پنجاب اسمبلی کے 10اجلاس، 25کروڑ روپے خرچ، 27سرکاری بل منظور

      پنجاب اسمبلی کے 10اجلاس، 25کروڑ روپے خرچ، 27سرکاری بل منظور

  



پنجاب اسمبلی کا ایوان پاکستان کی کل آبادی کے لحاظ سے اور عوامی نمائندگی کے حوالے سے مجموعی طور پر باقی تینوں صوبوں سے ایک بڑا ایوان ہے جس میں سینٹرل پنجاب اور جنوبی پنجاب دونوں کے منتخب نمائندوں کی اکثریت شامل ہے۔اسمبلی ارکان کا بنیادی مقصد پنجاب کے عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لئے قانون سازی کرنا ہوتا ہے مگر جب ہم عملی طور پر اس بات کو دیکھتے ہیں تو قانون سازی کے عمل میں ارکان اسمبلی کی کوئی دلچسپی ہی نہیں ہوتی ہے اور یہ مظاہرہ ایوان میں موجوددونوں اطراف یعنی(قائد حزب اقتدار) حکومت اور (قائد حزب اختلاف) اپوزیشن ارکان کسی بھی جانب سے قانون سازی کے عمل میں کوئی گہری دلچسپی کا مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملتا  اور دونوں اطراف سے محض ایک رسمی سی دلچسپی کا مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے اور اپوزیشن ارکان اس دوران ویسے ہی بائیکاٹ کرکے ایوان سے باہر چلے جاتے ہیں اپوزیشن نے اس سال اپنا سارا زور اپنے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آڈر جاری کروانے اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو چیئرمین پی اے سی بنوانے پر لگایا۔ سال 2019 کے دوران پنجاب اسمبلی کے ہونے والے اجلاسوں پر ریکارڈ خرچہ ہوا مجموعی طور پر سال میں 10اجلاس ہوئے جو قوم کو 25 کروڑ روپے سے زائد میں پڑے، متعدد اراکین اسمبلی نے حاضریاں لگا کر غائب ہونا معمول بنائے رکھا جس کے باعث اکثر اجلاس کورم کی نذز ہوتے رہے۔ پنجاب اسمبلی کے ختم ہونے والے سال کے دوران کل10 اجلاس ہوئے ان میں سے چار اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلائے گئے تھے۔ان اجلاسوں میں کل 72نشستیں ہوئیں جبکہ 89روز اجلاس ہوئے۔ پنجاب اسمبلی کا رواں سال کے دوران ہونے والا پہلا 19 روزہ اجلاس قوم کو 4کروڑ روپے میں پڑا اس اجلاس میں کل 15نشستیں ہوئیں۔20فروری کو ہونے والا 23روزہ اجلاس قوم کو 5کروڑ روپے پڑا اس اجلاس میں کل 18نشستیں ہوئیں۔ اس اجلاس میں اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں بڑھائی گئی تھیں۔11اپریل کو ہونے والا ایک روزہ اجلاس قوم کو ایک کروڑ سے زائد میں پڑا،یہ اجلاس اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلایا گیا تھا۔ 22اپریل کو شروع ہونے والا 12روزہ اجلاس قوم کو 3کروڑ میں پڑا۔ اس اجلاس میں کل 9نشستیں ہوئیں۔ پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس13 جون کو بلایا گیا اور 14 جون کو بجٹ پیش ہوا۔بجٹ اجلاس 15روز جاری رہاجس میں کل 12 نشستیں ہو ئیں یہ اجلاس قوم کو 4 کروڑ روپے سے زائد میں پڑا۔ اس اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب نے پورے اسمبلی سٹاف کو بنیادی تنخواہ کے برابر تین عزازئیے بھی دئیے۔علاوہ ازیں 15 جولائی کو اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلایا گیا ایک روزہ اجلاس قوم کو ایک کروڑ سے زائد میں پڑا۔ 29جولائی کو بھی اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلایا گیا اجلاس قوم کو ایک کروڑ سے زائد میں پڑا۔16 ستمبر کو بلایا گیا پنجاب اسمبلی کا 5روزہ اجلاس قوم کو 2کروڑ سے زائد میں پڑا۔اس اجلاس میں ا راکین کی کل 835 حاضریاں لگائی گئیں۔اس اجلاس میں کل چار نشستیں ہوئیں۔11 اکتوبر کو اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلایا گیا ایک روزہ اجلاس قوم کو ایک کروڑ سے زائد میں پڑا۔حکومت کی طرف پنجاب اسمبلی کا 18 نومبر کو بلایا گیا 13 رزوہ اجلاس قوم کو 3 کروڑ سے زائد میں پڑا اس اجلاس میں کل 10 نشستیں ہوئیں جس میں اراکین 1911 نے حاضریاں لگائیں۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں میں مایوس کن قانون سازی ہوئی متعدد اراکین پنجاب اسمبلی کے حاضری لگا کر غائب ہو جانے سے اجلاس کورم کی نذر ہوتے رہے جس سے قانون سازی کا عمل شدید متاثر ہوا پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں میں صرف 27  سرکاری بل جبکہ صرف ایک پرائیویٹ بل منطور ہوا،ان میں اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں بڑھانے کا بل بھی شامل ہے۔ رواں سال کے دوران 75تحاریک استحقاق جمع ہوئیں جن میں سے 37پیش ہوئی اور 15کمیٹیوں کے سپرد ہوئیں۔ سال کے دوران 750 تحاریک التوائے کار جمع ہوئیں جن میں سے 400 کو نمٹا دیا گیا۔ 980قرار دادیں جمع ہوئی جن میں سے 311ایوان میں پیش ہوئی اور صرف 35پاس ہوئیں۔پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں میں 1520 سوالات جمع ہوئے ان میں سے 1523ایوان میں پیش ہوئے جبکہ 1003 کے جوابات دئیے گئے تاہم شارٹ نوٹس سوال صرف ایک جمع ہوا جسے ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ 255توجہ دلاؤ نوٹس جمع ہوئے جن میں سے201ایوان میں پیش ہوئے اور صرف 60کے جوابات دئیے گئے۔اس سال 233زیرو اوور نوٹس جمع ہوئے ان میں سے 165ایوان میں پیش ہوئے اور صرف 39کے جوابات دئیے گئے۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ اول


loading...