سینیٹ، اپوزیشن کا مہنگائی، نیب آرڈیننس، پٹرول کی قیمتوں کیخلاف احتجاج 

  سینیٹ، اپوزیشن کا مہنگائی، نیب آرڈیننس، پٹرول کی قیمتوں کیخلاف احتجاج 

  



اسلام آباد(نیوزایجنسیاں) سینیٹ میں اپوزیشن نے مہنگائی، نیب ترمیمی آرڈیننس کے اجراء،پٹرولیم مصنوعات اور سینیٹ کا اجلاس تاخیر سے بلائے جانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ محسوس ہوتاہے آئین موجود بھی ہے اور معطل بھی ہے، آئین پر عملدرآمد نہیں ہورہا،تین مہینے میں دانستہ طور پرسینیٹ اجلاس نہیں بلایا گیا،16آرڈیننس صدر نے جاری کئے ہیں، موجودہ حکومت نے ایوان صدر کو آرڈننس فیکٹری اور پارلیمنٹ کو آرڈیننس ڈپو بنا دیا،حکمرانی کا نظام بنی گالااور ایوان صدر سے نہیں چلایا جاسکتا،گیس کی قیمتیں بڑھا دی گئیں ہیں کروڑوں لوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں،ایل پی جی کی قیمتوں میں 25 روپے کا اضافہ غریب عوام  پر بہت بڑا حملہ ہے، توقع تھی کہ سال کے آغاز پرقوم کو خوشخبری دی جائے گی لیکن قوم پر ڈرون حملہ کیا گیا، سال کا آغاز شرمناک طریقے سے ہوا ہے، 365دن گزر گئے، حکومت ان دنوں کا حساب تو کر لے، کیا نیب کا قانون صرف سیاستدانوں کے لیئے ہے،بزنس مین اور بیوروکریٹ اس قانون میں سے نکل گئے۔ ان خیالات کا اظہار بدھ کو سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق، سینیٹر میاں رضاربانی، سراج الحق، عبدالغفور حیدری، شیری رحمان  اور مشتا ق احمد نے کیا۔ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے  دوران قائد خزب اختلاف سینیٹر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ ہم نے ریکوزیشن کے ذریعے اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا، لیکن ہم نے جونہی ریکوزیشن جمع کرائی تو حکومت نے جلدی میں اجلاس بلا لیا، آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش کر کے آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی اور سینیٹ کو اندھیرے میں رکھا گیا، 144دن سے زائد ہو گئے ہیں مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن ہے، وہاں لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے، اس مسئلے پربحث کی جائے، راجہ ظفرالحق نے کہا کہ خود ساختہ احتساب کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا، اس سے کوئی شخص مطمئن نہیں، گیس کی قیمتیں بڑھا دی گئیں ہیں کروڑوں لوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں، حکومت نے اپنا اجلاس بلالیا، اس کے پیچھے بھی کوئی منفی سوچ تھی،اب ان کو جلدی پڑی ہوئی ہے، اتنے دن پارلیمنٹ کو بند رکھا گیا  اور، سینیٹ کو تالا لگایا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہاکہ محسوس ہوتاہے آئین موجود بھی ہے اور معطل بھی ہے، آئین پر عملدرآمد نہیں ہورہا، دو سیشن کے درمیان 120 دن کا وقت آئین کے تحت نہیں گزر سکتا، آخری سیشن جو حکومت کی طرف سے بلایا گیا وہ تین ستمبر کو ختم ہوا، 121 دن ہو گئے ہیں چیئرمین سینیٹ نے خط لکھے، ان  کے کہنے پر بھی حکومت نے  سیشن نہیں بلایا،  ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے، اکتوبر سے آج تک تین مہینے میں دانستہ طور پر  اجلاس نہیں بلایا گیا،16 آرڈیننس صدر نے جاری کیئے ہیں،  ا یوان صدر کو آرڈیننس فیکٹری کے اندر تبدیل کر دیا، اس مدت  میں بہت اہم مسئلے اٹھے ،16 آرڈیننس کا سوال ہے، وفاقی حکومت نے آرٹیکل چھ کے تحت ایک کیس بنایا،آج حکومت کہہ رہی ہے اس کیس کے فیصلے کے خلاف جائیں گے،لیگل ٹیم وہی ہے جس نے مشرف دفاع  کیا، یہ ضروری ہو گیا کہ پارلیمان میں اس پر بحث ہو، میاں رضا ربانی نے کہا کہ کیا نیب کا قانون صرف سیاستدانوں کے لیئے ہے،بزنس مین اور بیوروکریٹ اس قانون میں سے نکل گئے، رہ کون گیا؟ رہ صرف سیاستدان گیا  ہے،کیسی  حکومت ہے جو آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے حوالے سے تین یا چار نوٹیفکیشن درست طور پر نہیں نکال سکی،  جے یو آئی (ف) کے رہنماء سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ اجلاس اتنی تاخیر سے ہورہا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی شکلیں بھی بھول گئے ہیں،ایل پی جی کی قیمتوں میں 25 روپے کا اضافہ غریب عوام  پر بہت بڑا حملہ ہے، توقع تھی کہ سال کے  آغاز  پرقوم کو خوشخبری دی جائے گی لیکن قوم پر ڈرون حملہ کیا گیا، اشیا خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، سال کا آغاز شرمناک طریقے سے ہوا ہے، چند دن صبر تو کر لیتے، صلاحیتوں کا فقدان ہے، ستمبر کے بعد سینیٹ کا  اجلاس نہیں ہوا، اس دوران بڑے بڑے واقعات ہوئے،  پرویز مشرف کے خلاف  فیصد آیا ، وہ  فیصلہ جیسا بھی تھا اس پر  بحث پارلیمنٹ میں ہونی چاہیئے تھی، وزیراعظم نے ملائیشیا جانا تھا، وہ نہیں جا سکے اس کی وجوہات کیا تھیں،جو ترامیم آرہی ہیں اس پر  بحث کریں گے لیکن آرڈیننس مسلسل آرہے ہیں،یا تو یہ سمجھا جائے کہ دونوں ایوان معطل ہیں اور حکومت مجبور ہے کہ آرڈیننس پر کام چلا لیں، نیب کے قوانین میں جو ترامیم آئی ہیں، وہ کیا ترامیم ہیں، ہم تو شروع سے نیب قانون کے خلاف ہیں،اس وقت مہنگائی،بیروزگاری ہے، جماعت اسلامی کے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 365دن گزر گئے، حکومت ان دنوں کا حساب تو کر لے، ان 365 دنوں میں پاکستان آج کہاں کھڑا ہے، ایوان کا کام ہی قانون سازی ہے، ہم قانون سازی نہیں کر سکے، خود حکومت نے دلچسپی نہیں لی ،عوام کا پیسہ ایوان پر خرچ ہو رہا ہے،آج جو پہلی خبر  سننے کو ملی ہے اس سے سب کے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوا، بجلی،ایل پی جی آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا، عام انسان کی زندگی مشکل ہو گئی ہے۔ مزدوروں کی بچے بھوکے سوتے ہیں، ملائیشیا نے ہمارے وزیراعظم کے استقبال کے لیئے بورڈ لگائے تھے اجلاس شروع ہوا تو پاکستان کی کرسی پر کوئی نہیں تھا، آج کشمیر کا مسئلہ کہاں گیا، سراج الحق نے کہا کہ   پرویز مشرف کے لیئے غدار کالفظ سب سے پہلے عمران خان سے سنا تھا، آج حکومت خود حیران پریشان ہے۔  پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن  نے کہا کہ  اجلاس اتنی عجلت میں بلایا گیا ہے کہ اخبارات سے اجلاس بلانے کا پتا چلا، پچاس دن رہ گئے ہیں پارلیمانی سال پورا ہونے میں، ایسا ملکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا،  عجلت میں سینٹ اجلاس بلانے کی دو وجوہات ہیں،ایک یہ کہ سینٹرز شرکت نہ کر سکیں اور دوسری یہ کہ یہ ایوان اور بدحال ہو، جب بل پاس کرانے ہوتے ہیں تو فوری اجلاس بلالیے جاتے ہیں،  پچھلے سال حکومت کی جانب سے  پچیس آرڈیننس لا ئے گئے ہیں،حکمرانی کا نظام بنی گالااور ایوان صدر سے نہیں چلایا جاسکتا،  ملائشیا کو کہا گیا کہ ملائیشیا سمٹ بلائیں اور پھر کیا  ہوا،ایک بیوقوف حکومت ملک چلارہی ہے، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ  موجودہ حکومت نے ایوان صدر کو آرڈننس فیکٹری اور پارلیمنٹ کو آرڈیننس ڈپو بنا دیا ،ایف بی آر کو سو ارب سے زیادہ شارٹ فال کا سامنا ہے،کیا 2020میں قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی واپس آئیں گی؟۔

اپوزیشن 

اسلام آباد(نیوزایجنسیاں)وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا کہنا ہے کہ سو فیصد اتفاق رائے نہیں ہوتا، جمہوریت میں کم ازکم اتفاق رائے ہوتا ہے، تمام ادارے تمام معاملات میں قصور وار نہ ہی بے قصور ہیں، غلطیاں عدلیہ، فوج، سیاست دانوں سے بھی ہوئی ہونگی۔چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مسئلہ چاروں اداروں میں باہم دست وگریبان ہے، چاہتا ہوں نئے سال کا آغازمختلف ہونا چاہیے، نئے سال میں ہماری مرضی ہے نیا باب لکھیں یا پچھلی کتاب پڑھنا شروع کردیں۔وفاقی وزیرسائنس وٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ 2020کا نیا سورج طلوع ہوچکا ہے، روس، عراق، مشرقِ وسطی کو ہمیں دیکھنا چاہیے۔ ہم نے معاملات درست نہ کیے تو مستقبل ہاتھ سے نکل جائے گا۔فواد چودھری کا مزید کہنا تھا کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف کو کہتے ہیں ٹانگ دیں لیکن پی سی او ججز کو تحفظ دیتے ہیں، آئین کے اندروزیراعظم کا احترام لازم ہیں۔ عدلیہ کا بہت احترام کرتا ہوں۔ سپریم کورٹ،عدالتیں سیاست دانوں کا احتساب کرنا چاہتے ہیں جوڈیشری خود پبلک اکاؤنٹ کمیٹی میں آنے کوتیارنہیں۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے ممبران، احتساب کے نظام، آرمی ایکٹ پراتفاق رائے ہو سکتا ہے، فوج ہم سب کی ہے، ہمیں ان ایشوز پر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔ فوادنے کہا ہے کہ بہت سے معاملات میں حکومت سے غلطیاں ہوئیں، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیاں ختم ہونی چاہئیں۔پارلیمان کے ادارے حکومت اور اپوزیشن ہیں، پارلیمان سے باہر کے ادارے فوج  اور عدلیہ ہیں،  ایسا لگ رہا ہے کہ چاروں ادارے دست و گریباں ہیں، اگر ہم آپس میں دست و گریبان رہے تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے، عدلیہ اور فوج کے معاملات پر سب کو  ایک پیج پر ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن، احتساب اور آرمی ترمیمی بل پراتفاق رائے ہونا چاہیے۔فواد چوہدری نے کہا کہ اگر ہم احتساب کا نظام نہیں لا سکتے تو الیکشن کمیشن بھی نہیں بناسکتے، جمہوریت میں کم سے کم اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیاں ختم ہونی چاہیے اور یہ تلخیاں صرف انسانی بنیادوں پر رہیں تو بہتر ہے۔دوسری طرف سینیٹر فیصل جاویدنے اپنے خطاب میں کہاکہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے، ادھر چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر بہرام مند تنگی کوباربار مداخلت اور شورشرابے پر وارننگ جاری کردی۔

حکومت 

مزید : صفحہ اول