تحریک انصاف کی خاتون رہنماکی عمران خان کو کتاب لکھ کر سارے رازفاش کرنے کی دھمکی ،غیرملکی صحافی کا دعویٰ

تحریک انصاف کی خاتون رہنماکی عمران خان کو کتاب لکھ کر سارے رازفاش کرنے کی ...
تحریک انصاف کی خاتون رہنماکی عمران خان کو کتاب لکھ کر سارے رازفاش کرنے کی دھمکی ،غیرملکی صحافی کا دعویٰ

  



لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)تحریک انصاف کی رہنما اور غیر ملکی میڈیا سربراہ انیلہ خواجہ اور غیر ملکی صحافی سینیتیا ڈی رچی کے درمیان سوشل میڈیا پر ہونے والی تکرار نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر لی ہے جو کہ اب تیزی کے ساتھ وائر ل ہو رہی ہے، فرط جذبات میں آ کر غیر ملکی صحافی نے بڑے بڑے ’’ راز ‘‘ بھی افشاں کرنے شروع کر دیئے ہیں، اس لڑائی کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کی خاتون رہنما نے عمران خان کو کتاب لکھ کر سارے راز افشا کرنے کی دھمکی بھی دی ، یہ تکرار دراصل ایک نیو ایئر پارٹی سے متعلق شروع ہوئی جس میں انیلہ خواجہ بن بلائے پہنچ گئی ۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر غیرملکی صحافی سینیتیا ڈی رچی اورپاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی میڈیا سربراہ انیلہ خواجہ میں تکرار ہوگئی۔واقعہ اس وقت شروع ہوا جب انیلہ خواجہ نے نئے سال کے جشن سے متعلق ایک ٹویٹ میں کہا کہ’ نیوایئر ایوننگ کے موقع پر پاکستانی خاموش تماشبین کی طرح کھڑے تھے کہ ایک غیر ملکی نے اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ملکرہماری تمام اقدار، وقار اور میزبانی کی تمام روایات توڑدیں اور بدسلوکی سے پیش آئیں،ہم متحد ہونا اور ایک دوسرے کااحترام کرنا کب سیکھیں گے؟‘

انیلہ کے اس ٹویٹ پر ایک غیر ملکی خاتون صحافی نے ردعمل دیا۔انہوں نے انیلہ کو مخاطب کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’آپ اور دیگر دو لوگ بغیر کسی دعوت کے میری نجی پارٹی میں آئے،میں اپنے مہمانوں کی ذمہ دار ہوں اور آپ ان میں شامل نہیں تھیں،کیوں؟کیونکہ اس کی وجہ آپ کا جذباتی رویہ ہے جو سالوں سے آپ نے اپنایا ہوا ہے۔بغیر دعوت کے کہیں جانا نامناسب ہے،کچھ اخلاقیات سیکھ لیں۔ خود ہی اپنا خیال کرلیں۔ہماری پارٹی ہمارے رولز‘۔

رچی نے مزید لکھا کہ ’انیلہ خواجہ میں اکیلی غیر ملکی شخصیت نہیں تھی وہاں، اپنا مقام مت بھولو۔ میں جانتی ہوں کہ آپ کیسی شخصیت ہو، آپ عمران خان کو دھمکی دے رہی ہیں کہ اگر سب آپ کی مرضی کے مطابق نہ ہوا تو عمران خان سے متعلق تمام راز فاش کرنے والی کتاب شائع کردو گی۔یہ سب باقاعدہ دستاویزات پر موجود ہے۔‘

غیر ملکی صحافی نے مزید لکھاکہ’انیلہ واٹس ایپ فورمز پر دعویٰ کررہی ہیں کہ میں نے ایک اور گیسٹ کو بن بلایا مہمان قراردیا ہے،وہ مہمان بھی دیگر تمام مہمانوں کی طرح آرایس وی پی ، نام اور قومیتیں بتانے کاپابند تھا۔اور وہ بھی مہمانوں کی فہرست میں شامل نہیں تھا‘تحریک انصاف کے فارن میڈیا کی سربراہ ایک بار پھر مسائل پیدا کررہی ہیں۔

رچی کے ٹویٹس پر لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے تبصرے کئے، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک صارف جو ہارڈ ہٹر کے نام سے اکاونٹ چلا رہے ہیں نے لکھاکہ ’ڈیئر انیلہ خواجہ میں آپ کو پاکستانی کہتے ہوئے شرم محسوس کررہا ہوں، یہ غیر ملکی پاکستان کے روشن چہرے کو اجاگر کرتے ہیں،اسی طرح سینتھیا ڈی رچی آپ جیسوں سے کہیں زیادہ پاکستانی ہیں‘۔

فیصل اشفاق نے لکھا کہ” واقعی بغیردعوت کے جانا نامناسب ہے، لیکن میزبان ہمیشہ ہر آنے والے کو خوش آمدید ہی کہتے ہیں چاہے وہ بن بلایا ہی کیوں نہ ہو، ممکن ہے مغرب میں ایسا نہ ہوتا ہو مگر پاکستان میں ہم ہر ایک کو چاہے وہ کوئی دشمن ہی کیوں نہ ہواگر وہ ہمارے دروازے پر آجائے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں۔چیئرز!“۔

صلاح الدین نے لکھا کہ ”بنا دعوت کسی کے ہاں نہیں جانا چاہئے، یہ عزت نفس کی بات ہے“

سعدیہ نے لکھا’غیرملکی؟ بظاہر ہاں مگر سینتھیاآپ نے پاکستان کو اپنا بنا لیا ہے،میں سچ مچ آپ کی بہت شکرگزار ہوں، آپ کی آواز سنی جاتی ہے اور آپ نے پاکستان کو شاندار انداز میں پیش کیا، ایک بارپھر شکریہ ،یہ نامناسب ہے کہ کسی کی پارٹی میں بن بلائے شامل ہوں، خیرمزید کوئی بات نہیں‘۔

عمران بلوچ نے لکھا کہ ’سینتھیاڈی رچی میں آپ سے متفق ہوں،کسی بھی شخص کا دوسرے کی پارٹی میں بنا بلائے جانا ایک شرمناک عمل ہے،جسے اس بات پر شر م نہیں آتی وہ اس کے بدلے میں ان (انیلہ) کی طرح آپ کا دشمن بن جاتا ہے؟انہیں جانے دیں خود کو ان کے سطحی لیول تک نہ گرائیں‘۔

احسن سبحان نے کہا’اگرچہ یہ میرا معاملہ نہیں ہے تاہم آپ کو چاہئے تھا کہ انہیں اس طرح پوائنٹ آوٹ نہیں کرنا چاہئے تھا۔جہاں تک میں سمجھا ہوں انہوں نے آپ کا ذکر نہیں کیا،بلکہ صرف ’غیرملکی ‘ کہا۔کبھی کبھارگمنامی کی چادراوڑھنا سب سے بہتر ہوتاہے۔میں صرف آپ کو غیر ملکی کہے جانے پر ناراض ہوں۔

احسن سبحان کے تبصرے پرجواب دیتے ہوئے رچی نے کہا’ میں آپ کی بات سے متفق ہوں، تاہم میں ان کی طرف سے پھیلائے جانے والے جھوٹ کوذاتی طورپر جانتی ہوں ، اور میں اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ اس جھوٹ کو پھیلائیں۔انہوں نے پہلے پوسٹ کی اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ وضاحت کردوں کہ دراصل ہوا کیا ہے۔‘

ایم زبیراعوان نے انیلہ کے بن بلائے دعوت میں جانے پر لکھا’ایک چوری اور دوسرا سینہ زوری،میڈم یہ کونسا طریقہ ہے؟ کوئی اخلاقیات کا مظاہرہ کرنا بھی سیکھ لیں، یہ تو بیرون ملک تھا ، آپ اسلام آباد کے کسی گھر میں ہونے والی کسی پارٹی میں گھس کر تو دیکھیں۔

یہ چونچلے صرف آپ جیسے لوگوں کو ہی سوٹ کرتے ہیں‘۔

مزید : قومی /ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی