مزدور بنیادی حقو ق سے محروم،حکومتی کارروائیاں خانہ پری ثابت ہوئیں 

مزدور بنیادی حقو ق سے محروم،حکومتی کارروائیاں خانہ پری ثابت ہوئیں 

  



لاہور(لیاقت کھرل) سال 2019ء میں مزدور بنیادی حقوق سے محروم رہا ہے، جس میں آجر اور اجیر کے درمیان فاصلہ کم نہ ہو سکا۔ کم سے کم اْجرت، اوقات کار اور جبری مشقت کے خلاف کارروائی محض ”خانہ پری“ ثابت ہوئی ہے جبکہ چائلڈلیبر کو باقائدہ ممانعت اور جرم قراردینے کے باوجود 50 سے 60 فیصدریکارڈ کیا گیا ہے۔ لیبر کالونیوں پر قبضہ مافیا کا راج برقرار، مزدور فلیٹوں کے مالکان حقوق سے محروم رہے ہیں،پرائم منسٹر پورٹل سیل پر شکایات کے باوجود مزدور سراپا احتجاج بنے رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سال2019ء میں بھی مزدوروں کے استحصال کا سلسلہ جاری رہا ہے اور مزدور بنیادی حقوق اور یونین سازی سے محروم رہے ہیں، جس کے باعث مزدور کو کم سے کم اْجرت 17500 اور تنخواہ کے حصول سمیت اوقات کار میں شدید دشواری کا سامناکرنا پڑا ہے جس کے باعث جبری مشقت کے سلسلہ میں کمی واقع نہیں ہو سکی ہے۔محکمہ لیبر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھرمیں 9ہزار سے زائد بھٹے ہیں جبکہ 22 ہزار سے زائد فیکٹریاں اورکارخانے محکمہ لیبر کے پاس رجسٹرڈ ہیں جبکہ ساڑھے چارلاکھ سے زائدریسٹورنٹس، ہوٹلز اور موٹر سائیکل و رکشہ کی وورکشاپس اور دکانیں اس کیالگ ہیں جن کی رجسٹریشن کے لئے محکمہ لیبر نے ایک پرائیویٹ ادارے سے سروئے کے لئے خدمات حاصل کر رکھی ہیں جو کہ جون 2020ء میں رپورٹ مکمل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے جس میں تین لاکھ سے زائد نو عمر لڑکوں کی چائلڈ لیبراور جبری مشقت کی فہرست میں آنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ جن کی عمر 10سال سے اوپر کی بتائی گئی ہیں اور اس میں 12 سال سے 14 سال کے کم عمر بچوں سے چائلڈ لیبر اور جبری مشقت لی جانے کا ذکر کیا جا رہا ہے جبکہ اس کے علاوہ فیکٹریوں اور کارخانوں میں کم سے کم اْجرت 17500 کے قانون پرعملدرآمد نہیں ہو سکاہے اور گزشتہ سال بھی فیکٹریوں اور کارخانوں میں مزدوروں کو 14 ہزار سے 15 ہزاراْجرت دئیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ محکمہ لیبر کی رپورٹ کے مطابق محکمہ لیبر میں 700 سے زائد اعلیٰ افسران اور ملازمین کی اسامیاں خالی پڑی ہیں جس میں محکمہ کے اعلیٰ افسران کی عدم دلچسپی کے باعث بھرتیوں کاعمل مکمل نہیں کیا جا سکا ہے جبکہ اس حوالے سے محکمہ لیبر کیڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر پنجاب محمد دآد نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ سال2019ء میں سب سے زیادہ لیبر ایکٹ کی خلاف ورزی پر چائلڈ لیبر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جس میں بھٹہ مالکان کیخلاف 1100 سے زائد مقدمات رجسٹرڈ کروائے گئے ہیں جبکہ مزدور کی کم سے کم اْجرت، تنخواہ اور اوقاتکار پر بھی کیسز تیار کر کے عدالتوں میں جمع کروائے گئے ہیں۔ انہوں نیبتایا کہ چائلڈ لیبر کے خلاف سال بھر میں باقائدہ مہم چلائی گئی ہے جس سے چائلڈ لیبر کے خلاف کریک ڈاؤن میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چائلڈلیبر کو باقائدہ جرم قرار دیا گیا ہے اور چائلڈ لیبر کی ممانعت سے چائلڈلیبر کی شکایات میں کمی آ رہی ہے۔

مزدور 

مزید : صفحہ اول


loading...