ادکامی ادبیات کا”وجدان اور اظہار“ مذاکرہ اور”مشاعرہ“کا انعقاد

ادکامی ادبیات کا”وجدان اور اظہار“ مذاکرہ اور”مشاعرہ“کا انعقاد

  



 کراچی(اسٹاف رپورٹ) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ”وجدان اور اظہار“ مذاکرہ  اور”مشاعرہ“کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت  معروف دانشور شاعرڈاکٹر  شاداب احسانی  نے کی  اور مہما ن خاص کوثر نقوی  ، نزاکت فاضلانی ڈائریکٹر لائبریریز اور ڈاکٹر عرفان شاہ تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر  شاداب احسانی  صدارتی خطاب میں کہا کہ اظہار اور معمولیت جب کروچے یہ کہتا ہے کہ وجدان اور اظہار دونوں ایک ہی مظہر ہیں تو ہم سوچ سکتے ہیں کہ اس شخص کے یہاں وجدان کی کیا حیثیت ہوگی جو مصوری نہیں کرسکتا۔ اگر ہم احساس کے بارے میں کروچے کے وسیع تصور کو قبول بھی کرلیں تو اس مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔مثلاً وہ شخص جس کے سامنے پھلوں کا طثت رکھا ہواور وہ تمام تروجدان کے باوجود اس کو مصور کرنے کے قابل نہ ہوا س شخص کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے جو وجدان سے بھی لیس ہواور اظہار کا ملکہ بھی اسے حاصل ہو۔ کروچے ان دونوں معاملات پر اپنا نقطہء نظر تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک طرف تعصب یا ذہنی فریب ہوتا ہے کہ ہمیں حقیقت کا مکمل وجدان حاصل ہے۔ ڈاکٹر عرفان شاہ نے کہا  وجدان اکثر اوقات عملی زندگی کے جھمیلوں میں عارضی نوعیت کا حامل ہوتا ہے اور جس دنیا کے بارے میں ہم وجدان کے ہونے کادعویٰ کرتے وہ کوئی مختصر سی حقیقت ہوتی ہے۔ اس کا اظہار بھی مختصر ہوتاہے۔ اسے ہم روشنی اور رنگ کی کچھڑی قرارے سکتے ہیں دوسری طرف اگرہمار ممدوح سنجیدگی سے پھل کے طثت پر تجوہ مرکورز کرے تو یہ تسلیم نہ کرنا تعصب ہوا کہ وہ اس حدتک اظہار کررہا ہے۔ اگرچہ کروچے کے مطابق عام طور براہ راست چیزوں کا ادراک فوٹو کرافک ہوتا ہے۔ اس میں وہ غنائی کیفیت عنقا ہوتی ہے جو فن کارکاخاصاہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ اظہار شعور ی ہونے کے باوجود استعاراتی سطح کا ہوتا ہے، اس وقت جب اس کا تقابل روحانی یا جمالیاتی اظہار سے کیا جائے جس کا مقصد صرف اظہار ہوتا ہے عینی جو احساس کو نظریاتی صورت دے سکتا ہے اور اسے زبان، نغمے اور صورت میں تبدیل کردیتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر