مقبوضہ کشمیر، فائرنگ سے 2فوجی ہلاک، متنازعہ شہریت قانون کیخلاف بھارت میں مظاہرے جاری

مقبوضہ کشمیر، فائرنگ سے 2فوجی ہلاک، متنازعہ شہریت قانون کیخلاف بھارت میں ...

  



سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)ضلع راجوری میں نامعلوم افراد کے حملے میں 2 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے۔مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں نامعلوم افراد کے حملے میں 2 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے، بھارتی میڈیا کے مطابق علاقے میں محاصرہ کرکے سرچ آریشن جاری تھا کہ اسی دوران حملہ آوروں نے بھارتی فوجیوں پر اندھادھند فائرنگ کردی، واقعہ کے بعد قابض فوج نے قریبی علاقے سیل کرکے حملہ آوروں کی تلاش کیلئے نام نہاد آپریشن شروع کردیا گیا۔دوسری جانب بھارتی ریاست اترپردیش میں مودی حکومت نے انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے کارکن کو گرفتار کرنے پر 5 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔علاوہ ازیں بھارت میں شہریت کے متنازعہ قانون نے مودی سرکار کی نیندیں اڑا دیں ہیں، دارالحکومت نئی دہلی سمیت کئی ریاستوں میں مسلسل اور شدید مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ علاوہ ازیں سرینگر کی ایک عدالت نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک اور کئی دیگر حریت رہنماؤں کو ایک 22سال پرانے مقدمے میں بری کردیا۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جج فوزیہ پال نے 1998ء کے ایک جھوٹے مقدمے میں استغاثہ کی طرف سے ان رہنماؤں کے خلاف کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکامی کے بعد انہیں بری کردیا۔ عدالت نے گزشتہ ماہ دو مقدمات میں کئی حریت رہنماؤں کو طلب کیا تھا جن میں سید علی گیلانی، محمد یاسین ملک، پروفیسر عبدالغنی بٹ، جاوید احمد میر، ڈاکٹر غلام محمد حبی او رغلام نبی ذکی شامل تھے۔ بھارتی پولیس نے یہ مقدمات 1998 ء میں سرینگر میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے کرنے پر شہر کے رام منشی باغ پولیس سٹیشن میں درج کئے تھے۔ 

مقبوضہ کشمیر

اسلام آباد/مظفرآباد(این این آئی)اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیراور جموں وکشمیر لبریشن سیل (میڈیا ونگ) کے زیراہتمام مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے 150 دن مکمل ہونے کے خلاف اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں  سید فیض نقشبندی،شیخ متین،سردار صدیق، سرور حسین گلگتی،خان افسر خان،سردار نجیب الغفور،بشیر عثمانی،عبدالرشید ڈار،عبدالماجد ارشاد سمیت سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔مظاہرین نے آزادی کشمیر کے حق میں جبکہ بھارتی ظلم و جبرکے خلاف بھرپور نعرے لگائے۔ دریں اثناء مقررین نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ وہ ہر قیمت پر اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنی مبنی بر انصاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔مقررین نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں مدد کریں۔علاوہازیں ایک رپورٹ کے مطابقسال 2019 میں بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 59 افراد جاں بحق اور 2 سو 81 زخمی ہوئے۔حکومت آزاد کشمیر کے محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور سول ڈیفنس کے سیکرٹری سید شاہد محی الدین قادری نے میڈیا کو بتایا کہ جاں بحق افراد میں 43 مرد جبکہ 16 خواتین تھیں، اسی طرح زخمیوں میں ایک سو 57 افراد مرد اور باقی خواتین تھیں۔مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ گولہ باری نے سرکاری عمارات کے علاوہ مکانات، دکانیں، گاڑیوں سمیت شہری املاک پر بھی تباہی مچائی۔اس کے علاوہ ضلع نیلم میں ڈسٹرک ہیڈ کوارٹرز ہسپتال اٹھمقام اور 3 سکول، پونچھ میں ایک کالج اور بنیادی صحت کے ایک مرکز، کوٹلی میں 2سکولوں اور 8 مویشیوں کے باڑوں، بھمبر میں ایک سکول اور مظفر آباد میں 3مویشیوں کے 3 باڑوں، وادی جہلم میں ایک مسجد کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ صرف انسان اور املاک کو ہی نقصان نہیں پہنچا بلکہ نیلم، مظفرآباد، پونچھ، حویلی، کوٹلی اور بھمبر میں 106 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔دوسری جانب آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے لائن آف کنٹرول کے اطراف میں رہنے والوں کو لائن آف کنٹرل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں پیش آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے پر ان کی ہمت کو سراہا۔ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت دونوں اطراف کے غیر مسلح کشمیریوں پر اپنی لڑاکا طاقت کا استعمال کر کے شہریوں کی ہلاکت سے اطمینان حاصل کرتا ہے۔علاوہ ازیں بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ صورتحال اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔

مظاہرہ/ایل اوسی

مزید : صفحہ اول


loading...