مینول نظام ختم،م سیشن کورٹ لاہور کا کمپیوٹر ائزڈ کیس مینجمنٹ سسٹم مکمل 

مینول نظام ختم،م سیشن کورٹ لاہور کا کمپیوٹر ائزڈ کیس مینجمنٹ سسٹم مکمل 

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ کی ہدایت پربغیر کسی اضافی لاگت کے سیشن کورٹ لاہورکا کمپیوٹرائزڈ کیس مینجمنٹ سسٹم مکمل ہوگیا،لاہور کی ماتحت عدالتوں میں مینول سسٹم ختم کرکے کیس دائر ہونے سے لے کراس کے حتمی فیصلہ تک سسٹم مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کردیا گیاہے،سائلین اور وکلا ء گھر بیٹھے مقدمات کی پیشی سے متعلق معلومات حاصل کرسکیں گے،اس منصوبہ کا افتتاح آئندہ ہفتے کیاجائے گا۔اس منصوبہ کوسیشن کورٹ کے ڈیٹاانٹری آپریٹرز نے پی آئی ٹی بی کی ٹیکنکل ٹیم کے ساتھ مل کربغیر پیسوں کے تیار کیا۔لاہورہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کرنے سے لے کر تمام عمل کوکمپیوٹرائزڈکیا گیا تھا جس کے بعد سیشن کورٹ لاہورسمیت پنجاب کی ماتحت عدالتوں اس سسٹم کا مکمل نفاذ ہونا تھا لیکن ماتحت عدلیہ میں صرف کازلسٹ جاری کرنے تک یہ منصوبہ محدود رہا جس کے بعد مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے بطور ضلعی عدلیہ کے انسپکشن جج ہونے پر اس منصوبہ کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا،انہوں نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ اس منصوبہ پر ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے فنڈز سے ایک روپیہ تک نہیں لیاجائے گا اور نہ ہی کسی کمپنی کو ٹھیکہ دیا جائے گا،اس منصوبہ پر سیشن جج لاہور قیصر نذیر بٹ نے نئے چیف جسٹس مامون رشید شیخ کو مکمل بریفنگ بھی دی،جس کے بعد منصوبہ پر کام شروع ہوا تو سیشن کورٹ کے ڈیٹا انٹری آپریٹرز اور پی آئی ٹی بی کی ٹیکنیکل ٹیم کی مشترکہ کاوش سے 6ماہ میں سافٹ وئیر تیارکرکے منصوبہ کو عمل جامہ پہنادیا، اس نئے آئی ٹی منصوبہ کے تحت پہلے مرحلہ میں سیشن کورٹ میں دائر ہونے والے مقدمہ سے لے کر مقدمہ کے فیصلہ تک سسٹم کو مکمل کمپیوٹرائزڈ کیا گیا۔دوسرے مرحلہ میں اس منصوبہ کو لاہور کی کچہریوں اور پورے پنجاب میں اس منصوبہ کو عملی طور پرنافذ کردیا جائے گا،چیف جسٹس مامون رشید آئندہ ہفتے اس منصوبہ کا افتتاح کریں گے۔

منصوبہ مکمل

مزید : صفحہ آخر