2019میں بھارت نے ایل اوسی کی 3ہزار سے زائد بار خلاف ورزی کی: وزارت خارجہ

2019میں بھارت نے ایل اوسی کی 3ہزار سے زائد بار خلاف ورزی کی: وزارت خارجہ

  



اسلام آباد (این این آئی)وزارت خارجہ حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کے اجلاس میں اپنی بریفنگ میں بتایا کہ 2019 میں بھارت نے جنگ بندی کی 3 ہزار سے زائد بار خلاف ورزی کی۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان کا اجلاس چیئرمین ساجد میر کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزارت خارجہ حکام نے کمیٹی کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے حوالے سے بریفنگ دی۔اپنی بریفنگ میں وزارت خارجہ حکام نے بتایا کہ بھارتی خلاف ورزیوں اور نقصانات کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں، قیام پاکستان سے اب تک کے نقصانات کی رپورٹ کے لیے وقت درکار ہے۔حکام نے کہا کہ چند سال سے خلاف ورزیاں بھارت کا معمول بن گئی ہیں، 2019 میں بھارت نے جنگ بندی کی 3 ہزار سے زائد بار خلاف ورزی کی۔

جارحیت پر بھارتی ہائی کمشنر کو بلا کر احتجاج کیا جاتا ہے۔وزارت خارجہ حکام کے مطابق پاکستان مسئلہ کشمیر سے متعلق تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، کشمیر کا معاملہ ٹھنڈا پڑ جانے کا تاثر درست نہیں۔سینیٹر صلاح الدین ترمذی نے دریافت کیا کہ مسئلہ کشمیر پر وزیر خارجہ ملتان کے علاوہ کن ممالک میں گئے؟ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ وزیر خارجہ 5 اگست کے بعد 50 ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملے،سلامتی کونسل کے اجلاس میں 54 وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ عالمی میڈیا اب کشمیر کے معاملے پر آواز اٹھا رہا ہے،ان کیمرہ اجلاس میں کمیٹی کو زیادہ تفصیل سے آگاہ کر سکتے ہیں۔وفاقی وزیر برائے کشمیر امور علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بہت سے ممالک مسئلہ کشمیر پر ہمارا ساتھ دینے کو تیار ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل افسوسناک ہے، مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس اسلام آباد میں بلایا جائے۔انہوں نے آزاد کشمیر کے کیمپوں کی حالت زار پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے کیمپوں کے خود متعدد دورے کیے ہیں۔ وزارت خارجہ حکام کی جانب سے کہا گیا کہ کیمپوں میں سہولتیں بہتر بنانے کے منصوبے جاری ہیں۔

وزارت خارجہ

مزید : علاقائی