2019ء عوام اور معیشت پر بہت بھاری گزرا،اکانومی واچ

      2019ء عوام اور معیشت پر بہت بھاری گزرا،اکانومی واچ

  



کراچی(این این آئی)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ 2019 عوام اور معیشت پر بہت بھاری گزرا۔یہ تکلیف دہ سال گزر گیا ہے اور نئے سال میں حالات بہتر ہونے کا امکان ہے مگر بعض اہم چیلنج باقی ہیں جن سے عہدہ براہ ہونا ضروری ہے۔مہنگائی پر قابو پانے کے لئے روپے کی قدر میں کم از کم پانچ فیصد اضافہ کیا جائے جبکہ صحت تعلیم اور صنعتی شعبہ کی بد حالی کا نوٹس لیا جائے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی سخت پالیسیوں کے نتیجہ میں کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں 75 فیصد کمی آ چکی ہے جو خوش آئند ہے مگر صنعتی شعبہ نے اسکی بھاری قیمت ادا کی ہے۔روپے کی قدر میں ضرورت سے زیادہ کمی نے صنعتی خام مال کومہنگا کر دیا، پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقت کی صلاحیت کم ہو گئی، بڑی صنعتوں کی پیداوار منفی ہو گئی، بے روزگاری بڑھی جبکہ بڑی صنعتوں کو خدمات فراہم کرنے والی چھوٹی صنعتیں بھی متاثر ہوئیں۔گزشتہ سال کے دوران عوام کی اکثریت کی آمدنی میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہوئی۔ آمدن میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ کی دو دہاری تلوار نے عوام کا جینا محال کر ڈالاجبکہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔

روپے کی قدر میں ضرورت سے زیادہ کمی، 13.25 فیصد شرح سوداور 5.5 کھرب کے غیر حقیقی ٹیکس ہدف نے رہی سہی تجارتی سرگرمیوں کی کمر توڑ ڈالی جس نے لاکھوں افراد سے انکا روزگار چھین لیا۔ انھوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کے شعبہ کی بد انتظامی اور نا اہلی کا تمام بوجھ عوام اور پیداواری شعبہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ ایک سال میں بجلی گیس اور تیل کی قیمتوں میں درجنوں بار اضافہ کر کے عوام پر کھربوں روپے کا بوجھ لادا گیا اور نئے سال میں بھی قیمتیں بڑھا کر انھیں مہنگا تحفہ دیا گیا۔ان اقدامات سے عوام اور ملکی معیشت متاثر ہو رہی ہے جبکہ ریفنڈ روکنے سے برامدی شعبہ کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔اربوں روپے کا نقصان کرنے والے ناکام سرکاری ادارے اب بھی اربوں روپے کے زیاں کا سبب بن رہے ہیں جن کو فروخت کرنے میں سستی نہ کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لئے بجٹ میں مختص فنڈز دیگر شعبوں کو نہ دئیے جائیں کیونکہ اس سے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ 

مزید : کامرس


loading...