مجموعی کاوش کا حتمی مقصداعلیٰ تعلیم وتحقیق کا فروغ ہے: محمود خان

مجموعی کاوش کا حتمی مقصداعلیٰ تعلیم وتحقیق کا فروغ ہے: محمود خان

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے کی جامعات کو درپیش مالی مسائل دیرپا بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے فروغ پر حقیقی معنوں میں توجہ دی جا سکے۔ انھوں نے اس مقصد کیلئے محکمہ اعلی تعلیم، خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ مشاورت سے ٹھوس اور حتمی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ مجموعی کاوش کا حتمی مقصد اعلی معیار کی تعلیم و تحقیق کا فروغ ہے جس کے ذریعے ہم جدید دور کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ وہ وزیر اعلی سیکرٹریٹ پشاور میں جامعات کو درپیش مسائل کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔اجلاس میں وزیر اعلی کی خصوصی ہدایت پر جامعات کو درپیش مالی مسائل کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی جس میں جامعات کی استعداد، سالانہ بجٹ،تخمینہ اخراجات اور مالی مسائل کے خاتمے کے لیے مجوزہ سفارشات پر تفصیلی غور و خوص کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں ہائر ایجوکیشن کمشن سے تسلیم شدہ کل چالیس جامعات ہیں جن میں سے انتیس جامعات سرکاری اور گیارہ پرائیویٹ ہیں۔ جامعات کو مالی طور پر خودکفیل بنانے کے لیے خیبرپختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ میں ترمیم، پنشن فنڈ کے قیام، غیر ضروری بھرتیوں کی حوصلہ شکنی اور سینڈکیٹ کی ترکیب نو، سپیشلائزاڈ کی بجائے جنرل یونیورسٹیز کے قیام کی حوصلہ افزائی سمیت متعدد تجاویز پیش کی گئیں۔ اس موقع پر جامعات میں بی ایس پروگرام کی مزید بہتری پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے پیش کی گئی سفارشات سے اْصولی طور پر اتفاق کیا اور ہدایت کی کہ غیر ضروری بھرتیوں کی حوصلہ شکنی سمیت جامعات کے دائرہ اختیار میں معاملات ٹھیک کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں اور دیگر سفارشات پر مزید غور و فکر کرکے متعلقہ محکموں کے ساتھ مشاورت کے بعد ٹھوس اور قابل عمل حتمی تجاویز پیش کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جامعات کو مالی مسائل سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈالنا ترجیح ہونی چاہیئے کیونکہ اسی صورت میں طلباء و طالبات کو معیاری تعلیم و تحقیق کا ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں جدید دور سے ہم آہنگ معیار تعلیم پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں ایسا لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا، جو جامعات کو درپیش مالی مسائل کا مستقل حل دے سکے۔ اس مقصد کیلئے جز وقتی نہیں بلکہ طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ صوبے میں قائم شدہ نئی جامعات کو بھی آگے چل کر مالی لحاظ سے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر تیز رفتار پیشرفت یقینی بنانے اور ٹھو س لائحہ عمل جلد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید : صفحہ اول