وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس، آرمی ایکٹ میں ترمیم منظور، آرمی چیف سمیت تینوں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کا طریقہ کا رکی بھی منظوری دیدی گئی، بل کا مسودہ جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ

    وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس، آرمی ایکٹ میں ترمیم منظور، آرمی چیف سمیت ...

  



اسلام آباد)سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی کابینہ نے آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کے مسودے کی منظوری دے دی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس ہوا۔ کابینہ نے آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کے مسودے کی منظوری دیتے ہوئے آرمی چیف سمیت تینوں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کے طریقہ کار کی منظوری دے دی۔حکومت نے آرمی ترمیمی ایکٹ جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پرویز خٹک، عامر ڈوگر، علی محمد خان اور اعظم سواتی پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی جو اپوزیشن سے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر مذاکرات کرے گی۔آرمی ایکٹ میں ترمیم سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کی گئی ہے جس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت اورتوسیع کاطریقہ کاروضع کیاگیا ہے۔۔ ذرائع نے بتایاکہ وزیراعظم کی صوابدید ہوگی کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3سال تک توسیع کی ایڈوائس کرسکیں گے،آرمی چیف کی مدت ملازمت مں توسیع کیلئے آرمی ایکٹ کے سیکشن 172 میں ترمیم کی گئی،آرمی ایکٹ میں ترمیم کی روشنی میں سروسزرولزکی دفعہ155میں ترمیم کی منظوری بھی دی گئی۔ ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل جمعے کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا،(آج) جمعرات اپوزیشن کو آرمی ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ دیا جائیگا۔

آرمی ایکٹ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،آئی این پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کے حکمران کہتے تھے کہ ہم پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنائیں گے، یہ ایک ویژن ہے ایشین ٹائیگر بننا کوئی بڑی چیز نہیں، میرا شروع سے ہی وژن ہے کہ ہم نے پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانا ہے، مدینہ کی ریاست ایک آزمودہ ماڈل ہے جس کی وجہ سے ایک عظیم قوم بنی، ہمیں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، جس طرح کی ڈگریاں دی جا رہی ہیں اس پر ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہمارا ٹارگٹ پاکستان کا نظام ٹھیک کرنا ہے ہم ادارے مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ تعلیم کو جس توجہ کی ضرورت تھی وہ ہم دیں گے، ہمارے آج حالات اچھے نہیں تو اس کی وجہ ماضی میں تعلیم کو اہمیت نہ دینا ہے، اب روپے کی قدر مستحکم ہے، اسٹاک مارکیٹ بلند سطح پر ہے، بیرونی سرمایہ کاری آرہی ہے، اب ہم صحیح راستے پر ہیں،ہماری معیشت ٹھیک ہو گئی ہے لیکن عوام کو مشکل وقت سے گزرنا پڑ رہا ہے، بے روزگاری بڑھی، چیزیں مہنگی ہوئیں،مہنگائی کی وجہ روپے کی قدر گرنا ہے، ہمیں اس میں مزید اضافہ کرنا ہے، ملائیشیاء کی سیاحت کی آمدنی 20ارب ڈالر،ترکی کی 40ارب ڈالر اور سوئٹزرلینڈ کی 80ارب ڈالر ہے،سیاحت کو مزید فروغ دیں گے۔بدھ کو وزیراعظم عمران خان نے ایئریونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے کیمپس کے سنگ بنیاد پر ایئرفورس کو مبارکباد پیشا کرتا ہوں،یہ آپ کا چوتھا کیمپس ہے،جس طرح آپ نے ایئریونیورسٹی کو چلایا اس پر آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ہمیں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، جس طرح کی ڈگریاں دی جا رہی ہیں اس پر ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے،ایئریونیورسٹی کا نیا کیمپس جدید سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گادنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے ایک دو سال میں چیزیں پرانی ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے پاس ایسے ادارے ہوں جو اس سائنسی انقلاب سے فائدہ اٹھا سکیں،ہمیں اپنے تعلیمی معیار کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنا ہو گا،مشکل وقت ہر قوم پر آتے ہیں، ہمیں دیکھنا ہے کہ تعلیم کیلئے کیا کر سکتے ہیں، ہماری قوم میں بڑا پوٹینشل ہے،ہمارے پاس وسیع افرادی قوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ٹارگٹ پاکستان کا نظام ٹھیک کرنا ہے ہم ادارے مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ تعلیم کو جس توجہ کی ضرورت تھی وہ ہم دیں گے، ہمارے آج حالات اچھے نہیں تو اس کی وجہ ماضی میں تعلیم کو اہمیت نہ دینا ہے،اسی وجہ سے ہماری جو ہیومن ڈویلپمنٹ ہونا تھی وہ نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبیؐ نے بھی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا،جنگ بدر میں قیدیوں کو آزاد کرنے کیلئے بھی یہ شرط رکھی کہ جو قیدی دس مسلمانوں کو پڑھائے گا اسے آزاد کر دیں گے،اسی اہمیت کی وجہ سے مسلمانوں نے سائنس کے میدان میں ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمران کہتے تھے کہ ہم پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنائیں گے، یہ ایک ویژن ہے ایشین ٹائیگر بننا کوئی بڑی چیز نہیں، میرا شروع سے ہی وژن ہے کہ ہم نے پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانا ہے، مدینہ کی ریاست ایک آزمودہ ماڈل ہے جس کی وجہ سے ایک عظیم قوم بنی،اس سے پہلے عرب قوم کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھاپھر اسی قوم نے دنیا کی امامت کی،انسان جو چیز تصور کر سکتا ہے وہ اسے بنا سکتا ہے، انسان اشرف المخلوقات ہے، بڑے لوگوں اور اداروں کے وژن بھی بڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب روپے کی قدر مستحکم ہے، اسٹاک مارکیٹ بلند سطح پر ہے، بیرونی سرمایہ کاری آرہی ہے، اب ہم صحیح راستے پر ہیں،ہماری معیشت ٹھیک ہو گئی ہے لیکن عوام کو مشکل وقت سے گزرنا پڑ رہا ہے، بے روزگاری بڑھی، چیزیں مہنگی ہوئیں،مہنگائی کی وجہ روپے کی قدر گرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2020میں پاکستان ترقی کی طرف جائے گا، پاکستان میں بہت پوٹینشل ہے بس ہمیں اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہے، ہمارے پاس معدنیات ہیں، پانی کے ذخائر ہیں لیکن ہم ان کا صحیح استعمال نہیں کرتے،سیاحت کا شعبہ بہت جلد ترقی کرے گا، لوگوں کیلئے روزگار پیدا ہو گا، پاکستان کے سیاحتی مقامات کو دنیا تسلیم کرتی ہے، ہماری سیاحت میں آمدنی دوگنی ہو گئی ہے، ہمیں اس میں مزید اضافہ کرنا ہے، ملائیشیاء کی سیاحت کی آمدنی 20ارب ڈالر،ترکی کی 40ارب ڈالر اور سوئٹزرلینڈ کی 80ارب ڈالر ہے،سیاحت کو مزید فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یوٹیلیٹی سٹورز پر غریب طبقے کو سستی چیزیں فراہم کریں گے، انصاف کارڈ فراہم کر رہے ہیں، غریب طبقے کیلئے لنگر منصوبے کو بھی وسعت دے رہے ہیں،تعمیراتی شعبے کو بھی ترقی دے رہے ہیں اس حوالے سے قانون سازی رکی ہوئی ہے،جیسے ہی یہ قانون پاس ہو جائے گا تعمیراتی شعبوں کو بھی ترقی ملے گی اور اس سے متعلقہ 40صنعتوں کو بھی فروغ ملے گا، ہم پناہ گاہوں کے منصوبے کو بھی وسعت دے رہے ہیں،2020میں پاکستان کو صحیح معنوں میں فلاحی ریاست بنانے کیلئے اہم اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ملاقات ہوئی جس میں صوبے کی سیاسی صورتحال کا جائزہ اور اہم امور پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبائی حکومت سے متعلق امور پر وزیراعظم سے مشاورت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے سردار عثمان بزدار کو پنجاب کو ترقیاتی منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہیٰ نے بھی ملاقات کی۔ ملکی اور پنجاب کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور ق لیگ رہنما مونس الہیٰ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا بھی شریک تھے۔ذرائع کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پنجاب کے سیاسی معاملات پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ وزیراعظم نے مونس الہیٰ سے گفتگو میں حکومتی معاملات میں ق لیگ کے مثبت کردار اور تعاون کی تعریف کی۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ترلائی پناہ گاہ کا اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے مزدوروں سے ملاقات بھی کی۔، دورے کے دوران پناہ گاہ میں دی گئی سہولیات کے بارے میں بھی پوچھا جبکہ انتظامیہ نے پناہ گاہ میں دی گئی سہولیات کے حوالے سے انہیں ا?گاہ کیا۔دورے کے دوران وزیراعظم نے خود کمپیوٹر پر پناہ گزینوں کے اعداد و شمار چیک کیے جبکہ اس دوران انہوں نے مزدوروں سے ملاقات کی اور ان کا حال بھی پوچھا۔مزدوروں کے ساتھ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پوچھا کہ بتائیں حالات کیسے ہیں، کیا آپ کو کام مل رہا ہے؟

ایک اور مزدور سے عمران خان نے سوال کیا کہ آپ مزدوری کے لیے کہاں سے آئے۔ پناہ گاہ میں موجود افراد اپنے درمیان وزیر اعظم کو دیکھ کر خوش ہو گئے۔وزیراعظم عمران خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ شکر ہے پناہ لاہ میں ہیٹر لگا ہوا ہے، حالات بہتر بنا رہے ہیں آپ کو جلد زیادہ کام ملے گا۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے وفد کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔ملاقات کے دوران وفد میں گوہر اعجاز، رحمان نسیم، عامر فیاض شیخ، فواد مختار، خواجہ محمد انیس، دانش قیصر، کامران ارشد، عبدالرحیم ناصر، یوسف عبداللہ، شاہد ستار، حامد زمان خان اور طارق سعود شامل تھے۔ملاقات کے دوران مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، چیرمین ایف بی آر سید شبر زیدی اور سیکرٹری تجارت ڈویڑن بھی موجود تھے۔اپٹما وفد نے وزیراعظم عمران خان اور حکومت کی معاشی ٹیم کا ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ کے حوالہ سے اٹھائے گئے اقدامات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کپاس کی فصل کو ٹڈی دل کے حملے سے کافی نقصان ہوا جس کی وجہ سے پیداوار کم ہوئی اس سے ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی کا خدشہ ہے۔وفد نے کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ وزیر اعظم نے وفد کی تجویز پر تجارت ڈویڑن کو ہدایت جاری کی کہ کپاس کی پیداوار کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ماہر فوکل پرسن تعینات کیا جائے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کپاس پاکستان کی اہم ترین فصل ہے جس کی پیداوار سے روزگار اور معاشی ترقی کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ملکی برآمدات کا 60 فیصد حصہ کپاس کی فصل سے ملحقہ ہے۔ حکومت چین کے اشتراک سے کپاس سمیت دیگر فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کے لیے ریسرچ پر توجہ دے رہی ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے اشیائے خورودونوش میں ملاوٹ پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاوٹ کے مرتکب عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ایسے افراد محض چندسکوں کے عوض عوام کی زندگیوں اور صحت کے ساتھ کھیل رہے ہیں ایسے عناصر کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جائے، ملاوٹ کے خاتمے کیلئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے اور جدید ٹیکنالوجی کو برؤے کار لایا جائے، وہ ہر ہفتے اس حوالے سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پیش رفت کا جائزہ لیں گے جبکہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلا س میں شہری علاقوں میں دودھ میں 44.2فیصد اور دیہی علاقوں میں 50.5فیصد پانی اور کیمیکل کی ملاوٹ کا انکشاف کیا گیا ہے۔ بدھ کو یہاں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک بھر میں اشیائے ضروریہ (آٹا، چاول، گھی، چینی، دالیں، سبزی وغیرہ) کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون ِ خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان، وفاقی سیکرٹری صاحبان، پنجاب، خیبرپختونخواہ اور سندھ کے چیف سیکرٹری صاحبان و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں وفاقی حکومت میں رائج ”درست دام“اپلیکیشن کے نظام کو صوبوں کے بڑے شہروں میں متعارف کرانے میں پیش رفت، دودھ، ملاوٹ، خوردنی تیل، گوشت، مصالحوں، دالوں، چائے کی پتی و دیگر کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کے خلاف کریک ڈاؤن، اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد پر نظر رکھنے اور مستقبل کی ضروریات کے مدنظر تخمینوں کے حوالے سے خصوصی سیل کے قیام،اجناس کی براہ راست فروخت اور کسانوں کی سہولت کے لئے تحصیل کی سطح پر ”کسان مارکیٹ“کے قیام کے حوالے سے پیش رفت اور شہری اور دیہی علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ جیسے معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ ڈاکٹر کاظم نیاز نے بتایا کہ عوام کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لئے وفاقی دارالحکومت کی طرز پر”درست دام“اپلی کیشن جنوری کے پہلے ہفتے میں پشاور، مردان اور ایبٹ آباد میں شروع کر دی جائیگی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے بتایا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے صوبے بھر سے 2122نمونے اکٹھے کیے گئے جن کو حکومت کی جدید لیبارٹریز اور پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹرئیل ریسرچ کے ذریعے چیک کرایا گیا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ حاصل ہونے والے اعدادو شمار کے مطابق دودھ میں شہری علاقوں میں 44.2فیصد پانی کی ملاوٹ جبکہ دیہی علاقوں میں 50.5فیصد ملاوٹ پائی گئی۔ دودھ میں کیمیکل ملانے کا تناسب شہری علاقوں میں 3.14فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں تقریبا ایک فیصد پایا گیا۔ خوردنی تیل میں فری فیٹی ایسڈ کی ملاوٹ شہری علاقوں میں 75فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 60.71فیصد پائی گئی۔ وزیر اعظم کو بتایاگیاکہ کم عمر اور بیماری زدہ گوشت کی شرح شہری علاقوں میں 1.71فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 2.85فیصد پائی گئی، گوشت میں پانی اور کلر (رنگ) ملانے کی شرح شہری علاقوں میں تقریباً تین فیصد جبکہ یہ دیہی علاقوں میں یہ شرح دس فیصد سے زائد پائی گئی۔ اجلاس میں مصالحوں میں رنگ کی شرح شہری علاقوں میں بیس فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں تقریباً نو فیصد پائی گئی۔ اجلاس میں چائے کی پتی میں رنگ و دیگر ملاوٹی اجزاء کی شرح شہری علاقوں میں تقریباً تیس فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح تقریباً پچیس فیصد پائی گئی۔ اجلاس میں بتایاگیا کہ دالوں میں کلر(رنگ)، دیگر بیج اور ریت و پتھر کی ملاوٹ کی شرح تقریبا چار فیصد کے لگ بھگ پائی گئی، دیگر صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان کی جانب سے بھی اسی طرح کے اعدادوشمار اجلاس میں پیش کیے گئے۔ وزیرِ اعظم نے اشیائے خورودونوش میں ملاوٹ پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملاوٹ کے مرتکب عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ایسے افراد محض چندسکوں کے عوض عوام کی زندگیوں اور صحت کے ساتھ کھیل رہے ہیں ایسے عناصر کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جائے۔ ڈاکٹر کاظم نیاز نے بتایا کہ صوبائی حکومت ملاوٹ کے تدارک کے لئے منظم حکمت عملی کے تحت اس مہم کو آگے بڑھا رہی ہے جس میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان کوارڈینیشن و معاونت کو یقینی بنایا جا رہاہے۔ اس ضمن میں عوام میں آگاہی کے لئے بھی بھرپور تشہیری مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تعلیمی اداروں میں اسپیشل کلاسز کا آغاز کیا گیا ہے،اس کے ساتھ ساتھ دیگر قانون اور انتظامی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔خوردنی تیل، دالوں اور چینی کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے،چیف سیکرٹری نے بتایا کہ گذشتہ ماہ برائلر چکن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بنیادی وجہ طلب میں اضافہ اور موسمی حالات تھے۔ وزیر اعظم عمرا ن خان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ زرعی ادویات اور بیج کی اقسام میں ملاوٹ کرنے والے مافیا کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں گے، سیڈ ایکٹ میں ترامیم، کاٹن سیس کو کپاس کی ریسرچ کے لیے مختص کرنے کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا جائے، مختلف اقسام کے بیج کی رجسٹریشن اور ٹیکس ریفنڈ کے عمل کو آسان بنایا جائے، کپاس کی پیداوار کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ماہر فوکل پرسن تعینات کیا جائے ، کپاس پاکستان کی اہم ترین فصل ہے جس کی پیداوار سے روزگار اور معاشی ترقی کے مواقع پیدا ہوتے ہیں،حکومت چین کے اشتراک سے کپاس سمیت دیگر فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کے لیے ریسرچ پر توجہ دے رہی ہے۔ بدھ کووزیر اعظم عمران خان سے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔وفد میں گوہر اعجاز، رحمان نسیم، عامر فیاض شیخ، فواد مختار، خواجہ محمد انیس، دانش قیصر، کامران ارشد، عبدالرحیم ناصر، یوسف عبداللہ، شاہد ستار، حامد زمان خان اور طارق سعود شامل تھے۔مشیر تجارت عبدالرزاق داد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، چیرمین ایف بی آر سید شبر زیدی اور سیکریٹری تجارت ڈویژن بھی ملاقات میں موجود تھے۔اس دوران اپٹما وفد نے وزیر اعظم اور حکومت کی معاشی ٹیم کا ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ کے حوالہ سے اٹھائے گئے اقدامات پر شکریہ ادا کیا۔وفد نے آگاہ کیا کہ گذشتہ سال کپاس کی فصل کو ٹڈی دل کے حملے سے کافی نقصان ہوا جس کی وجہ سے پیداوار کم ہوئی اس سے ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی کا خدشہ ہے۔وفد نے کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔وزیر اعظم نے وفد کی تجویز پر تجارت ڈویژن کو ہدایت جاری کی کہ کپاس کی پیداوار کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ماہر فوکل پرسن تعینات کیا جائے۔

مزید : صفحہ اول