حکومت نے ملک بحران دربحران کاشکار کردیا، بیرونی خطرات بڑھ رہے ہیں: سراج الحق 

حکومت نے ملک بحران دربحران کاشکار کردیا، بیرونی خطرات بڑھ رہے ہیں: سراج ...

  



 لاہور (آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی صدارت میں ہونے والے جماعت اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے حالیہ اجلاس میں ملک کی سیاسی، پارلیمانی، آئینی،اقتصادی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی جس میں اجلاس میں مکمل سوچ و بچار کے بعد عمران خان حکومت کو چارج شیٹ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک اِس وقت بحران دربحران کا شکار کردیاگیا ہے۔ پاکستان کے بیرونی دشمنوں سے قومی سلامتی کے لئے خطرات بڑھتے جارہے ہیں لیکن پریشان کن اور المناک صورت حال ہے کہ ملک کا اندرونی شیرازہ بکھراہواہے۔ سیاست، ریاست اور حکومت کا باہم ٹکراؤ عوام کے لیے ناقابل برداشت مشکلات پیدا کررہاہے۔ عملاً جولائی 2018ء تادسمبر2019ء کا عرصہ اقتدار میں وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف کی حکومت نااہلی، ناتجربہ کاری، تکبرو بدزبانی کا شکار ہے اور اسٹیٹس کو نہ توڑنے،گڈگورننس نہ دینے اور آزمودہ ناکام گلے سڑے نظام کو بدلنے کاکوئی وژ ن نہ رکھنے کی وجہ سے مکمل طور پر ناکام حکومت ہے،یہ ناکامی قومی المیہ ہے۔قرار داد میں کہاگیاہے کہ حکومت نے ملک کی اسلامی نظریاتی کردار کو بُری طرح مجروح کیا ہے، ریاست مدینہ کا نظام دینے کا اعلان کرکے عملاً انحراف کا راستہ اختیار کیا ہے۔ معاشرہ میں بدتہذیبی،بدکلامی کے ذریعے سماجی قدروں کوبُری طرح متاثر کردیاہے۔ سیاسی، پارلیمانی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ آئین کے رہنما اصولوں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں قانون سازی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ 2019حکومت کے لیے جھوٹ پلس کا سال تھا اور 2020کا آغاز صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کرپشن پلس سے کیا گیا۔ گزشتہ سال حکومت نے عوامی مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور نئے سال کے پہلے دن ہی تیل بجلی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ کرکے عوام کو مہنگائی کا تحفہ دیاہے۔ حکومت نے اپنی طرف سے پیغام دیا ہے کہ ٹوئنٹی20میں مہنگائی کے چھکے چوکے لگیں گے۔ حکومت ایک سا ل کی کارکردگی بتائے کہ 365 دنوں میں غربت ختم کرنے اور غریب کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے کیا قانون سازی کی ہے۔حکومت عوام دشمن پالیسیاں آئی ایم ایف کے کہنے پر بنا رہی ہے۔ عام آدمی کی زندگی مشکل ہو گئی ہے۔ بجلی، گیس کے بل ادا کرنا عوام کے لیے ناممکن ہوگیاہے۔ اس وقت ملک میں اداروں کے درمیان ٹکراؤ ہے۔ پرویز مشرف کا کیس اداروں کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔کوالالمپور سمٹ کا ایجنڈا وزیراعظم پاکستان سے مشاورت کے بعد طے ہواتھا مگر جب یہ سربراہی کانفرنس شروع ہوئی، پاکستان کی کرسی خالی تھی۔ جن لوگوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر پر ہمارا ساتھ دیا تھا، ہماری حکومت نے ان کو ناراض کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ اجلاس سے خطاب اور پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ 2019میں حکمرانوں نے اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب عوام ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ وزیراعظم باربا ر کہتے رہے ہیں کہ2020میں عوام کو ریلیف دیں گے مگرنئے سال کے پہلے دن ہی مہنگائی کے سونامی نے عام آدمی کے اوسان خطا کردیئے ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نیب کے حوالے سے آرڈیننس سے کرپٹ ٹولے اور کرپشن کو تحفظ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بلین ٹری اور بی آر ٹی منصوبے میں سینکڑوں ارب روپے کی کرپشن چھپ نہیں سکے گی۔ حکومت اعلیٰ عدالتوں میں درخواستیں دے رہی ہے کہ اس بارے میں مقدمات کو نہ سناجائے، اس سے ثابت ہوتاہے کہ حکومت اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر


loading...