سال 2019، 658نیب انکوائریاں، 217انوسٹی گیشنز مکمل، 161ریفرنسز کا فیصلہ ہوا

      سال 2019، 658نیب انکوائریاں، 217انوسٹی گیشنز مکمل، 161ریفرنسز کا فیصلہ ہوا

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جناب جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈ کوارٹرزمیں ایک اجلاس منعقد ہواجس میں نیب کی سال 2019 کی مجموعی طور پر سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈی جی آپریشنز ظاہر شاہ نے بتایا کہ نیب کوسال 2019 میں مجموعی طور پر51591 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 46123 شکایات کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیاجبکہ اس وقت 13299 شکایات پر کاروائی کی جارہی ہے۔ نیب نے سال 2019 میں 1464 شکایات پر جانچ پڑتال کی منظوری دی جن میں سے 1362شکایات کی جانچ پڑتال کو قانون کے مطابق مکمل کیا گیا جبکہ اس وقت 770 شکایات کی جانچ پڑتال پر قانون کے مطابق تحقیقات جاری ہیں۔ نیب نے سال 2019 میں 574 انکوائریوں کی منظوری دی جبکہ658 انکوائریوں کومکمل کیا گیا۔ اس وقت 859 انکوائریوں پر قانون کے مطابق تحقیقات جارہی ہیں۔ اسی طرح نیب نے سال 2019 میں 221 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی جن میں سے 217 انوسٹی گیشنز پرقانون کے مطابق کاروائی مکمل کی گئی۔ اس وقت 335 انوسٹی گیشنزپر قانون کے مطابق تحقیقات جاری ہیں۔ نیب نے سال 2019 میں 206 ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے۔ جن میں سے 161 ریفرنسز پر فیصلہ ہوا۔نیب نے سال 2019 میں بدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلا واسطہ طو ر پر 150 ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ چیئر مین نیب نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانااوربدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی نیب کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے نیب کی 2019 کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تمام ڈی جیز کو ہدایت کی کہ تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق مقررہ وقت کے اندرمنطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی مجموعی طور پر احتساب عدالتوں میں بدعنوان عناصر کو سزا دلوانے کی شرح تقریبا70َ فیصد ہے جس کو مزید بہتر بنایا جائیگا اور کمنائنڈ انوسٹی گیشن کے نظام کے تحت تمام شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نہ صرف مکمل کیا جائے بلکہ ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کیا جائے۔

نیب

مزید : صفحہ اول