۔ درگاہ کے داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹ بھی لگائے گئے تھے۔ جماعت غوثیہ کے رضا کاروں نے بھی ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔ محکمہ اوقاف کی جانب سے درگاہ کے احاطہ میں زائرین کے لئے پانی کی سبیلیں جبکہ محکمہ صحت، سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ، ریسکیو، میونسپل کارپوریشن سمیت دیگر محکموں کی جانب سے دربار عالیہ کے باہر کیمپ لگائے گئے۔ عرس کے موقع پر دور دراز سے آنیوالے زائرین نے دیگر مزارات پر بھی حاضری دی۔ عرس کی دوسری نشست آج منعقد ہو گی جس کی صدارت سجادہ نشین و وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کریں گے۔ عرس کی آخری تقریب کل بروز جمعہ کو ہو گی جس میں سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی خصوصی دعا کرائیں گے۔ اختتامی نشست میں جماعت اہلسنت پاکستان کے قائد علامہ سید مظہر سعید کاظمی ودیگر علماء کرام، مشائخ عظام شرکت کریں گے۔ ادھر سلسلہ سہروردیہ کے روحانی پیشوا، شیخ الاسلام حضرت شاہ رکن الدین عالم سہروردیؒ کے سجادہ نشین و وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وار کی طرز پر نئی قسم کی جنگ مسلط کی گئی ہے، قومیں صرف افواج کی طاقت سے جنگیں نہیں جیت سکتیں، آج ہمیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو نیچا دکھانے والے ارادوں کو شکست دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سلسلہ سہروردیہ کے روحانی پیشوا، شیخ الاسلام حضرت شاہ رکن الدین عالم سہروردیؒ کے 706 ویں سالانہ عرس کے پہلے روز شاہ رکن عالم کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کو ذہنی طور پر پر شکست خوردہ بنانا ہائبرڈ وار کا حصہ ہے، اللہ کے کرم سے ہم طاقتور قوم ہیں، مالی مشکلات پر بھی قابو پائیں گے، ہم سب مشکلات سے نکل کر آگے بڑھ جائیں گے، جب افواج کے ساتھ قوم کو اپنے نطریہ کا اندازہ ہوتا ہے تو ملک آگے جاتا ہے، ہمیں ان آستانوں سے ملک کے دشمنوں کو یکجہتی کا پیغام دینا ہے، آج کی نشست بہت سے زخموں پر مرہم رکھے گی۔ اللہ تعالیٰ کشمیر، فلسطین، افغانستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی مدد فرمائے۔ دعا گو ہوں کہ یہ سال ہماری قوم کی کامیابی کا سال بن جائے اور اللہ تعالی درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے آئین کو روند دیا ہے وہاں ہندو توا کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، وہاں کے مسلمان کے حال کو دیکھ کر آج پاکستان کے دو قومی نظریہ کا دفاع اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس سال ہمیں مملکت خدا داد کی قدر و قیمت کا زیادہ شدت سے احساس ہونا چاہئے کہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمان کس تکلیف سے گزر رہے ہیں، پورے ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتا جا رہا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھی جنگ کا سماں ہے، معصوم شہری نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اولیاء کرام کے آستانے امن و محبت کا درس دیتے ہیں۔ عرس تقریب میں خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر سید حامد سعید کاظمی کا کہنا تھا کہ پہلے خانقاہیں عوام کی فلاح کے لئے مشغول ہوتی تھیں مگر اب ہم نے تصوف اور خانقاہی نظام سے راہ عمل کو الگ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آستانوں کے سجادگان نے راہ عمل کو اپنایا ہے مگر بیشتر راہ عمل کا پرچار نہیں کر رہے۔ اگر ہم صوفیا کا طریقہ اپنا لیں تو دنیا و آخرت میں کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تصوف صرف باتیں بنانے کا کام نہیں ہے، جب تک عمل نہیں کریں گے صوفیا کرام کے پیغام کو پا نہیں سکیں گے۔ آج دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست انہی آستانوں کی مرہون منت ہے، اندونیسیا اور ملائشیا میں انہی آستانوں کی بدولت اسلام پھیلا، ویاں کوئی افواج نہیں گئیں۔ انہوں نے کہا کہ غزوہ ہند ہمارا ایمان ہے۔ درگاہ حضرت خواجہ غلام فرید کے سجادہ نشیں خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ کے صاحبزادے خواجہ راول معین کوریجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں تصوف کے اصل مفہوم کو اپنے اوپر لاگو کرنا پڑے گا، صرف اسی صورت میں صوفیانہ تعلیمات کو عام کیا جا سکتا ہے، اللہ کے ولی ہماری رہنمائی کرتے ہیں، اللہ کے ولی دنیا کے پیچھے نہیں دنیا ان کے پیچھے ہوتی ہے۔ جماعت اہل سنت پنجاب کے ناظم اعلی علامہ فاروق خان سعیدی نے کہا کہ حضرت شاہ رکن عالمؒ کا مزار ہی نہیں اس میں موجود ہستی بھی ہماری پہچان ہے، اولیاء اللہ کا مشن اور فیض تا قیامت جاری رہے گا، اولیاء اللہ نے اپنی تعلیمات کی وجہ سے امن، محبت، اخوت اور بھائی چارے کا درس دیا، یہی وجہ ہے کہ اولیاء اللہ کی دینی تعلیمات کی وجہ سے لاکھوں غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔ کانفرنس سے علامہ سید رمضان شاہ فیضی، مولانا محمد عثمان پسروری، حمید نواز عاصم، احمد نواز عصیمی، منیر حسین ہاشمی و دیگر نے خطاب و ہدیہ نعت پیش کیا۔ عرس کی افتتاحی تقریب میں وفاقی پارلیمانی سیکرٹری مخدوم زادہ زین حسین قریشی، معاون خصوصی وزیر اعلی حاجی اختر انصاری، سیکرٹری اوقاف سید گلزار حسین شاہ، ڈپٹی کمشنر عامر خٹک، پیر ظہور حسین قریشی، بریگیڈئیر (ر) مقصود قریشی، پیر سید کاظم علی شاہ، معین الدین ریاض قریشی، پیر اعجاز علی سہروردی، رانا عبدالجبار، میاں جمیل احمد، ملک ظہور مہے اور دیگر سیاسی، مذہبی شخصیات سمیت زائرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سٹی پولیس آفیسر ملتان محمد زبیر دریشک نیعرس شاہ رکن عالم سیکیورٹی کے حوالے سے دربار شاہ رکن عالم کا دورہ کیا۔اس موقع پر ایس پی سٹی ڈویژن جاوید خان، ایس ڈی پی او حرم گیٹ یوسف ہارون اور ایس ڈی پی او دہلی گیٹ ریاض بخاری  ان کے ہمراہ تھے۔تمام تر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے احکامات دئیے۔ ڈیوٹی پر مامور پولیس افسران کو ہدایت کی کہ اس موقع پر الرٹ ہو کر ڈیوٹی سر انجام دیں۔ سی پی او ملتان نے ہدایت کی ڈیوٹی پر موجود تمام پولیس ملازمین کی موسم کے مطابق مناسب ویلفیئر کا بندوبست کیا جائے۔سی پی او ملتان نے  کہا کہ اس موقع پر فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔دربار شاہ رکن عالم کے انٹری پوائنٹس پر واک تھرو گیٹ نصب کیے گئے ہیں اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے تلاشی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ پارکنگ کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ایس پیز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جب تک تمام تقریبات اختتام پذیر نہیں ہو جاتیں ڈیوٹی الرٹ رہے گی۔

عرس/شاہ محمود 

مزید : ملتان صفحہ آخر