بیورو کریسی کو تحفظ دینے کے بعد عوامی عہدیدار کو کیسے گرفتار کر سکتے ہیں ”اسلام آباد ہائیکورٹ“ کا نیب ترمیمی آرڈیننس پر مطمئن کرنے کا حکم 

  بیورو کریسی کو تحفظ دینے کے بعد عوامی عہدیدار کو کیسے گرفتار کر سکتے ہیں ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کو نئے ترمیمی آرڈیننس پر مطمئن کرنے کا حکم دیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے رہبر کمیٹی کے کنوینئر اکرم درانی کی ضمانت کے کیس کی سماعت کی۔ اکرم درانی کے وکیل نے درخواست کی کہ اکرم درانی کی ضمانت میں توسیع کی جائے، نئے نیب آرڈیننس کے تحت وہ اس کیس سے نکل جائیں گے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب پراسکیوٹر سے کہا کہ نئے آرڈیننس میں بیوروکریٹس کو تحفظ دے دیا گیا ہے، پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر تو بیورو کریٹ ہوتے ہیں ان کو تو آپ گرفتار نہیں کرسکتے، اکرم درانی پبلک آفس ہولڈر تھے، تمام اختیار تو سیکرٹری کے پاس ہوتا ہے، کیا آپ نے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر (سیکرٹری)کو کیس میں گرفتار کیا؟۔عدالت نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے تناظر میں ریمارکس دیے کہ جس بیورو کریٹ کے پاس تمام اختیار تھا آپ نے اسے نئے قانون میں تحفظ فراہم کردیا، جب اصل اتھارٹی کو تحفظ مل گیا تو آپ عوامی نمائندے کو کیسے گرفتار کرسکتے ہیں، ہمیں مطمئن کریں سارے بیوروکریٹس کو تحفظ دے دینے کے بعد پبلک آفس ہولڈر کو کیسے گرفتار کریں گے؟۔  عدالت  نے  اکرم درانی کی ضمانت  میں 15جنوری تک توسیع کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ  نیب کو نئے آرڈیننس کے تحت اس عدالت کو مطمئن کرنا ہو گا  چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ چیئرمین نیب کے پاس کس کی گرفتاری کاصوابدیدی اختیار نہیں ہے نیب گرفتار ملزمان کو سزایافتہ ملزمان بنا کر پریس ریلز جاری کرنے سے اجتناب کرے، عدالت نے قرار دیا کہ  پوری دنیا میں گرفتاری کے اختیار میں تناسب کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور نیب پریس ریلیز جاری کر کے بالکل غلط کرتا ہے جبکہ نیب کی پریس ریلیز لفاظی ہوتی ہے جیسے ملزم نہیں مجرم ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اکرم درانی تفتیش میں تعاون ہیں کر رہے ہیں، اس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ اکرم درانی نیب میں پیش ہوتے ہیں لیکن تعاون نہیں کرتے ہیں جبکہ اکرم درانی کے ایک کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں، ان پر غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری ہوا ہے، اس پر چیف جسٹس نے دوبارہ استفسار کیا کہ عدالت کو مطمئن کریں کہ اکرم درانی کیا تعاون نہیں کر رہے؟ اور کون سے سوالنامے کے جواب انہوں نے نہیں دیئے ہیں، کیا اثاثوں کا تعین ہو چکا ہے اور اب ذرائع آمدن پر جواب دینا ہے؟، اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اکرم درانی کے وارنٹ اثاثہ جات کیس میں نہیں بلکہ غیر غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں جاری ہوئے ہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ نیب جوملزمان کی گرفتاری کی پریس ریلیز جاری کرتا ہے جیسے سزایافتہ ہو لیکن پوری دنیا میں گرفتاری کے اختیار میں تناسب کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور نیب پریس ریلیز جاری کر کے بالکل غلط کرتا ہے جبکہ نیب کی پریس ریلیز لفاظی ہوتی ہے جیسے ملزم نہیں مجرم ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گرفتاری کا اختیار استعمال کرتے ہوئے تناسب کاطریقہ پڑھ کر آئیں، چیئرمین نیب کے پاس کس کی گرفتاری کاصوابدیدی اختیار تو نہیں ہے، یہاں پبلک آفس ہولڈر تو پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر تو نہیں ہوتے ہیں، پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر تو بیورو کریٹ ہوتے ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ جو نیا آرڈیننس آیا ہے اس میں تمام بیورو کریٹس تو محفوظ ہوتے ہیں، نیب کو نئے آرڈیننس کے تحت اس عدالت کو مطمئن کرنا ہو گا جبکہ نئے نیب آرڈیننس سے اور بہت سے سوالات اٹھ گئے ہیں جن پر عدالت کو مطمئن کرنا ہے، نیب اختیارات کے ناجائز استعمال کا کیس بنا رہا ہے، یہ تمام کیسز اختیارات کے ناجائز استعمال کے ہیں، اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اختیارات نہ رکھتے ہوئے بھی اکرم درانی نے غیر قانونی بھرتیاں کی ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اختیارات کا غلط استعمال یہ نہیں ہے کہ آپ کسی سے سفارش کر رہے ہیں جبکہ جن کے پاس اتھارٹی تھی انہیں تو نیب آرڈیننس کے ذریعے شیلڈ کر دیا گیا ہے اور نئے آرڈیننس کے تحت اختیار رکھنے والا جب محفوظ ہو جائے تو نیب کو ہمیں مطمئن کرنا ہو گا، عدالت کیلئے مشکل یہ ہے کہ جب اختیار رکھنے والے کو قانون نے محفوظ کر دیاہے تو دوسرے کو گرفتار کیسے کیا جا سکتا ہے، اس پر نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کا کہ یہ آرڈیننس کے بعد پہلا کیس ہے، اس پر عدالت نے اکرم درانی کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے 15جنوری تک توسیع کر دی اور چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ نیب تفتیشی اکرم درانی کے خلاف اچھی طرح تفتیش کریں اور اگر یہ کرپشن کا کیس ہے تو کیس میں کرپشن نظر آئے، کرپشن نکلے تو پھر بے شک انہیں 14سال کی سزا دلوائیں، عدالت نئے نیب آرڈیننس کی روشنی میں نیب سے معاونت بھی طلب کرلی  اور حکم دیا ہے کہ صدارتی آرڈیننس کی روشنی میں مطمئن کریں کہ گرفتاری کی اجازت کیوں دیں۔ عدالت نیب کو کمزور نہیں مضبوط کرے گی اور کرپشن کرنے والوں کو مثالی سزائیں ہی ملیں لیکن پراسیکیوشن درست ہو۔ عدالت نے کہا کہ ہمیں مطمئن کریں کہ سارے بیوروکریٹس کو تحفظ دینے کے بعد پبلک آفس ہولڈر کو کیسے گرفتار کریں گے، عدالت نے نیب کو جواب جمع کرانے تک سماعت 15جنوری تک ملتوی کر دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید : صفحہ اول