” پاکستان کا وہ علاقہ جہاں افغان گینگ کی حکمرانی ہے“سینئر صحافی نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

” پاکستان کا وہ علاقہ جہاں افغان گینگ کی حکمرانی ہے“سینئر صحافی نے تہلکہ ...
” پاکستان کا وہ علاقہ جہاں افغان گینگ کی حکمرانی ہے“سینئر صحافی نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی روف کلاسرا کے مطابق پاکستان کا ایک علاقہ ایسابھی ہے جہاں افغان گینگ حکومت کرتے ہیں۔سینئرصحافی روف کلاسرہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پرڈی آئی جی اسلام آباد اور ڈی سی اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

’نئے سال پر نئی شرم؟ دارالحکومت کے دل میں واقع (ایف8/2 )میںافغان شہریوں پر مشتمل گینگ نے ایک دوست کے گھر میں گن پوائنٹ پر لوٹ مار مچائی۔ اسلام آباد میں افغان گینگ اپنی مرضی سے حکومت کرتے ہیں۔کچھ روز قبل وفاقی پولیس سیف سٹی کے شادیانے بجارہی تھی لیکن یہ پیغام پڑھیں اور شرم محسوس کریں‘۔

کلاسراکی جانب سے شیئر کئے گئے پیغام میں ایک خاتون کا کہناہے کہ ’میں نوید اور علی نوید کی والدہ ہوں، ہم لوگ ایف ایٹ ٹو میں رہتے ہیں۔کل شام تقریبا چھ بجے پانچ افغانی ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور جیولری اور کیش لے گئے۔برائے کرم اپنے والد صاحب کو کہو کہ اس خبر کو میڈیا کو رپورٹ کریں۔ہم دارالحکومت میں رہ کر بھی محفوظ نہیں ہیں۔وہ تمام خوش قسمت لوگ جنہیں یہ ملک ملا ہے اللہ کا شکر کریں۔

انہوں نے مزید لکھا کہ 'یہ اسلام اباد کا محفوظ سیکٹر سمجھا جاتا تھا جو زرداری ہاوس قریب واقع ہے۔ وزیراعظم ہاوس سے چند منٹ ڈرائیو پر۔اگر افغانی گینگز یہاں تک بغیر روک ٹوک کے پہنچ گئے۔ گن پوانٹ پر گھر لوٹ لیا، نوجوان بچوں پر تشدد کیا اور ارام سے چلے گئے تو پھر سمجھ لیں اسلام اباد کا کیا حشر ہونے والا ہے۔

کلاسرا نے کہا'کسی وزیرداخلہ اعجاز شاہ کو شہر کی پرواہ نہیں، سیکرٹری داخلہ نسیم کھوکھر گینگ کے گھروں میں گھس کر بچوں پر مارپیٹ لوٹ مار سے پریشان نہیں۔ائی جی عامر ذوالفقار کو پتہ ہے اس کا قلعہ مضبوط ہے اسے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔سفارشی نالائق افسران ایسے دھیرے دھیرے شہروں کو جرائم کا گڑھ بناتے ہیں'

روف کلاسرا کے ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد محمد حمزہ شفقت نے کہا قانون ہمیں اجازت نہیں دیتا کہ دوسرے محکموں میں مداخلت کریں ۔قبائلی علاقوں کے پولیٹیکل ایجنٹ ہی یہ اختیاررکھتے ہیں۔

حمزہ شفقت نے مزید کہا کہ جہاں تک ڈکیتی کا تعلق ہے میں آپ کو بتاتاچلوں کہ اسلام آباد پولیس اس پر تمام کوششیں بروئے کارلاکر کام کررہی ہے۔

ڈی آئی جی صاحب بذات خود جائے وقوعہ پر ایک گھنٹے تک کھڑے رہے ہیں اور ان کی نگرانی میں ہی تحقیقات کی گئی ہیں۔پولیس بھرپور کوشش کررہی ہے اور جلد ہی ملزم تک پہنچ جائے گی۔

ڈکیتی کی واردات پر کئے گئے روف کلاسرا کے ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے ایک صارف منصور نے سوال کیا کہ ' ان سب حکومتی عہدیداروں پر کیس نہیں ہو سکتا کیا؟ یہ کس بات کی تنخواہ اور مشاہرے لیتے ہیں؟ کون سا سیف سٹی پروجیکٹ؟ ڈکیتوں کو کوئی خوف نہیں چہرہ چھپانے کا، کراچی میں بھی کھلے عام ویڈیوز موجود ہیں شکل صاف ہیں مگر کوئی پکڑا نہیں جاتا؟

نادرا کے ڈیٹا کا کیا فائدہ؟ اسے استعمال تو کرو۔۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...