کنواں اور قربانی

کنواں اور قربانی
کنواں اور قربانی

  



تحریر : ذکاءاللہ محسن

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ کسی علاقے کا صدیوں پرانے کنویں کا پانی کم ہوتا جا رہا تھا کچھ افراد کو پریشانی لاحق ہوئی مگر کوئی سدباب نا کر سکے پھر ایک روز کنواں سوکھ گیا لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی بلکل اسی طرح جس طرح آج ہمارے سر پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے اور ہم  کوئی سدباب نا کرنے کی وجہ سے بحرانوں کا شکار ہوجاتے ہیں پرانے وقتوں کا کنواں سوکھ چکا تھا اب لوگ اکٹھا ہوئے اور سوچ بچار کرنے لگے کہ اب پانی کا بندوبست کیسے ہوگا ایک بزرگ نے کہا کہ ہمارے " پورکھوں " کے مطابق ایک مرتبہ یہ کنواں پہلے بھی سوکھ گیا تھا اور رات کے اندھیرے میں علاقے کے سبھی افراد نے  اس میں اپنے گھر کا سارے کا سارا دودھ اس میں ڈالا تو کنواں دوبارہ پانی سے بھر گیا ایک لحاظ سے کنواں صدیوں بعد لوگوں سے قربانی مانگتا ہے اس لئے آج پھر سے اپنے گھر کے دودھ کی قربانی دینی پڑے گی طے یہ پایا کہ کل رات پورا علاقہ رات کے اندھیرے میں کنویں میں دودھ ڈالے گا رات گہری ہوئی تو ایک شخص نے سوچا کہ رات کے اندھیرے میں کونسا پتا چلنا ہے کہ میں دودھ ڈالا ہے یا پانی ڈالا ہے بدقسمتی سے صرف ایک آدمی کی یہ سوچ نہیں تھی پورے علاقے کی یہی سوچ تھی اور سبھی نے رات کے اندھیرے میں اپنے گھروں میں دودھ کی بجائے جمع شدہ پانی کنویں میں ڈالا صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ کنواں بدستور سوکھا پڑا تھا اور کچھ ہی پانی اس میں موجود تھا  اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں بھی اجتماعی سوچ ایک جیسی ہی ہے اور ہم بھی بحیثیت قوم اسی بگاڑ کا شکار ہیں ہر روز ہمارے صبر کے کنویں کبھی لبریز اور کبھی سوکھ جاتے ہیں ہر وقت ہم مسائل میں دبے ہوئے رہتے ہیں مگر مجال ہے کہ ہم اس صورتحال سے چھٹکارا حاصل کر لیں اور کچھ جدوجہد اور قربانی دیکر اپنی موجودہ اور آئندہ نسلوں کا مستقبل سنوار لیں سال بھر میں قائد ڈے،  علامہ اقبال ڈے،  یوم پاکستان، 23 مارچ اور کئی قومی دن منائے جاتے ہیں اور اس دن ہمیں عزم دہرانے اور نیا عزم کرنے جیسے الفاظ سنائی دیتے ہیں اور ایسے ایسے شاندار " عزائم " کیے جاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ ملک اب درست سمت کی جانب چل نکلے گا اب ہماری خوشیوں کو سوکھا کنواں بحال ہوپائے گا مگر جیسے عزم کرنے والے ویسے ہی عزم کو سننے والے اور اکثر حیرت ہوتی ہے کہ بدقسمتی سے ہم عزم کر تو لیتے ہیں ہم سے عزم ہوتا نہیں ہے اور تقریر کرنے والے اس عزم کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر اپنا عزم پورا کرتا ہے اور سننے والے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال کر اپنے عزم کو دوہرا رہے ہوتے ہیں اسی طرح ہماری سیاسی جماعتوں کے منشور اٹھا کر دیکھا جائے تو بندہ سجدے میں جاکر اس پارٹی کے جتنے کی دعا کرتا ہے کہ اللہ کرے یہ جیت جاے اس کے منشور کے مطابق تو پاکستان راتوں رات دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر جاوے گا مگر بدقسمتی سے جہاں سوچ کنویں میں دودھ کی جگہ پانی ڈالنے کی ہو وہاں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی نہیں بدحالی آیا کرتی ہے اور جو آج ہم اپنے ساتھ کر رہے ہیں ایسا دنیا کی کوئی قوم اپنے ساتھ نہیں کرتی ہمارے حکمران طبقے سے لیکر عوام تک پاکستان کو آگے بڑھانے اور آئندہ نسلوں کو آبیاری کرنے جیسی سوچ ناپید ہوچکی ہے ہمارے ادارے " ڈنگ ٹپاو " پروگرام پر دن گزار رہے ہیں اور ہماری قوم  

                                                                   " جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے " 

مصرعے پر عمل پیرا ہے ہمارے اداروں میں ایک ادارہ پاک فوج کا بھی ہے جس کی طرف کبھی بزنسمین کیمونٹی فریاد مانگنے پہنچ جاتی ہے تو کبھی کوئی دکھی ماں ' بہن،  باپ فوج کے سپہ سالار سے انصاف کی بھیک مانگتا نظر آتا ہے تو پھر میں بھی تو پاکستانی ہوں تو میں سپہ سالار سے اپیل ہی کرتا ہوں کہ مسائل کے کنویں میں خوشیاں اتنی نیچے دب گئی ہیں کہ ان کو نا نکالا گیا تو یہ نا ہو خوشیاں دم توڑ جائے اور ہماری زندگیوں میں صرف اندھیرا رہ جاے اگر آپ خود کو " بڑا " سمجھتے ہیں تو بڑے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں اور لوگوں کو ساتھ ملاکر لوگوں میں خوشیاں بانٹتے ہیں آپ بھی ایسا کرکے دیکھئیے ممکن ہے حالات سدھر جاہیں اور پاکستان میں خوشیاں لوٹ آہیں ورنہ کنواں تو سوکھا ہے اور قربانی مانگ رہا ہے کہ پاکستان کے وہ تمام طبقے جو انا اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں وہ اپنا ضدی پن چھوڑ دیں ان کی یہی قربانی بہت ہوگی۔

 ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ