ڈیجیٹل لائیزیشن اصلاحات۔خواب بنے کیسے حقیقت

ڈیجیٹل لائیزیشن اصلاحات۔خواب بنے کیسے حقیقت

  



پچھلے چند دنوں سے ڈیجیٹل لائیزیشن کا ذکر بڑے ذور وشور سیاخبارات اور ٹیلی ویڑن سکرین کی زینت بنا ہوا ہے۔ گورنمنٹ نے سٹریٹسٹرٹیجک ریفارم یو نٹ کے تحت ڈیجیٹل پاکستان کا بیڑا اٹھایا ہے۔ جس کا مقصد پیپر لیس گورنس اور ڈیجیٹل پے منٹ کا نظام پاکستان میں متعارف کروانا ہے۔ اس مقصد کے لیے تانیہ ایڈریس کا انتخاب کیا گیا جو اس سے پہلے گوگل میں ایگزیکٹو کے طور پر خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔ اسی طر ح کا کام گزشتہ ادوار میں بھی شروع کیا گیا بلکہ شاید یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ گزشتہ دہائیوں سے(ای گورنس) جیسے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اس میں کامیابی کس حد تک ممکن ہوئی اگر آپ اپنے طور کبھی جاننا چاہیں تو کسی بھی ادارے کی خدمات کی فراہمی کا طریقہ کار جان لیں تو آپ کو ڈیجیٹل پاکستا ن کا اندازہ ہو جاے گا۔ ڈیجیٹل پاکستان کی اہمیت کوسمجھے بغیر شاید وہ نتائج ہم نہ حاصل کرپائیں جس کی توقع کر رہے ہیں۔ بلا شبہ یہ بات بڑے وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ اگر ہم نے بدلتے حالا ت کے مطابق نہ بدلنے کا فیصلہ کیا تو پھر شاید ہم تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اقوام عالم کی دو ڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں۔ بقول اقبالؒ

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

اس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ اگر کچھ مستقل ہے اس ذمانے میں۔ تو وہ تبدیلی ہے۔ بدلتے حالات میں بدلنے کا ہی فیصلہ بہتر ین فیصلہ ہو گا۔جس زمانے میں ہم پروان چڑھے تب ٹیکنالوجی ابھی ا پنے ارتقائی مراحل میں تھی۔ ایسی بہت ساری ٹیکنالوجیز جن کوسٹیٹس سمبل سمجھا جاتا تھا تقریبا ختم ہوگئیں۔ فرق صرف بر وقت ادراک نہ ہونا تھا۔ پالیسیوں میں تسلسل ضروری مگر بدلتے حلات کے مطابق بدلنا بھی اتنا ہی ضروری۔ گزشتہ ادوار میں جو بہتر کام ہوا۔ اس میں کمپیوٹرائزیشن آ ف لینڈ ڑیکارڈ کا منصوبہ سرفہرست تھا۔ جس سے نہ صرف صدیوں پرانا نظام تبدیل ہوا بلکہ اس کے ذریعے حکومتی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوا۔ صرف ایک مالی سال کے کثیر عرصے میں بیس ارب سے زائد قومی خزانے میں جمع کرواکر ناقدین کو حیران کر دیا۔اس سے پہلے کبھی ا س کے اشر اشیر بھی جمع نہ ہوے تھے۔ غالباً پنجاب حکومت کا خدمات کی فراہمی کا یہ سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ جس نے صرف ایک مالی سال کے اندر مجموعی طور پر تین اعشاریہ پانچ ملین سے زآئد صارفین کو خدمات کی فراہمی یقینی بنائی۔ اسکا دائرہ کار پنجاب کے دیہی علاقوں تک وسیع کیا جا رہا ہے۔ ورلڈ بنک نے اس منصوبے کو نہ صرف سراہا بلکہ واشنگٹن میں خصوصی پذیرائی کے ساتھ ساتھ خطے کے باقی ممالک کے لئے بھی رول ماڈل قرار دے دیا۔ اس منصوبہ کے ثمرات کے بدولت آج ایز آف ڈونگ بزنس انڈکس میں پاکستان نے نمایاں بہتری حاصل کی ہے۔ اگرچہ اسی طرح کا نظام باقی صوبے بھی اپنا لیتے تو شاید آج ایز آف ڈونگ بزنس انڈکس میں پاکستان ٹاپ رینک ممالک کی فہرست میں سر فہرست ہوتا۔ ایسے نظام کی تبدیلی جس کے مطلق قوی گمان تھا کہ شاید یہ کبھی تبدیل نہیں ہو سکے گا۔ یہ اس بات کا غماز ہے کہ اگر کسی بھی کام کو مستقل مزاجی، شب وروز محنت اور اہداف کا تعین کرنیکے ساتھ کیا جاے تو وہ چاہے ناممکن ہی سہی مگر ممکن ہو جاتا ہے۔

ڈیجیٹل لائیزیشن کا فیصلہ انتہائی ضروری بلکہ درست سمت میں اٹھایا جانے والا درست قدم ہے۔ ماضی کے تجربے کے روشنی میں چند چیزوں سے آگاہی انتہائی ضروری ہے۔نمبر ایک جو کام کرنا ہے اس کے متعلق مکمل آشنائی۔ نمبر دو: کیا یہ کام مجوزہ فریم ورک کے تحت ممکن ہے یا اس کے لیے قوانین میں بھی ضروری تبدیلیاں درکار ہوں گی۔ تیسرا اداراجاتی مزاحمت سے کیسے نمٹنا ہے۔ چوتھا اس کام کو بروے کا ر لانے کے لیے اہدف کا تعین کرنا۔

ہمارے اردگرد کے بہت سارے ممالک میں ڈیجیٹل اصلاحاتی ایجنڈا پر بڑی سرائیت سے کام لیا گیا ہے۔ جس میں سب سے پہلے اس کے اہداف کا تعین کیا گیا۔ ان اہداف کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ نمبر ایک ہر اہلکار دفتر میں کمپیوٹر کے ذریعے ہی اپنی خدمات سر انجام دے سکے گا۔ نمبر دو۔ سائل کو خدمات کی فراہی بذریعہ کمپیوٹر ہی دی جا سکے گی۔نمبر تین۔کوئی بھی درخواست گزار صرف آن لائن ہی درخواست جمع کرواسکیں گے۔ نمبر چار کچھ عرصے بعد کسی بھی سائل کو دفتر چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔نمبر پانچ۔ تمام سروسز کا اجرا باہمی انسانی تعامل کے بغیر یقینی بنایا جائے گا۔ یہ پانچ رہنما اصول آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ ان عوامل کے اپنائے بغیر شاید کسی بھی اصلاحاتی ایجنڈا پر عمل تقریباً ناممکن ہو گا۔ ڈیجیٹل لائیزیشن کے ثمرات عوام تک باہم پہنچانے اور خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے تمام حکومتی اداروں کو اس دائرہ کار میں لانا چاہئے۔حصول مقصد کے لیے ان اہداف کا اطلاق ضروری بصورت دیگر خواب صرف خواب ہی رہ جائیں گے۔

اصلاحاتی ایجنڈا کا اطلاق صرف نظام خود کار طریقہ کار کے تحت ہی چلانے کا نام نہیں بلکہ معاشرتی اصلاحات بھی بھرپور توجہ طلب ہیں۔ ادارے میں ملازمین ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھے بغیر شاید کسی بھی نظام میں تبدیلی صرف جز وقتی ثابت ہوگی۔ اس بنیادی نقطہ کو سمجھنے میں کسی بھی آرکیٹیکٹ کو غلطی نہیں کرنی چاہیے۔

مزید : رائے /کالم