پیپلز پارٹی کا ایم کیو ایم پاکستان کیساتھ براہ راست مذاکرات کا فیصلہ، رہنماؤں کو ٹاسک تفویض

      پیپلز پارٹی کا ایم کیو ایم پاکستان کیساتھ براہ راست مذاکرات کا فیصلہ، ...

  



کراچی (این این آئی)سندھ حکومت میں شمولیت کی باقاعدہ دعوت دینے کی غرض سے پیپلزپارٹی نے ایم کیوایم پاکستان سے براہ راست مذاکرات کرنے کا فیصلہ کرلیا،بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماؤں کو ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات کا ٹاسک دے دیا۔ذرائع کا کہناہے کہ پیپلزپارٹی کا وفد جلد ایم کیوایم کے مرکز کا دورہ کرے گا اور انہیں شراکت اقتدار کی پیشکش کرے گا۔ذرائع نے دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ میں نیا بلدیاتی ایکٹ لانے کو تیار ہوچکی ہے، جس کے تحت میئرز،چیئرمینز کو مزید مالی وانتظامی اختیارات دیئے جائیں گے۔ذرائع پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کو میئر کے ماتحت کرنے پر بھی غور ہوسکتا ہے اوریہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت نے ایم کیوایم کے ساتھ مسلسل مذاکراتی عمل شروع کرنے کی ہدایت کی ہے جس میں ایم کیوایم کے ساتھ مذاکرات میں آئینی،سیاسی،انتظامی پیکیج پر بات ہوگی۔ علاوہ ازیں پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت دینے کے بعد سندھ حکومتی پارٹی میں اختلافات سامنے آگئے،سندھ کابینہ کے بعض اراکین سمیت ارکان سینٹ قومی وصوبائی اسمبلی اور پارٹی عہداران وکارکنان نے اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے،اس بارے میں ذمہ دار زرائع نے بتایا ہے کہ مخالف ارکان کا موقف ہے کہ ایم کیو ایم کو 2  مرتبہ حکومت میں شامل کر کے آزمایا جاچکا ہے،دونوں ادوار میں ایم کیو ایم نے ناصرف حکومت سے علیحدگی اختیار کی،بلکہ مرکز ی وصوبائی حکومتوں کو دھمکیوں اور بلیک میلنگ کا سلسلہ جاری رہا،اتحاد کے مخالفین کا یہ بھی موقف ہے کہ ایم کیو ایم کا کے ڈی اے،کے ایم سی اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا مطالبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایم کیو ایم 22اگست 2016  سے پہلے والے حالا ت لانا چاہتی ہے،زرائع کے مطابق دونں جماعتوں کے اتحاد کے مخالفین پیپلزپارٹی کے ارکان تحفظات کا اظہار کرنے کے لئے سابق صدر آصف علی زرداری چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے جلد ملاقات کریں گے،تاکہ ان قائدین کو ماضی کے ان تجربات سے آگاہ کیا جاسکے،بلکہ عوام کا اس فیصلے کے خلاف جو ردعمل سامنے آئے گا۔اس سے آگاہ کیا جاسکے،زرائع کے مطابق مخالفین کہتے ہیں جب پارٹی سندھ حکومت میں اکثریٹ رکھتی ہے تو اسے کسی کو ساتھ ملانے کی کیا ضرورت ہے،زرائع نے دعویٰ کیا کہ پارٹی قیادت کی جانب سے ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا تو ایسی صورت میں دراڑیں پڑ جائیں گی،زرائع کے مطابق مخالفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ سال2020 بلدیاتی انتخابات کا سال ہے،ایم کیو ایم کو اتحادی بنانے سے ان انتخابات پر بھی فرق پڑے گا اور ایم کیو ایم مخالف لوگ پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔

پیپلز پارٹی/فیصلہ

مزید : صفحہ آخر


loading...