امریکہ مزید 750فوجی عراق بھیجے گا، 4ہزار چھاتہ بردار بھی الرٹ

امریکہ مزید 750فوجی عراق بھیجے گا، 4ہزار چھاتہ بردار بھی الرٹ

  



واشنگٹن/تہران(این این آئی)امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ پینٹاگون عراق میں حالیہ واقعات کے جواب میں 750 کے قریب اضافی فوجیوں کو فوری طور پر مشرق وسطی بھیجے گا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ایک احتیاطی تدبیر کا اقدام ہے، جو امریکی افراد اور تنصیبات کے خلاف بڑھتے ہوئے خطرے کا مناسب جواب ہے۔امریکی ذمے داران کے مطابق فوج نے 82 ویں ایئربورن ڈویژن کے تقریبا 4000 چھاتہ بردار فوجیوں کو الرٹ کر دیا۔ترجمان پینٹا گون کے مطابق تعینات کی جانے والی نئی افواج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہ راست کمان میں ہو گی۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بیجنگ میں چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کی ہے۔ چینی وزیر نے اس موقع پر ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کا دفاع کیا اور ساتھ ہی ڈرانے دھمکانے کی مذمت کی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے ملاقات کے دوران بین الاقوامی سطح پر ڈرانے دھمکانے کے عمل کی کڑے الفاظ میں مذمت کی ہے۔وانگ ژی نے ظریف سے ملاقات کے آغاز پر ہی دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کی بات کی۔

چینی وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہاکہ ہمیں یک جہتی نظام اور ڈرانے دھمکانے کی پالیسی کے خلاف مل کر کھڑے ہونا پڑے گا۔وانگ ژی نے براہ راست امریکا کا نام لیے بغیر کہا کہ چین اور ایران اپنے اپنے قومی مفادات کا دفاع کریں گے۔ اس موقع پرجواد ظریف نے کہا کہ دونوں ممالک متحد ہیں،ہمارے مشترکہ اہدف یک جہتی کے خلاف جنگ کرنا اور 2020ء میں کثیر الجہتی کو فروغ دینا ہے۔ ادھرچینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بریفنگ میں کہا کہ چین 2015ء کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے اور ایران پر انتہائی دباؤ ڈالنے کی وجہ سے امریکا کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے بقول ایران کے جوہری معاملات پر کشیدگی کی وجہ یہی ہے، ہمیں امید ہے کہ جوہری معاہدے کے تمام فریقین بیرونی دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلاف کو دور کرتے ہوئے جامع معاہدے کو برقرار رکھنے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔علاوہ ازیں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ عراق کے واقعات کے حوالے سے کوئی بھی منسوب رد عمل سامنے نہیں آنا چاہیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی حکومت کے ترجمان نے امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی میں ایران کے کسی بھی کردار کی سختی سے تردید کی۔ موسوی نے امریکا کے اس موقف کو مسترد کر دیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ امریکی سفارت خانے پر حملے میں ایران کا ہاتھ ہے۔ موسوی کے نزدیک امریکا نے عراقی عوام کو ضرر پہنچایا اور عراقی کسی طور بھی الحشد الشعبی کے ارکان کی ہلاکت پر خاموش نہیں رہیں گے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکا کو کسی بھی غیر ذمے دارانہ رد عمل اور حساب کتاب میں غلطی سے خبردار کیا۔ موسوی نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا کہ وہ خطے میں اپنی تباہ کن پالیسی پر نظر ثانی کرے۔

امریکہ،چین،ایران

مزید : علاقائی


loading...