2020 معاشی صورتحال میں تبدیلی  کا سال ہو گا،میاں ز اہد حسین 

2020 معاشی صورتحال میں تبدیلی  کا سال ہو گا،میاں ز اہد حسین 

  



کراچی (این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کاروباری برادری نے نئے سال میں حکومت سے بڑی امیدیں لگا رکھی ہیں اور وہ 2020 میں معیشت کی صورتحال بہتر ہوتا دیکھ رہی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے متعدد موقعوں پر اکنامک مینجمنٹ میں تبدیلی کا وعدہ کیا ہے جسکی وجہ سے کاروباری برادری کو امید ہے کہ نئے سال میں شرح سود کم کی جائے گی 

جبکہ ٹیکس وصول کرنے کے سلسلہ میں کچھ نرمی آئے گی جس سے کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ نئے سال میں معاشی استحکام کا تکلیف دہ مرحلہ اگر مکمل نا بھی ہوا تو کچھ نرمی ممکن ہے جس سے جی ڈی پی کی شرح نمو بہتر ہونا شروع ہو جائے گی اور کاروبار رواں ہونے سے عوام کو روزگار ملنا شروع ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا موجودہ حالات میں بڑی صنعتوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے جنکی بحالی ضروری ہو گئی ہے جبکہ نجی سرمایہ کاری، تاجروں اور صنعتکاروں کا اعتماد مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہو چکے ہیں، اخراجات اور درآمدات میں زبردست کمی آئی ہے اور وزیر اعظم عمران خان بھی متعدد بار معاشی پالیسی میں استحکام کے بجائے شرح نمو بڑھانے کا اعلان کیا ہے جس سے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور کاروباری برادری پر امید ہو گئی ہے اس لئے ان پر جلد از جلد عمل درآمد ضروری ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی طلب کو کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کو اتنا نہ بڑھانے دیا جائے کہ جن خساروں پر قابو پایا گیا ہے وہ دوبارہ نمودار ہو جائیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔کھربوں روپے کا نقصان کرنے والی سٹیل مل سمیت تمام ناکام اداروں سے جان چھڑائی جائے جبکہ توانائی کے شعبہ کو خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ بجلی کے شعبہ کا گردشی قرضہ 1.7 کھرب روپے تک پہنچ کر معیشت کے لئے بڑا خطرہ بن چکا ہے جبکہ گیس کے شعبہ کا گردشی قرضہ بھی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ معیشت کے تمام شعبوں میں مسابقت پیدا کی جائے، پیداواری شعبہ کو بحال کیا جائے اور برآمدات کو خصوصی توجہ دی جائے جس کے بغیر کشکول توڑنا ناممکن ہے۔ 

مزید : کامرس